جموں و کشمیر
15 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی: ای او ڈبلیو کشمیر نے چار افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی
سری نگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے 15 لاکھ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں جمعرات کو چار افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔ چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سری نگر کی عدالت میں 2022 میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش کی گئی، جو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 420 اور 120-بی کے تحت درج کی گئی تھی۔ ملزمان کی شناخت سری نگر کے خانیار علاقے کے رہنے والے محمد امین بھٹ، سری نگر کے گسیار ہوال کے خالد حسین خان، راجستھان کے جے پور کے ستیہ نگر، جھوٹواڑہ کے انیل کمار مہیشوری اور اتر پردیش کے میرٹھ کے ادے سٹی، پلاپورم-2، مودی پورم کے ششانک کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ مقدمہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ محمد امین بھٹ نے ایم/ایس ایشورڈ ایگرو فوڈ انڈسٹریز کے ایریا سیلز منیجر خالد حسین خان اور ریجنل سیلز منیجر انیل کمار مہیشوری کے ساتھ ملی بھگت کر کے شکایت کنندہ کو خوردنی تیل کی سپلائی کے لیے سکیورٹی رقم کے طور پر 15 لاکھ روپے جمع کرانے پر آمادہ کیا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ ملزمان نے خود کو خوردنی تیل تیار کرنے والی کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر مال سپلائی کر دیا جائے گا، لیکن رقم وصول کرنے کے باوجود کوئی سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ ای او ڈبلیو کی تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی سازش کے تحت سرسوں کے تیل کی سپلائی کا جھانسہ دے کر شکایت کنندہ سے دھوکہ دہی کی۔ حکام کے مطابق راجستھان کے رجسٹرار آف کمپنیز سے کی گئی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایم/ایس ایشورڈ ایگرو فوڈ انڈسٹریز کے نام سے کوئی کمپنی رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ تحقیقات کے دوران میرٹھ (اتر پردیش) کے رہائشی ششانک کمار کے مبینہ کردار کا بھی انکشاف ہوا، جسے کمپنی کا مالک ظاہر کیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
انتخابی فہرستوں میں ’ردوبدل‘ جاری رہا تو ہندوستان ’بنانا ریپبلک‘ جیسا نظر آ سکتا ہے: محبوبہ مفتی
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے نام مبینہ طور پر حذف کرنے اور نام شامل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان آخرکار ’’بنانا ریپبلک‘‘ جیسی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے ان خبروں پر ردعمل ظاہر کیا کہ دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 اعتراضات ان فیصلوں اور مراسلات پر درج کیے، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی جانکاری یا منظوری کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ نے ہندوستان اور پاکستان کو ’’برادر ممالک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے ہی عوام کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارا ملک ہندوستان، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جب بھی جاتے ہیں تو فخر سے اسے جمہوریت کی ماں قرار دیتے ہیں۔ آج وہ ہندوستانی جمہوریت کی اسی بنیادی بنیاد، یعنی انتخابی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں ’’ردوبدل‘‘ کیا جا رہا ہے اور کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر اسی طرح بی جے پی کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے اور نام شامل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی وقت ہمارا ملک، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، ایک بنانا ری پبلک جیسا نظر آنے لگے گا۔‘‘
پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ پاکستان خود کو بین الاقوامی سطح پر امن قائم کرنے والے اور ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اپنے ملک کے اندر اختلاف رائے کو ’’آہنی ہاتھ‘‘ سے کچل رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں غیر مسلح اور پرامن احتجاج کرنے کے باوجود حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ دنیا بھر میں امن قائم کرنے والے بن کر گھوم رہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں ان خواتین کو ان کے گھروں میں حراست میں لے رہے ہیں جن کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔‘‘ تاہم محبوبہ نے کہا کہ ہندوستان کے ادارہ جاتی نظام میں ایسے لوگوں کی موجودگی جو اقتدار میں موجود افراد سے سوال کر سکتے ہیں، ایک ’’امید کی کرن‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’واحد امید کی کرن جو میں دیکھ سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں اب بھی ہمارے پاس دو ایسے الیکشن کمشنروں جیسے لوگ موجود ہیں جن میں اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کرنے کی ہمت اور دیانت داری ہے۔