پاکستان
آج کے دور میں منفرد ایک بڑا آدمی سردار خالد ابراہیم
اطہر مسعود وانی
توہین عدالت کا ملزم سردار خالد ابرا ہیم ‘برین ہیمرج’ کا شکار ہوکر ایک رات ہسپتال میں رہنے کے بعد صبح سویرے اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔جسد خاکی کو راولاکوٹ لیجایا گیا جہاں سٹیڈیم میں نماز جنازہ کے بعد آبائی گائوں کوٹ متے خان میں سپرد خاک کر دیاگیا۔راولاکوٹ کے سٹیڈیم میں ہزاروں لوگ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ سٹیڈیم کے باہر بھی بڑی تعداد میں لوگ نماز جنازہ میں شریک تھے۔سردار خالد ابراہیم قیام پاکستان کے تقریبا دو ماہ بعدپیدا ہوئے اور71سال کی عمر میں وفات پاگئے۔وہ ریاست کشمیر کی اولین سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے رہنما اورپاکستان زیر انتظام کشمیرکے پہلے صدر سردار محمد ابرہیم خان کے فرزند تھے۔ سردار محمد ابراہیم خان کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ سرینگر کے علاقے آبی گزر گاہ میں میر واعظ کشمیر مولومی محمد یوسف شاہ کے مکان میں قیام کے دوران وہاں مسلم کانفرنس کے ایک غیر رسمی اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان منظور ہوئی۔تاریخی واقعات اور حقیقی طور پر بڑے لوگوں کے ماحول نے سردار خالد ابراہیم کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے جن کا اظہار ان کے کردار سے بخوبی ہوتا ہے۔جس بات کو درست سمجھتے،اس پہ ڈٹ جاتے ،چاہے ان کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔چند ہفتے قبل پاکستان زیر انتظام کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرنے پر پاکستان زیر انتظام کشمیر کی ایپلٹ کورٹ ،سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے،حالانکہ پاکستان زیر انتظام کشمیر میں یہ اختیار ہائی کورٹ کا ہے،سردار خالد ابراہیم پر عدلیہ کی توہین کے الزام میں فرد جرم عائید کیا۔سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ۔لیکن گرفتار ہونے اور عدالت سے مجرم قرار دینے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔دیکھا جائے تو بات اصول کی ہے، وفات پاگئے تو کیا ہوا، اصول کی خاطر مثال قائم کرنے کے لئے اب اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان زیر انتظام کشمیر ان کے ” توہین عدالت” کا مجرم ہونے کی بابت فیصلہ کرے۔کیا توہین عدالت کے ملزم سردار خالد ابرہیم کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے ملکی،معاشرتی رواجات میں فوج اورعدلیہ تنقید سے بالاتر ہیں، ان پہ تنقید توہین مذہب کی طرح ہی ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔چناچہ آزاد کشمیر اسمبلی میں ججز سے متعلق تنقید پر سردار خالد ابراہیم کو بعد از وفات عدلیہ کی توہین کا مجرم قرار دینا عدلیہ کی حرمت،وقار،جاہ و جلال اور ٹھاٹھ باٹھ کے رواجات کی بقاء کے لئے از حد ضروری ہے۔مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہوتا ہے کہ انسان اپنی عمر کا وقت پورا ہونے پر ہی وفات پاتا ہے،باقی موت کے بہانے ہوتے ہیں کہ اس طرح مر گیا،اس وجہ سے مر گیا۔وفات جس وجہ سے بھی ہو،ہم یہی کہتے ہیں کہ اس کا وقت پورا ہو گیا تھا،باقی سب بہانے ہیں۔
میرے والد خواجہ عبدالصمد وانی1950میں اپنے دو ساتھیوں خواجہ محمد امین مختار اور حفیظ مانسبلی کے ہمراہ جموں کشمیر سے پاکستان زیر انتظام کشمیر پہنچے۔خواجہ عبدالصمد وانی نے اپنے رہنما چودھری غلام عباس کی قیادت میں جبکہ خواجہ محمد امین مختار نے سردار محمد ابراہیم خان کے ساتھ سیاسی سفر اختیار کیا اور1977کے مارشل لاء تک سردار محمد ابراہیم خان کے سیاسی ساتھی رہے۔انہیں سردار محمد ابراہیم خان کا ‘ رائٹ مین’ بھی کہا جاتا تھا۔سردار محمد ابراہیم خان اپنے بیٹے خالد ابراہیم کو خالدی کہہ کر پکارتے تھے اور خواجہ محمد امین مختار بھی سردار خالد ابراہیم کو ہمیشہ خالدی ہی کہتے،ان کے سامنے بھی اور ان کے تذکرے کے وقت بھی انہیں خالدی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ان کے خالدی کہنے میں محبت واضح طور پر چھلکتی تھی۔
