دنیا
آبنائے ہرمز کی بندش،صرف ‘غیر دشمن’ ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت
تہران/لندن، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تہران نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن ( آئی ایم او) میں ایرانی نمائندے کے مطابق، موجودہ تناؤ کے دوران اس راستے سے گزرنے کے لیے مخصوص ضابطے لاگو ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق بندش کے اس دورانیے میں اسرائیل، امریکہ اور ان کے قریبی اتحادیوں (دشمن ممالک) کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دشمن کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہاز اس گزرگاہ کو استعمال کر سکتے ہیں۔
ایران نے بحری سلامتی اور جہازوں کے تحفظ کے لیے عالمی بحری تنظیم ( آئی ایم او) کے ساتھ تعاون کی مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایرانی نمائندے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی اس بحرانی صورتحال کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ امریکی اور اسرائیلی حملے ہیں، جنہوں نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔دوسری جانب دنیا کی بڑی معیشتوں (برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور جاپان) نے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے، ایران تمام فوجی کارروائیاں فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرے۔
ایرانی اقدامات کو عالمی امن اور ایندھن کی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔عزم: جی 7 ممالک نے توانائی کی منڈی کو مستحکم رکھنے اور بحری راستے کھلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کا عزم کیا ہے۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
حوثیوں کا دعویٰ، سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یمن پر 106 حملے کیے
بیروت، شمالی یمن میں حکمراں انصار اللہ تحریک، جسے حوثی بھی کہا جاتا ہے، نے سعودی عرب پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے زیر قبضہ علاقوں میں 106 فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ٹیلی گرام پر لکھا، ’’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعا اور الجوف، تعز، عمران، حجہ اور صعدہ صوبوں میں شہری اہداف پر 106 فضائی اور میزائل حملے کیے۔‘‘
سریع نے مزید کہا کہ ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل اتوار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن کی حکومت کی مسلح افواج نے ان علاقوں کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا7 days agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
