ہندوستان
آئین شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے، کانگریس نے اسے ہائی جیک کر لیا: راجناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا آئین تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ہے اور سب کو مساوی حقوق دیتا ہے، غریبوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت دیتا ہے لیکن آج ایک پارٹی اس آئین کو ‘ہائی جیک’ کرنا چاہتی ہے، اسے اپنی اجارہ داری سمجھتی ہے اور موقع ملتے ہی اس آئین کی توہین کرتی ہے ‘آئین ہند کے شاندار سفر کے 75 سال’ پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور ملک کی ثقافت اور روایات کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین میں کمل کا پھول اور بھگوان رام کی تصویر ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا آئین ہماری روایت اور وراثت کا نگہبان ہے اور مودی حکومت ان اقدار پر عمل کرتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کو اپنانے کے 75 سال مکمل ہونے پر آج پارلیمنٹ میں بحث ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے آزادی پسندوں اور عام ہندوستانیوں نے جو خواب دیکھا تھا اس دن پورا ہوا۔ اسی دن یعنی 26 نومبر کو حکومت ہند نے اپنا آئین منظور کیا اور ملک میں بادشاہت اور برطانوی نظام کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت وجود میں آئی۔ اس موقع پر ایوان اور اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے عظیم محب وطن لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمارا آئین آفاقی ہے جو شہریوں کو آئینی اور بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ ہمارا آئین، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی پہلوؤں کو چھوتے ہوئے، ملک کو سب کو مساوی حقوق دینے کا راستہ فراہم کرتا ہے اور سب کو مل کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین مذہب اور فرض ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہندوستان کو ایک مثالی ملک بنانے، قومی یکجہتی، ملک کی ترقی، شہریوں کے وقار کو محفوظ بنانے اور ملک کی اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے لیے ایک روڈ میپ ہے۔ ہمارا آئین تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کی اجازت دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا شخص ملک کا وزیراعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ یہ آئین ہندوستان کے شہریوں کی امنگوں کو پورا کرتا ہے اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔ آئین اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملک کے شہریوں کے حقوق کی کبھی خلاف ورزی نہ ہو اور تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ کچھ عرصے سے ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ ملک کا آئین صرف ایک پارٹی کا ہے اور اس میں صرف اس کا حق ہے۔ آج آئین کے تحفظ کی بات ہو رہی ہے لیکن سب سمجھتے ہیں کہ کس نے آئین کا تحفظ کیا اور کس نے آئین کی توہین کی ہے۔
کانگریس نے آئین میں تبدیلی کی کوشش کی اور یہ تبدیلی جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ کی حکومتوں میں ہوئی۔ آئینی ترمیم کے نام پر کانگریس کی حکومتوں نے آئین کو بدلنے کا کام کیا ہے۔ پہلی آئینی ترمیم میں کانگریس حکومت کو پریس میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور 1950 میں کانگریس حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ آج جو کانگریس آئین کے گن گا رہی ہے، اس نے 1951 میں عام انتخابات ہونے سے پہلے ہی شہریوں کے حقوق کو دبانے کا کام کیا ہے۔ آئین کے نفاذ کے بعد کانگریس نے بنیادی حقوق کو کمزور کر دیا ہے اور آئین کے خالق بابا صاحب امبیڈکر زندگی بھر اس کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔
انہوں نے کانگریس پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے کبھی آئین پر یقین نہیں کیا، وہ اپنی جیب میں آئین کی کاپی رکھتے ہیں اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، جب کہ بی جے پی آئین کو اپنی جیب میں نہیں بلکہ ماتھے پر رکھتی ہے۔ . ہمارے اعمال میں آئین نظر آتا ہے۔ ہماری حکومت نے پچھلے دس برسوں میں جتنی بھی ترامیم کیں ان کا مقصد عوام کے حقوق کو مضبوط کرنا ہے۔ بی جے پی نے جو بھی قانون بنایا ہے اس میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس آئین نے بی جے پی حکومت کو دفعہ 370 کو ہٹانے کا اختیار دیا ہے۔ ہم نے ملک میں وفاقیت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ہم نے آئین کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھایا ہے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ سیاسی کرپشن کی روک تھام کے لیے پارٹی مخالف قانون کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ایک ترمیم کی گئی تھی، جس میں اگر کوئی مجرم شخص ایک بار بھی اعلیٰ آئینی عہدہ پر فائز ہو تو اس کے تمام جرائم کو معاف کر دیا جاتا تھا۔ یہ ایک بار پھر عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش تھی، لیکن آج کانگریس پارٹی آئین کی کاپی لے کر گھوم رہی ہے، سیاست کر کے آئین کو بچانے کی بات کر رہی ہے، لیکن آئین پر عمل نہیں کرتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ محترمہ اندرا گاندھی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کو گرایا ۔ ایک بار نہیں بلکہ درجنوں بار محترمہ گاندھی کے دور میں منتخب حکومتوں کو گرایا گیا اور من مانی کی گئی اور آئین کے نظام کی خلاف ورزی کی گئی۔ کانگریس نے کبھی آئین کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کے مطابق برتاؤ کیا ہے لیکن وہ لوگ اپنی جیبوں میں آئین کی کاپی اٹھائے ہوئے ہیں جنہوں نے کبھی آئین کو نہیں مانا اور ان کا ایک لیڈر آج بھی بیرون ملک جا کر ہندوستان کے خلاف آگ بھڑکاتا ہے۔ حکومت ہند پر تنقید اور ملک کے شہریوں کی توہین کرتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ وہ لیڈر ملک میں محبت کی دکانیں کھولنے کی بات کرتے ہیں جو بیرون ملک بہت مشہور ہیں۔
