تازہ ترین
آئے ملت مسلم تیرا اللہ نگہبان
تحریر:الطاف جمیل ندوی
خبراردو:-
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
کشمیر دنیا کا ایک حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں اب تلک گرچہ مسلکی منافرت یا مذہبی چپقلش کے نام پر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہوئی بلکہ اکثر صبر و تحمل اس قوم کا خاصہ رہا ہے جو اپنی نسبت وادی سے کرتی ہے
پرالمیہ یہ ہے کہ اب یہاں بھی دیدہ و دانستہ ایسے کام کئے جارہے ہیں جس سے کم از کم اسلامی تعلیمات آشناء نہ تھیں آج تک پر اب جب کہ دنیا میں ہر چہار سو یہ مصیبت دندنا رہی ہے اپنی تمام تر غلاظت کے ساتھ تو وادی کشمیر کا علاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آہی گیا آئے روز اسلام کے نام پر مساجد میں مقابلہ آرائی مناظرہ بازی کے نام کی دکانوں کو آراستہ کیا جارہا ہے اور کچھ من چلے بڑی ہی چابک دستی سے خود کو بحیثیت مناظر اسلام منوانے میں کامیاب بھی ہورہے ہیں اور ہر کسی کا چہیتا سب سے قابل سب سے بڑا اہل علم تقوی شعار اور محب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بنا پھر رہا ہے اور یہ مشغلہ روز بروز پروان چڑھتا جارہا ہے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اکثر کبار علماء کرام جو یہاں کی مختلف فکر و افکار کے روح رواں ہیں ایسی مجالس سے دور ہی رہتے ہیں
ہوتی نہین جو قوم، حق بات پہ یکجا،
اس قوم کا حاکم ہی بس انکی سزا ہے.
غنی شیخ کا نیا فتنہ اور سوشل میڈیا کے مفکر
ویسے تو تب سے جب سے یہاں ہنگاموں نے اپنا بسیرا بنا لیا ہے اس قوم کو ایسے پاسبانوں نے دکھ اور الم کے سوا کچھ بھی نہ دیا جو ان حالات کی پیدا وار ہیں جو یہاں پچھلے تیس پینتیس سال سے بنے ہوئے ہیں حالات نے جہاں یہاں پر طرف ماتم غم کرب یتیم بیوہ قتل دہشت وحشت درندگی بھوک پیاس لاش جیسے الفاظ کو عملی جامہ پہنا دیا وہیں یہاں علوم اسلامیہ کے بارے میں بھی ہنگاموں نے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں و سرگرداں رہے تصوف عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کچھ زیادہ ہی تجار پیدا ہوتے رہے جو بجائے اس کے کہ قوم و ملت کے لئے کچھ کرتے بلکہ ان درندہ صفت اور شیطان کے پجاریوں نے یہاں کی قوم کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا درد اور کرب پوری قوم کو دیا مثال ہم گلزار پیر نامی اس مبلغ کی دے سکتے ہیں جو اسلام کے نام پر ہزاروں لوگوں کی گمراہی کا سبب بنا جس کے مریدین اسے ڈاکٹر ذاکر نائک کے ہم پلہ ہونے کا سکالر کہتے ہوئے مسرور ہوا کرتے تھے پر تماشہ تب ہوا جب اس پر کچھ خواتین نے جنسی ہراسگی کا دعوی کردیا اور اسے قانون کے محافظ کلمہ یا آیت الکرسی دعائے قنوت سنانے کو کہتے ہیں تو یہ شخص ہاں ہوں کرنے اپنی علمی بصیرت کا چراغ جلانے کے لئے کوشاں ہوجاتا ہے جس کے جواب میں اسے کچھ اس کے لائق الفاظ کا تحفہ ملتا ہے قوم نے اپنا شعور کہاں برباد نہ کیا یہاں ان سالوں میں مختلف ایسے حادثات و واقعات رونما ہوتے گئے جہاں ہماری بیٹیوں کو جاڑ پھونک کے نام پر عزت و رفت کی قیمت ادا کرنی پڑی یہ سلسلہ گر چہ ہر طرف اپنی ابلیسیت کا راج کر رہا ہے پر ہماری وادی اب اس کی زد پر کچھ زیادہ ہی آگئے بڑھ رہی ہے
