دنیا
ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا امکان
تہران/واشنگٹن، ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات فوجی میدان کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور توانائی کے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق بعض مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات (سی ایس آئی ایس) کے محققین کے مطابق آئندہ مرحلے میں میزائل حملوں کے بجائے ڈرون حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ڈرون نسبتاً کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے باہمی حملوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس سے توانائی کے مراکز، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں جیسے اہم انفراسٹرکچر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر مزید ممالک اس تنازع میں شامل ہوئے تو جنگ کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ ترکی اور آذربائیجان نے ایرانی ڈرونز کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر احتجاج کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ ایران وقت گزرنے کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کے استعمال میں کمی کرے گا کیونکہ حالیہ فضائی حملوں میں اس کے درجنوں میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے برعکس کم لاگت والے خودکش ڈرونز کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی کی وجہ یہ ہے کہ ڈرونز کی تیاری نسبتاً سستی ہوتی ہے اور انہیں مختلف مقامات سے باآسانی لانچ کیا جا سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ تہران مستقبل میں ایک بڑے حملے کے بجائے وقفے وقفے سے چھوٹے حملوں کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، جس کے تحت ایک وقت میں 20 سے 40 ڈرونز داغے جا سکتے ہیں اور یہ عمل ہفتے میں کئی مرتبہ دہرایا جا سکتا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق جنگوں میں ڈرون حملوں کا مقصد اکثر مخالف کے دفاعی نظام کو دباؤ میں لانا، ریڈار کے کمزور مقامات کا پتا لگانا اور اسے مسلسل دفاعی کارروائیوں میں مصروف رکھنا ہوتا ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے رینڈ کارپوریشن کے تجزیوں میں بھی اس طرح کی حکمت عملی کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران اب تک تقریباً 2700 میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، جس پر اسے اربوں ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑی۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث امریکہ کو بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق صرف پہلے ہفتے میں جنگی کارروائیوں پر تقریباً 6 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق توقع ہے کہ امریکی انتظامیہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید فنڈز کی منظوری طلب کرے گی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس شدید جنگ میں چھ ماہ تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا
-
جموں و کشمیر1 week agoمقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
