دنیا
’خامنہ ای اِز بیک‘ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ اینیمیٹڈ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
تہران، ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ایک متاثر کن اینیمیٹڈ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس نے دنیا بھر کے ناظرین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
“خامنئی از بیک” (خامنئی واپس آ گئے ہیں) کے عنوان سے تیار کردہ اس ڈرامائی اینیمیشن میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آخری لمحات اور ان کے مشن کے تسلسل پر مبنی ایک علامتی کہانی پیش کی گئی ہے۔
ویڈیو کا آغاز لیڈر کے کمپاؤنڈ کے اندر ایک پرسکون اور جذباتی منظر سے ہوتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنئی کو صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ اسی دوران ایک چھوٹی بچی، جسے ان کی پوتی کے طور پر دکھایا گیا ہے، وہاں نمودار ہوتی ہے۔ وہ بچہ ان کی طرف رینگتا ہے اور انہیں گلے لگا لیتا ہے، جو کہانی میں تناؤ پیدا ہونے سے پہلے معصومیت اور خاندانی محبت کے ایک پُر اثر لمحے کی عکاسی کرتا ہے۔
کچھ ہی دیر بعد ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اینیمیشن میں آسمان کا منظر دکھایا جاتا ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیارے کمپاؤنڈ کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ٹارگٹنگ سسٹم مقام کو لاک کرتے ہیں اور میزائل داغے جاتے ہیں۔ چند ہی سیکنڈوں میں ایک زوردار دھماکا کمپاؤنڈ سے ٹکراتا ہے جس کے نتیجے میں پورا علاقہ ملبے اور دھوئیں کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے۔
کہانی کا رخ پھر ایک دوسرے منظر کی طرف مڑتا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک میز پر بیٹھے دکھائے گئے ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو انہیں حملے کی خبر دینے پہنچتے ہیں۔ دونوں شخصیات کمپاؤنڈ کی تباہی کی خبر سن کر مطمئن اور مسکراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
تباہ شدہ کمپاؤنڈ میں ملبے پر دھول بیٹھتے ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ اچانک ملبے کے نیچے سے ایک ہاتھ نمودار ہوتا ہے۔ ایک شخص ملبے سے اٹھتا ہے اور آیت اللہ علی خامنئی کی مخصوص سرخ نگینے والی انگوٹھی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ انگوٹھی اٹھانے کے بعد وہ اسے اپنی انگلی میں پہن لیتا ہے۔
اس شخص کی شناخت مجتبیٰ خامنئی کے طور پر ظاہر کی گئی ہے، جو قیادت کے تسلسل کی علامت ہے۔ کھنڈرات کے درمیان کھڑے ہو کر وہ ایران کا جھنڈا بلند کرتے ہیں، جو حملے کے باوجود قوم کی ہمت اور بقا کا پیغام ہے۔
ویڈیو کے آخری لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے۔ جیسے ہی وہ فون اٹھاتے ہیں، ایک آواز طاقتور پیغام دیتی ہے ‘خامنئی واپس آ گئے ہیں’۔ اس منظر میں ٹرمپ کو صدمے اور خوف کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔
پھر کیمرہ ان کی آنکھوں پر زوم کرتا ہے، جہاں ایک ڈرامائی عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس عکس میں زیر زمین میزائل زمین سے نکل کر بیک وقت امریکا اور اسرائیل کی طرف روانہ ہوتے دکھائے گئے ہیں، جو ایک بھرپور جوابی کارروائی کی علامت ہے۔
اپنی ریلیز کے بعد سے یہ اینیمیٹڈ طرز کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔ اینیمیشن کے کلپس اور اسکرین شاٹس انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، اور بہت سے صارفین ویڈیو میں پیش کی گئی طاقتور کہانی، علامت نگاری اور استقامت کے پیغام کی تعریف کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