یہاں آئے روز کوئی نشہ باز خود کو کرامات دیکھانے والا کہتا ہے کوئی صاحب خود کو محافظ جنات کہلانا پسند کرتا ہے تو کوئی کسی اور نام سے اسلام کا لبادہ اوڑ کر قوم کے لئے درد سر بنا پھر رہا ہے یقین کریں کہ یہ من چلے کچھ اس قدر ذہین ہیں کہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں بس کچھ ابلیسیت کے کارنامے انجام دینے ہیں جو گر چہ ان کے نافلق ان متوالوں کی افواہ ہی کیوں نہ ہو جسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے یہ ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں
کہ اپنے پیر خاص کے بارے میں کچھ اس قسم کے افسانے سناتے پھرتے رہتے ہیں کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ایک بار دیکھنے کی تمنا کر لیتا ہے
کسی ماں کا لخت جگر غائب ہے یا کسی کا شوہر یا کسی معصوم بیٹی کا بھائی تو یہ مریدین اپنی حاضری لگا کر ان ستم رسیدوں پر اک اور ستم ڈھانے کے فراق میں اپنے پیر کے کمالات کی ڈائری لے کر آ ٹپکتے ہیں اور پھر وہی کام شروع ہوجاتا ہے جسے یہ چلہ کشی یا کسی ولی کامل کے سر تھوپنے کے لئے بکرے مینڈک کے ساتھ ساتھ نقدی بھی وصول کرتے رہتے ہیں جب اس سب سے دل کی تسلی نہیں ہوتی تو ان کی نگاہ و نفس میں حرام کی کمائی اپنی تسکین کے لئے وہ سب کر گزرتے ہیں جو اسلام ہی نہیں بلکہ بقیہ ادیان میں بھی قابل نفرت ہی کہلایا جاتا ہے پر کیا کرئے ایسے بد ضمیروں کا جو قوم کو تلوار کے سایہ میں دیکھ کر بھی اپنی نجاست بھری نگاہوں کی تسکین کے متمنی ہی رہتے ہیں
بات اس بوڑھے کی جس کے سبب کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے جب پہلی بار اس بوڑھے جس کا نام غنی شیخ بتایا جارہا ہے کو دیکھا تو میں نے ان دیکھا کردیا یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کیا بات ہوگی کیونکہ اکثر ایسی بیہودگیوں سے بچتا ہی رہنا اپنی عادت بنی ہوئی ہے پر ماتھا تب ٹنکا جب یہ سنا کہ موصوف مسجد کے خطیب اور امام بھی ہیں یہ سن کر حیرت کے ساتھ اس کی تلاش کی تو جو دیکھا بس یہ دل میں آیا کہ یا بری اس قوم کا اب کیا ہوگا جس کا رہبر اس قدر بد زبان اور دریدہ دہن ہو میرے لئے اول یہ تصور ہی عبث تھا کہ ایسا بد زبان شخص امام ہے اور ماتم کرنے کو جی چاہا جب اس ے سامنے بیٹھے لوگ مسکرا کر اس کی باتیں سن رہے تھے لفظ فقیری پر موصوف گفتگو کر رہے تھے شاید تصور دے رہے ہوں کہ موصوف فقیر قسم کے آدمی ہیں چلے اس فقیر لفظ کو تصوف کی نظر سے سمجھیں
تصوف میں ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو نفسی خواہشات کی بجائے صرف خدا کی رضآ کا طالب اور محتاج ہو۔ فقیر مسلمان صوفیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی کی بجائے صرف اللہ کے سامنے اپنا سر جھکایا۔ فقیر لوگ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت خدا کے ذکر میں گزارتے ہیں البتہ ان کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پچھلے ادوار میں بادشاہان وقت ان کے در کی سلامی دیتے تھے
یہ لفظ کتاب و سنت و فقہ کی کتب میں بھی استعمال ہوتا ہے جہاں اس کی اپنی افادیت اور معنی الگ ہیں پر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کو دیکھیں اس لفظ پر تو اس کا حلیہ بگاڑا گیا ہے جبکہ اس پر توجہ ہی نہ دی گئی کہ موصوف ایک فتنہ گر ہیں نہ کہ کوئی داعیانہ کردار ادا کر رہے ہیں
