ہندوستان
مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے: انتونیو گوتریس
نئی دہلی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے چند ارب پتی افراد کی خواہشات کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گوتریس نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی عالمی عدم مساوات میں اضافہ کر سکتی ہے، تعصبات کو بڑھا سکتی ہے اور سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسے درست انداز میں بروئے کار لایا جائے تو یہ طب، تعلیم، غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے تئیں اقدامات اور بنیادی عوامی خدمات تک رسائی میں انقلابی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “وزیراعظم مودی، دعوت دینے کا شکریہ اور عالمی جنوب میں پہلے اے آئی سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ہندوستان کی قیادت کو مبارکباد۔ ہندوستان میں ہونے والی یہ نشست خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ اے آئی تیزی سے سماج، معیشت اور طرز حکمرانی کو تبدیل کر رہی ہے، اس لیے اس کی ضابطہ بندی جامع اور عالمی نمائندگی کی حامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “اے آئی کا مستقبل چند ممالک کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے چند ارب پتی افراد کی من مانی پر چھوڑا جا سکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ناقص انتظام عالمی عدم مساوات اور تعصب میں اضافہ کر سکتا ہے اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گوتریس نے عالمی سطح پر نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے واضح ضوابط (گارڈ ریلز) قائم کرنے اور “گلوبل فنڈ آن اے آئی” کے قیام پر زور دیا تاکہ بنیادی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے تین ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تمام ممالک اے آئی سے فائدہ اٹھا سکیں، اور خبردار کیا کہ ایسی سرمایہ کاری نہ ہونے کی صورت میں بہت سے ممالک ’اے آئی کے عہد سے باہر‘ رہ جائیں گے، جس سے عالمی خلیج مزید وسیع ہوگی۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں قومی رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں سیم آلٹمین (اوپن اے آئی)اورسندرپچائی (گوگل) شامل تھے، انہوں نے ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ تین ارب ڈالر کے عالمی فنڈ میں حصہ دار بنیں۔ انہوں نے کہا،’’یہ کسی ایک ٹیک کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ سب کے فائدے کے لیے اے آئی کے فروغ کی یہ معمولی قیمت ہے، حتیٰ کہ ان کمپنیوں کے لیے بھی جو اے آئی تیار کر رہی ہیں‘‘
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ جیسے جیسے اے آئی کی توانائی اور پانی کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے،اخراجات کو کمزور طبقات پر منتقل کرنے کےبجائے ڈیٹا سینٹرز کوماحول دوست توانائی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔
اے آئی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے—جو طب، تعلیم، غذائی تحفظ، موسمیاتی اقدامات اور عوامی خدمات تک رسائی میں پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں—گوتریس نے کثیرجہتی تعاون اور مساوی رسائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا،’’اس سربراہی اجلاس کا پیغام سادہ ہے: حقیقی اثر وہی ہے جو زندگیوں کو بہتر بنائے اور کرۂ ارض کا تحفظ کرے۔ آئیے ایسی اے آئی تعمیر کریں جو سب کے لیے ہو، اور جس کی بنیاد انسانی وقار ہو‘‘
گوتریس نے زور دیا کہ اے آئی کی ترقی اخلاقی اصولوں، انسانی حقوق اور مضبوط عالمی نگرانی کے تحت ہونی چاہیے، اور کہا کہ ’’کوئی بھی بچہ غیر منظم اے آئی کا تجرباتی نمونہ نہیں بننا چاہیے‘‘۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے نئے قائم کردہ اے آئی سائنسی مشاورتی ادارے کا بھی ذکر کیا، جو ممالک کو اس ٹیکنالوجی کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے گا، اور خبردار کیا کہ جیسے جیسے اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لوگوں کو استحصال سے بچانا ضروری ہے۔
یو این آئی ۔ ایس وائی
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان11 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا9 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا13 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
