ہندوستان
آئین خطرے میں، خود مختار ادارے بی جے پی، آر ایس ایس کے نشانے پر: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے آئین کو خطرے میں بتاتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس پر شدید حملہ بولا اور کہا کہ ان کا نظریہ آئین مخالف ہے اور اس لئے الیکشن کمیشن اور نائب صدر جیسے اداروں کی خود مختاری ختم کرکے پارلیمانی روایت کو ختم کیا جا رہا ہے مسٹر کھرگے نے یہاں وگیان بھون میں کانگریس لاء ڈپارٹمنٹ کی سالانہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں ہے بلکہ ہماری جمہوریت کی روح ہے جو ہر ہندوستانی کو انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا حق دیتا ہے لیکن آج یہ آئین خطرے میں ہے۔
اقتدار میں بیٹھے لوگ اس کی بنیادی شکل بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ بی جے پی آر ایس ایس کے بڑے لیڈر آئین کے دیباچے سے سوشلزم اور سیکولرازم الفاظ کو ہٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب کہ یہ دونوں الفاظ ان کی پارٹی کے آئین میں موجود ہیں۔ یہ دوہرا معیار بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہتھکنڈوں، چہرے اور کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا کی جمہوریت کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، اس لیے ان کی آزادی ضروری ہے، لیکن جب کوئی جج کسی خاص مذہب کے لوگوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
ایسے وقت میں جب حکومت چیف جسٹس کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل سے ہٹا دے اور میڈیا کو سرمایہ داروں کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے تو یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک عام ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم انتخابات میں ‘مٹن، مغل اور منگل سوتر’ جیسے الفاظ استعمال کرکے سماج کو تقسیم کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس پر خاموش ہے۔ اس دوران ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے لیے ایک بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے جس میں لاکھوں غریبوں، دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں۔
بہار میں تقریباً 65 لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔ وہ پورے ملک میں ایسا ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین بنانے والوں نے سب کے ووٹ کو یکساں اہمیت دی ہے اور یہ پنڈت نہرو، ڈاکٹر امبیڈکر دستور ساز اسمبلی کے تمام اراکین اور کانگریس پارٹی کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے آج یہ آئینی حقوق خطرے میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس کی سنجیدگی کو سمجھ لیا ہے لیکن عدالت کے بار بار کہنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے ووٹنگ ووٹر لسٹ کے لیے آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ وغیرہ کو مجاز دستاویزات کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ملک کی ایک فیصد آبادی کے پاس 40 فیصد وسائل ہیں۔ اعلیٰ تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ نجی کالجوں میں عام گریجویشن کی فیس 60 لاکھ روپے تک ہے۔ سرکاری اسکولوں کو بند کیا جا رہا ہے تاکہ پرائیویٹ ا سکولوں کو پروموٹ کیا جا سکے۔ تعلیم، صحت اور مساوی مواقع آج کمزور طبقات کے لیے ایک خواب بن چکے ہیں۔ اپوزیشن کی حکومتوں کو گرا کر اقلیتی حکومتیں بنانا، لیڈروں کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کرنا، حکومت پر سوال اٹھانے والوں کو جیلوں میں ڈالنا، آر ٹی آئی کارکنوں کا قتل اور آر ٹی آئی قانون کو کمزور کرنا ایک عام سی بات ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ حکومت نائب صدر کے ذریعے راجیہ سبھا میں ریکارڈ تعداد میں ممبران پارلیمنٹ کو معطل کر رہی تھی اور ممبران پارلیمنٹ کی آواز کو دبانے کی کارروائی کر رہی تھی۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی ان تمام سرگرمیوں سے خوش تھے۔ لیکن اس دوران نائب صدر کو اپنے عہدے کی اہمیت کا احساس ہوا اور انہیں اچانک محسوس ہوا کہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ ان کا دور تاریخ میں درج کیا جائے گا اور مستقبل میں یاد رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے آزادانہ طور پر بولنا شروع کر دیا ۔ انھوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر یادو اور جسٹس یشونت ورما کے مواخذے کی تحریک کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مودی اور بی جے پی یہ برداشت نہیں کر سکے اور نائب صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا اور یہ اداروں پر قبضہ کی سب سے بڑی مثال ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ کل ہی انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کو خط لکھا تھا اور ایوان میں نیم فوجی دستے سی آئی ایس ایف کی موجودگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔ آئین سازوں نے ایوان میں بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے پارلیمانی سیکیورٹی سروس قائم کی تھی۔ اس کے افسران کو پارلیمنٹ کے مطابق کام کرنے کی تربیت دی گئی تھی اور ان کا کنٹرول لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ہاتھ میں تھا۔ سی آئی ایس ایف براہ راست وزیر داخلہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ ان کی تعیناتی اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو دبانے اور دھمکانے کی کوشش ہے۔ ہم حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کانگریس نے آئین بنایا اور اب اسے جمہوریت کے وقار کو بچانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس پر ایک بڑی تحریک چلانے والی ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی اور ہمارے مخالفین اقتدار میں ہیں، وہاں ہمارے کارکنوں کے خلاف سچ بولنے پر جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ انہیں ڈرانے کے لیے ان کے خاندان والوں پر جھوٹے مقدمے درج کر کے ان کے حوصلے پست کیے جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ایف اے
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