چلے بڑا ہورہی تھی جناب کی جو کہ پیشہ سے ایک خطیب و امام ہیں امام کے اوصاف میں جہاں کتاب و سنت کا عالم ہونا اہم ہے وہیں اس کا کردار و گفتار بھی نیک اور پاکیزہ ہونا لازمی ہے اب جب امام ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ہی کتاب و سنت سے بے بہرہ ہو تو اس صورت میں خطا ان کی بھی ہے جو انہیں سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں نہ صرف کسی جاہل ملا کی ہی یہ ایک ایسا حساس اور نازک کام ہے جہاں علم و عمل دونوں میں یکسانیت لازمی ہے پر کیا کرے کہ جب لوگ شعوری طور پر بے حسی اور فکری سطح پر زوال کا شکار ہوگئے ہوں تو پھر ایسے حادثات ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہے بس ہنسی مذاق ہورہا تھا میرے پیار و کیا ہنسی مذاق کے لئے لازمی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ہی تختہ مشق بنایا جائے
نہیں بلکہ یہ ہماری دین و ایمان کے تئیں بے حسی و بے توجہی
کا ثبوت ہے کہ اب مسخرے ہمارے امام بنے ہوئے ہیں مجھے یاد آرہا ہے کہ تاریخ اسلامی میں اس کا شکار پہلی بار سنت صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں ہوئی جب حشیش بھنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو پہنچی شخصیت کیا جارہا تھا جب ایسے ہی فتنے آئے روز اٹھا کرتے تھے جب حکومت کو اس کی خبر ہوئی تو اس کا تدارک کیا گیا اور یہ فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ فنا ہوگیا جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ علی الاعلان اسلامی تعلیمات کا مذاق کا مذاق بنایا جاتا ہے اور ہم مسکرا کر شکریہ ادا کر دیتے ہیں
فکری دیوالیہ پن کے شکار لوگ کبھی بحیثیت ملت کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر آج تک جہاں میں مل سکتی ہے کہ کوئی قوم فکری دیوالیہ پن کی شکار ہوکر کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکی ہو اقوام جہاں میں وہی پنپتی ہیں جن کی فکر بلند ہو جن کے حوصلے بلند ہوں جو مسخرون کی ماتحت رہ کر نہیں جیتی بلکہ بلند کردار بلند افکار رکھنے والوں کا استقبال کیا کرتی ہیں
جہاں تک مجھ سا کم علم سمجھتا ہے ایسے افراد کو توبہ کرنی چاہئے اور ان کا حق باطل ہے کہ وہ خطابت کا فریضہ انجام دیں نہ ہی ان کی اقتداء صحیح ہے جو عقل و خرد سے بے بہرہ اور پاکیزہ اخلاق و اوصاف سے عاری ہوں
چلتے چلتے
سوشل میڈیا پر جو لوگ متحرک ہیں اسلام کے نطریہ رحمت کی آبیاری کے لیئے ان کے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر چیز کو عام کریں بلکہ بہتر ہے ایسے باتوں ایسے بچا جائے جن کے سبب اسلامی تعلیمات مجروح ہورہی ہوں اور نہ کہ ایسے افراد کو قابل توجہ سمجھتا جائے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس کسی اور نحوست کے ساتھ جینے کی قسم کھائے ہوئے ہوں یہ کوئی خدمت دین نہیں ہے بلکہ صرف رزالت ہی رزالت ہے ارباب علم اس پر اپنی نگاہیں جمائے رکھیں یہ ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ستم ہے کہ گر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کوئی پوچھنے والا بھی نہ رہے گا جب تک یہ ستم ظریفی کی مصیبت اپنی تمام سیاہ کاریوں کے ساتھ بام عروج پر ہوگئی اور پھر ہمارے لئے رحمتوں کے دروازے بند ہوجائیں گئے
آئے قوم تجھے کیا ہوا تیری داستان ہی ہے لٹ رہی
آئے قوم تجھے کیا کہوں تونے رہزنوں کو ہے خادم قوم بنا دیا
آئے قوم تیری سوچوں کا معیار کیا ہوا کہ تجھے منچلوں نے تباہ کیا
آئے قوم تیری فکر کا یہ زوال کیا ہوا کہ تونے محراب و منبر گرا دیا
آئے قوم تیری کیا بنے گا کہ تیرا رہنما کوئی اب نہیں
آئے قوم للہ اپنا تعلق اہل بصیرت سے جوڑ فسانہ گروں کے طلسم سے نکل جا
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