شری سنگھ نے دسمبر 1992 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اجودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ کو منہدم کرنے کا معاملہ پیش آیا تو وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے فوری طور پر شام کو گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ لیکن کانگریس کی مرکزی حکومت نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔ اکثریت والی حکومت کو برطرف کردیا ۔ اس کے بعد مخلوط حکومت آئی اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اتر پردیش میں اکثریت حاصل کر لی لیکن کہا گیا کہ حکومت اکثریت میں نہیں ہے اور جس حکومت نے ایوان میں اکثریت حاصل کر لی تھی اسے برخاست کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین کا تحفظ ہے، جس پر فوری طور پر صدر کے آر نارائن نے اتر پردیش حکومت کی برخاستگی پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اور مرکزی حکومت سے اس پر دوبارہ غور کرنے کو کہا۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہمارا آئین آزادی پسندوں کی قربانیوں کے امرت سے نمودار ہوا ہے اور یہ ملک کے ہر شہری اور آئین ساز اسمبلی کے تمام اراکین کے خیالات اور جذبات پر مبنی ہے اور ان عظیم شخصیات نے اس آئین کو تقویت بخشی ہے۔ ایک پارٹی ہمارے آئین کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ آئین کسی ایک پارٹی کے نظریے کے مطابق نہیں بنایا گیا بلکہ سب کے جذبات کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس کے بنانے میں تمام نظریات کے لوگوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ہمارے لیڈر شیاما پرساد مکھرجی کا ماننا تھا کہ آئین اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے کہا کہ ہماری جمہوریہ سب کے فائدے کے لیے ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک میں راج دھرم اور آئین کے ذریعے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ بی جے پی آئین کے بنیادی کردار کو کبھی تبدیل نہیں ہونے دے گی اور جب بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں، بی جے پی نے ہمیشہ ان کی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی سے پہلے کی گئی تمام ترامیم میں آئین کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تمام مذاہب اور سب کی ترقی کے لئے برابری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہمارا آئین تمام طبقات کی ہم آہنگی اور ان کی فلاح و بہبود کی اجازت دیتا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا شخص ملک کا وزیر اعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ اس آئین کے تحت، ہم نے انڈین جوڈیشل کوڈ جیسے نئے قوانین پاس کیے ہیں اور ہماری حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کی ترقی اور سب کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ آئین میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین کی بھی خصوصی اہمیت ہے۔ خواتین نے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 24 جنوری 1950 کو جب آئین پر دستخط ہوئے تو اس میں 11 خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں امرت کور، ہنسا مہتا، سچیتا کرپلانی وغیرہ شامل تھیں ۔ ملک کی عظیم خواتین کی خدمات کو اجتماعی طور پر سراہا جانا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کی تشکیل جمہوریت کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ استعمار سے آزاد ہونے والے ممالک میں سے ہندوستان نے اپنا آئین تیار کیا ہے اور یہ ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آئین کے 75 سال مکمل ہونے پر امرت سال منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کا تذکرہ ضروری ہے جس نے ملک کے آئین کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے کئی ججوں نے سخت دباؤ کے باوجود آمرانہ حکومت کی بات نہیں سنی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں آئین کو بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب نے کہا تھا کہ پہلے ہم انگریزوں پر الزام لگاتے تھے لیکن اب آئین ہمارا ہے اور ہم آزاد ہیں اس لیے اب ہمارے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے اور آئین کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اسے متاثر نہیں ہونے دینا ہے اور آئین کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ فرض کسی دوسرے فرض سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے یومِ پیدائش پر انہیں گلہائے عقیدت نذر کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
محترمہ گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی دانشمندی، عاجزی اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی معاشی تبدیلی میں ان کا تعاون اور ملک کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا ایک دائمی حصہ ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں معاشی اصلاحات کا معمار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دانشمندی، ایمانداری اور عاجزی کے ساتھ ملک کی خدمت کی نیز ان کے پرسکون عزم اور مدبرانہ بصیرت نے چیلنجنگ اوقات میں ملک کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ گیر ترقی اور عوامی خدمت کے لیے ڈاکٹر سنگھ کا عزم لوگوں کو تحریک دیتا رہے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان- خلیجی کونسل تجارتی بات چیت آگے بڑھی، تجارت اور توانائی کے تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
نئی دہلی، ہندوستان اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان وزرا کی سطح کی میٹنگ میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی اور عوامی رابطوں کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں فریقوں نے ہندوستان-جی سی سی آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی بات چیت کو آگے بڑھانے اور 2024-28 کے مشترکہ عمل کے منصوبے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی قیادت میں جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے حاشیے پر منعقدہ میٹنگ میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے بتایا کہ مالیاتی سال 2025-26 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان کل تجارت 178.66 ارب ڈالر رہی۔
میٹنگ میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ عمل کا منصوبہ 2024-28 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، نقل و حمل، توانائی، صحت، ثقافت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
ہندوستان اور جی سی سی نے اس سال فروری میں آزادانہ تجارتی معاہدے کے لیے شرائط و ضوابط اور دائرہ کار طے ہونے کے بعد شروع ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ معاہدے سے تجارت بڑھانے اور برآمدات میں تنوع لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران توانائی اور کھاد کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ قابلِ تجدید توانائی، بایو فیول اور گرین ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
میٹنگ میں مغربی ایشیا کی صورت حال، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی، کثیر ملکی اداروں میں اصلاحات، استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اگلی ہندوستان-جی سی سی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میٹنگ جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