‘‘ انہوں نے پاکستان کے نظامِ اقتدار میں ایسی ہی آوازوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جو عمران خان کی بہن کی حراست پر سوال اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمارے پاس ان دو الیکشن کمشنروں جیسے لوگ نہ ہوں تو، میں اس وقت ان کا نام نہیں لینا چاہتی، مجھے نہیں معلوم کہ اگر وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا محکمہ انکم ٹیکس کے دفتر چلے جائیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ لیکن اگر ہم اسی طرح جاری رہے تو ایک وقت آئے گا جب ہم ایک بنانا ریپبلک جیسے نظر آئیں گے، یہاں کوئی جمہوریت نہیں رہے گی۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
عمر نے انتخابی فہرستوں میں ’اصلاحی کارروائی‘ کا مطالبہ کیا؛ محبوبہ نے خبردار کیا کہ ہندوستان ’بنانا ریپبلک‘ جیسا بن سکتا ہے
سری نگر،جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو انتخابی عمل سے متعلق خدشات پر ’’اصلاحی کارروائی‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کا انتخابات پر اعتماد ختم ہو گیا تو ’’پھر جمہوریت میں کیا باقی رہ جائے گا؟‘‘ وہیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے نام مبینہ طور پر حذف اور شامل کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان آخرکار ’’بنانا ریپبلک‘‘ جیسا بن سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوئی ایک خبر پر ردعمل ظاہر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کی مدت کے دوران ایسے فیصلوں اور بیانات پر کم از کم 14 اعتراضات درج کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے علم یا منظوری کے بغیر جاری کیے گئے تھے۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابی ادارے کے کام کاج پر پہلے بھی اٹھائے گئے خدشات کے پس منظر میں یہ رپورٹ اہم ہے۔
انہوں نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر ہمیں مسلسل شکایات رہی ہیں۔ ایس آئی آر (خصوصی جامع نظرثانی) ملک کے باقی حصوں کے لیے مسئلہ بننے سے پہلے، ہمارے لیے حد بندی ایک مسئلہ تھی۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اگست 2019 میں مرکز کی جانب سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں کرائی گئی حد بندی کا عمل شفاف نہیں تھا اور اس میں خامیاں تھیں اور دعویٰ کیا کہ اسے ’’ایک سیاسی جماعت اور اس کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’جو کچھ سامنے آیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خبر کے بعد انتخابی ادارے کی جانب سے جاری کیا گیا بیان ’’اس سے بھی زیادہ سنگین‘‘ تھا۔
مسٹر عمر نے زور دے کر کہا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’کچھ اصلاحی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، اگر لوگوں کا انتخابات پر اعتماد ختم ہو جائے تو جمہوریت میں کیا باقی رہ جائے گا؟‘‘
مسٹر عمر نے کہاکہ ’’جمہوریت کی بنیاد انتخابات ہیں اور اگر لوگوں کا انتخابات پر اعتماد ختم ہو جائے تو لوگ انتخابات میں حصہ کیوں لیں گے؟‘‘ انہوں نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے اس معاملے کو دیکھنے کی اپیل کی۔
مسٹر عمر نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے اس بیان کی بھی حمایت کی، جس میں انہوں نے حکمراں بی جے پی اور انتخابی ادارے پر ملک سے غداری کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر آپ کسی شخص کو ووٹ دینے سے روک رہے ہیں، جبکہ ووٹ دینا اس کا حق ہے اور وہ ووٹ دینا چاہتا ہے اور بدقسمتی سے ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے کچھ لوگوں کو پاسپورٹ نہ دینے کا بہانہ بنا دیا گیا، تو اگر یہ آئین پر حملہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟‘‘
مسٹر عمر نے مزید کہاکہ ’’راہل نے جو کہا وہ بالکل درست ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس کی اصلاح کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘
خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ نے کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے نام مبینہ طور پر حذف اور شامل کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان آخرکار ’’بنانا ریپبلک‘‘ جیسا بن سکتا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان، جنہیں انہوں نے ’’بہن ریاستیں‘‘ قرار دیا، اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمارا ملک ہندوستان، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے اور جس کے بارے میں ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جانے پر فخر کے ساتھ اسے جمہوریت کی ماں کہتے ہیں۔ آج وہ ہندوستانی جمہوریت کی اسی بنیادی بنیاد، یعنی انتخابی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں ’’ہیرا پھیری‘‘ کی جا رہی ہے اور کہا کہ 2 الیکشن کمشنروں نے اس معاملے پر سوال اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر یہ اسی طرح جاری رہا، یعنی بی جے پی کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے نام حذف اور شامل کیے جاتے رہے، تو یہ خطرہ ہے کہ کسی وقت ہمارا ملک، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، بنانا ریپبلک جیسا نظر آنے لگے گا۔‘‘
پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ یہ ملک بین الاقوامی سطح پر خود کو امن قائم کرنے والا اور ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن ’’اپنے ملک کے اندر اختلاف رائے کو سختی سے کچل رہا ہے۔‘‘
انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں غیر مسلح اور پرامن احتجاج کرنے کے باوجود حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’آپ دنیا بھر میں امن قائم کرنے والے کے طور پر گھوم رہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں ان خواتین کو ان کے گھروں میں حراست میں لے رہے ہیں جن کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔‘‘
تاہم محبوبہ نے کہا کہ ہندوستان کے ادارہ جاتی نظام میں ایسے لوگوں کی موجودگی جو اقتدار میں موجود افراد سے سوال کر سکتے ہیں، ایک ’’امید کی کرن‘‘ ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’واحد امید کی کرن جو مجھے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں اب بھی ہمارے پاس ان 2 الیکشن کمشنروں جیسے لوگ موجود ہیں، جن میں اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کرنے کی ہمت اور دیانت داری ہے۔‘‘
انہوں نے پاکستان کے اداروں میں ایسی ہی آوازوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جو، ان کے مطابق، عمران خان کی بہن کی حراست پر سوال اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ’’اگر ہمارے پاس ان 2 الیکشن کمشنروں جیسے لوگ نہیں ہوں گے، میں اس وقت ان کے نام نہیں لینا چاہتی، مجھے نہیں معلوم کہ اگر وہ ای ڈی یا محکمہ انکم ٹیکس کے دفتر جائیں گے تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے ساتھ کیا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’لیکن اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو ایک وقت آئے گا جب ہم بنانا ریپبلک جیسے نظر آئیں گے، جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔‘‘
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
آئی جی پی کشمیر نے باندی پورہ میں سلامتی، امن و قانون اور جرائم کی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، انسپکٹر جنرل آف پولیس، کشمیر زون، سوجیت کمار نے بدھ کو باندی پورہ میں سلامتی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے نظام، امن و قانون کی تیاری اور عملی تیاری کا جائزہ لیا اور پولیس اہلکاروں کو عوام دوست پولیسنگ کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے چیلنجوں کے خلاف چوکس رہنے کی ہدایت دی۔
پولیس نے بتایا کہ آئی جی پی کشمیر کے ہمراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل، شمالی کشمیر، ڈاکٹر ونود کمار بھی موجود تھے۔
باندی پورہ کے ایس ایس پی اعجاز احمد زرگر نے آئی جی پی کشمیر کو ضلع میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، خفیہ اطلاعات، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائی، حساس مقامات کی سلامتی، امن و قانون کی تیاری اور جرائم کی صورتحال کے بارے میں اطلاع دی۔
اجلاس کے دوران آئی جی پی کشمیر نے عوام دوست پولیسنگ کو مضبوط بنانے، جرائم کے معاملات کو نمٹانے میں بہتری لانے اور زمینی ضروریات کے مطابق عملی تیاری بڑھانے پر زور دیا۔ مسٹر کمار نے تمام عہدوں کے اہلکاروں سے چوکس رہنے اور سلامتی اور امن و قانون سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا فوری اور مؤثر جواب یقینی بنانے کی اپیل کی۔
آئی جی پی کشمیر نے پولیس اہلکاروں کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف کی اور انہیں عوام کی حفاظت اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے پوری وابستگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہنے کی ہدایت دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر4 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
جموں و کشمیر4 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا5 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا5 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoیوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
