دنیا
تہران دھوئیں کی لپیٹ میں، ایران کے پڑوسی ممالک پر حملے جاری، لبنان میں ہلاکتیں 400 تک پہنچ گئیں
تہران/تل ابیب، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل کی ریفائنریوں اور ڈپوؤں پر کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں اتوار کی صبح دارالحکومت تہران کا آسمان سیاہ دھوئیں کی موٹی چادر سے ڈھک گیا۔ جواباً ایران نے اسرائیل کے علاوہ کویت، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل داغے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دہرایا کہ ایران کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں، جس کا کرارا جواب دیتے ہوئے ایران نے کہا کہ وہ اپنی ایک انچ زمین بھی نہیں دے گا۔
تہران کے مقامی باشندوں کے مطابق تیل کے ڈپوؤں کے جلنے سے اٹھنے والا دھواں اتنا گھنا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ‘سورج مکمل طور پر غائب ہو گیا ہو’۔ آگ پر قابو پانے کے لیے عملے کو سخت جدوجہد کرنی پڑی۔ ایران نے ان حملوں کا جواب دیتے ہوئے کویت میں ‘پبلک انسٹی ٹیوشن فار سوشل سیکیورٹی’ کی کثیر المنزلہ سرکاری عمارت کو ڈرون سے نشانہ بنایا، جس سے عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔
گزشتہ 28 فروری سے ایران پر شروع ہونے والے حملوں میں صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 1200 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے اتوار کے روز بھی اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنایا۔ کویتی فوجی حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ کویتی فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرون مار گرائے تاہم ملبہ گرنے سے ہوائی اڈے کے ٹرمینل کو جزوی نقصان پہنچا۔ کویتی فوج کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 12 ڈرون اور 14 میزائل تباہ کیے گئے۔
دوسری جانب لبنان میں بھی اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔ لبنان کے وزیر صحت کے مطابق آغاز کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 394 تک پہنچ گئی ہے۔ جنگ کے پھیلتے دائرے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ ایران نے سمندری پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ دبئی کے جبل علی بندرگاہ اور ایک ڈیٹا سینٹر میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ ابوظہبی کے ہوائی اڈوں کے قریب بھی حملے کی خبریں ہیں۔
سعودی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے سفارتی علاقے کی جانب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔ اسی دوران عمان اور قطر نے بھی اپنے فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کرتے ہوئے احتیاطاً اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
ایران کی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے نام پر اتفاقِ رائے کر لیا ہے۔ تاہم، کونسل کا کہنا ہے کہ نام کے باضابطہ اعلان سے قبل کچھ ‘رکاوٹیں’ ابھی باقی ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے جارحانہ رخ اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے ہر ممکنہ جانشین کا پیچھا کرے گی اور انہیں نشانہ بنائے گی۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں واقع امریکی سفارت خانے کے باہر اتوار کی علی الصبح ایک دھماکہ ہوا، جس سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ناروے پولیس کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ہنگامی خدمات کو موقع پر روانہ کر دیا گیا۔ دھماکے کی وجوہات اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت برتری کی پوزیشن میں ہے، تاہم اب امریکہ کسی سمجھوتے کا خواہاں نہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں ایران نے جتنے میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، اب وہ صرف 9 فیصد حملے ہی کر پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے ان کے 70 فیصد راکٹ لانچرز تباہ کر دیے ہیں۔’‘‘
ایران کے آئندہ رہنما کے انتخاب سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ہر پانچ یا دس سال بعد ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایران میں ایسا صدر دیکھنا چاہتے ہیں جو اپنے ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔‘‘
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ ایران سے کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ بلا شرط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یا تو وہ ہار مان لیں یا پھر وہاں ہتھیار ڈالنے کے لیے کوئی باقی نہ رہے۔‘‘
صدر ٹرمپ نے برطانیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں برطانیہ نے دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کیا تھا، تاہم اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ملک پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اگر کسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تو ایران جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoترون تیجپال نے 10 سال کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے روجوع کیا؛ گوا کو نوٹس جاری
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