ذاتی اوصاف کے حامل سردار خالد ابرہیم خان کی شخصیت پر بڑے لوگوں کی صحبت کا اثر نمایاں رہا۔مال و دولت،نمود و نمائش سے بے پرواہ،غرور،تکبر ،جاہ و جلال سے عاری۔یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ہم کسی بڑی شخصیت( عہدے یا اختیار کے حوالے سے نہیں )سے پہلی بار ملاقات کرتے ہیں تو دل میں سوچتے ہیں کہ” یہ تو عام سا آدمی ہے، میرا ان سے متعلق تصور تو غلط نکلا”۔ایسی سوچ اس لئے ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ” بڑے آدمی ” کے لوازمات اس ے قطعی مختلف ہوتے ہیں جو انسان کو حقیقی طور پر بڑا آدمی بناتے ہیں۔ سردار خالد ابرہیم اپنے اصولوں کے معاملے میں سخت گیر ہونے کے باوجود ایک نرم مزاج انسان تھے،محبت کرنے والے ،مہمان نوازی کرنے والے۔کئی بار اپنے خاندان کے مختلف افراد کی سردار محمد ابراہیم خان سے ملاقات کے موقع پر دیکھنے میں آیا کہ ملازم موجود ہونے کے باوجود خالد ابراہیم خود چائے اور لوازمات پیش کرتے۔
یہ جملہ ہمیشہ سے دہرایا جاتا ہے کہ ”نہ جانے اچھے لوگ جلد کیوں مر جاتے ہیں؟” شاید قدرت کو زندگی کا امتحان بار بار مطلوب ہوتا ہے۔سردار خالد ابراہیم جیسے افرادزندہ ہوتے ہیں تو منفی رواجات کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں،مر جاتے ہیں تو ان کے مخالفین بھی ان کے اچھے کردار کے گواہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ مرنے کے بعد اس کے اچھے کردار کا اعتراف کرنا، اس کے اچھے کردار کی گواہی دینا صرف اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے ہی مترادف ہو سکتا ہے۔ ، مرنے کے بعد تو مرنے والے کے افعال و اعمال ہی شمار ہوں گے ، اللہ نے دوسرے کے لئے مادیت کی قربانی دینے، خود کو مشکل میں ڈال کر دوسروں کی مشکلات ،مسائل کے حل میں کام آنا،مصیبت زد ہ افراد کے کام آنے کو نیکی بتایا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں نیکی کو محض عبادات میں ہی محدود سمجھا جا تا ہے۔سماجی طور پر،معاشی طور پر،سیاسی طور پر ایسی نیکی کی راہ اختیار کرناجس میں مادیت کی قربانی کا جذبہ محیط ہو،یہی نیکی ہے،یہی اللہ کی راہ ہے جس پر چلنے کی،کاربند رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اللہ کو وفات پا چکے انسان کے معاملے میں انسانوں کی گواہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہر انسان کے لئے اللہ تعالی کا اپنا پیمانہ ہے جس کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔اچھا کردار یہ کہ اچھی سوچ اور عمل کو مادیت پر قربان نہیں کرتے لیکن ایسے افراد کی زندگی میں لوگ انہیں اچھاشخص کہتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ” ہے تو یہ بہت اچھا آدمی لیکن ایسے قیمتی سکے کی مانند ہے جو ہے تو بہت قیمتی لیکن رائج الوقت نہیں ہے،آج کے دور میں یہ ” قیمتی سکہ” چلتا نہیں ہے،متروک ہو چکا ہے۔
سالہا سال پہلے راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹائون علاقے میں ایک سیاسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس کے مہمان خصوصی سردار خالد ابراہیم تھے۔تقریب کا اہتمام جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی جنرل سیکرٹری محترمہ نبیلہ ایڈووکیٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہونے کے حوالے سے کیا تھا۔اس موقع پر سردار خالد ابراہیم سے بات چیت ہوئی۔میں نے قریب ہی واقع اپنے گھر چلنے کی درخواست کی تو مسکرا کر کہنے لگے،آپ کے گھر کو میں اپنا ہی گھر سمجھتا ہوں۔سوشل میڈیا سے سردار خالد ابراہیم کو ”برین ہیمرج” کی اطلاع سے دلی صدمہ ہوا، سوچا تھا کہ اگلے روز ہسپتال جائوں گا لیکن کیا معلوم تھا کہ وہ اگلے روز صبح سویرے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جس دنیا نے،جہاں کے لوگوں نے اس عظیم انسان کی قدر نہیں کی،اس کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ ہر حوالے سے حقدار تھے۔انسان مر جاتا ہے لیکن اس کا کردار رہتی دنیا تک ایک مثال کے طور پر زندہ رہتا ہے،خالد ابراہیم بھی ایک ایسا ہی شخص تھا۔
نوٹ : مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
