دنیا
بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں طارق رحمان کی بی این پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی
ڈھاکہ، طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جمعہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور 13ویں قومی اسمبلی میں 300 میں سے 210 نشستیں جیتیں اس نتیجے کو جنوبی ایشیائی ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جمعرات کو ہونے والا یہ انتخاب بنگلہ دیش کا 2024 کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد پہلا قومی انتخاب تھا جس نے طویل عرصے سے وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔
بنگلہ دیش حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بی این پی نے 210 نشستیں حاصل کی ہیں، جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 73 نشستیں حاصل کی ہیں، اور 300 رکنی پارلیمنٹ میں آزاد امیدواروں کے پاس 8 نشستیں ہیں۔ کسی جماعت یا اتحاد کو 300 رکنی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
راتوں رات ووٹوں کی گنتی میں اکثریت حاصل کرنے کے فوراً بعد، بی این پی نے عوام کا شکریہ ادا کیا ۔
پارٹی نے ایک بیان میں کہا، “قومی پارلیمانی انتخابات میں بڑے فرق سے جیتنے کے باوجود، بی این پی کی طرف سے کوئی جشن یا ریلی کا انعقاد نہیں کیا جائے گا،” پارٹی نے ایک بیان میں لوگوں سے مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور پگوڈا میں عبادت کرنے کی اپیل کی ہے۔
پارٹی کی قیادت وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔ اپنی مہم کے دوران، بی این پی نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی مدد، وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے 10 سال کی حد، معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات، بشمول غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اور مضبوط انسداد بدعنوانی پالیسیوں کا وعدہ کیا۔
انتخابات میں بی این پی اور اس کی سابق اتحادی جماعت اسلامی کے درمیان براہ راست مقابلہ دیکھا گیا، کیونکہ شیخ حسینہ کی قیادت میں اب تحلیل ہونے والی عوامی لیگ کو مقابلہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ 18 ماہ سے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری انتظامیہ کی حکومت ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔ ان سے ان خبروں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن وسط مدتی انتخابات کے بعد روایتی بموں میں سب سے طاقتور بم ”مدر آف آل بمز” استعمال کر سکتا ہے۔
جب مسٹر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس اختیار میں کوئی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی شامل ہے تو انہوں نے زور دے کر کہا، ”مدر آف آل بمز جوہری بم نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا، ”یہ بالکل بھی جوہری بم نہیں ہے۔ یہ صرف ایک بہت بڑا بم ہے۔ یہ ایک چھوٹے جوہری بم جیسا ہے۔”
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے حقیقی جوہری حملے کی ضرورت کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، ”مدر آف آل بمز ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن یہ جوہری بم نہیں ہے۔ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات منسوخ کی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سابق ماہرِ نفسیات ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کی موت دکھائے جانے کے حق میں ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پر شبہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور دنیا بھر میں شدید تنقید کے بعد ٹرمپ نے براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعرات کو انہوں نے کہا کہ ”بہت سے اچھے اور نیک ارادے رکھنے والے لوگ شاید اسے مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے۔”
ٹرمپ نے کہاکہ ”میرا خیال ہے کہ اگر اس سزا کی براہِ راست نشریات سب کے لیے کی جاتیں تو یہ دنیا کے لیے ایک سخت پیغام ہوتا کہ امریکہ دہشت گردوں اور حسن جیسے گھٹیا لوگوں سے کیسے نمٹتا ہے۔”
صدر نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی پوسٹ میں مزید کہاکہ ”اسے طے شدہ پروگرام کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہی سزائے موت دی جائے گی، لیکن اس واقعے کی براہِ راست نشریات نہیں کی جائیں گی۔”
سال 2009 میں ٹیکساس کے ایک فوجی اڈے پر حسن نے امریکی فوج کے 13 نہتے جوانوں کو گولی مار کر ہلاک اور 32 دیگر افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی یہ سزا 60 سال سے زیادہ عرصے میں فوج کی جانب سے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ متاثرین کے اہلِ خانہ چاہیں تو خود وہاں موجود رہ کر سزائے موت دیے جانے کا عمل دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”انہیں انصاف ہوتا دیکھنے کا حق ہے!”
گزشتہ ہفتے پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ وہ 3 دسمبر 2026 کو حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے گا اور اس واقعے کی براہِ راست نشریات بھی کرے گا۔ اس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی دیگر لوگوں کی جانب سے شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ نے ان منصوبوں کو ”گھناؤنا” قرار دیا۔
گزشتہ سال 17 ممالک میں 2700 سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت دی گئی، لیکن ان میں سے صرف 2 ممالک نے یہ سزا عوام کے سامنے دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں 11 اور افغانستان میں 6 افراد کو سرِعام سزائے موت دی گئی تھی۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو
دنیا
ایران کی جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی،تیل کی قیمتوں گر جائیں گی:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ “بہت جلد” ختم ہو جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔
ٹرمپ نے بدھ کو مونٹانا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، “ایران جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ خود اس کا خاتمہ چاہتے ہیں ،ان کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور تیل کی قیمتیں چٹان کی طرح نیچے گر جائیں گی۔”
اس سے قبل، مونٹانا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے اس بات پر غیر یقینی کا اظہار کیا کہ واشنگٹن تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں کے دوران کن ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے، ان کے پاس کوئی فضائیہ نہیں ہے۔ان کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ان کے رہنما جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے شاید ان کے رہنماؤں کو چھوڑ دینا چاہیے تھا کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ ہم آخر کس سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
صدر نے ایران کو ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کی ایک غالب فوجی قوت کے طور پر بھی بیان کیا اور دلیل دی کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے اس کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش تھا، یہ ملک اب اتنا طاقتور نہیں رہا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے ایران کے بحری بیڑے کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے فوجی طیاروں کو ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس 159 جہاز تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ایک بھی فعال نہیں ہے، جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے لڑاکا طیارے ملک کے رن ویز پر ہی تباہ کر دیے گئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
