تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے خلاف جاری یلغار پر ہوئے مظاہروں کی مکمل رپورٹ
خبر اردو:
آرٹیکل 35A کے مکمل تحفظ کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس دوران مظاہرین نے عہد کیا کہ نئی دہلی کی جانب سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کاڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔مظاہرین نے بتایا کہ ریاستی عوام آرٹیکل 35Aکے دفاع کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند میں خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی شق 35Aکی سپریم کورٹ میں 6اگست کو ہونے والی سماعت کو لے کر ریاست جموں وکشمیر میں عوام کے اندر اضطراب پایا جارہا ہے جس کو لے کر قبل ہی کشمیر سے وابستہ سبھی سیاسی، تجارتی، سماجی، سیول سوسائٹی انجمنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھرجامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں ایک جلوس برآمد ہوا جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پربی جے پی اور آر ایس ایس مخالف نعرے لگائے۔ انہوں نے بتایا کہ 6اگست کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام کے اندر اضطراب رونما ہوا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کے پیچھے فرقہ پرستوں کے مذموم مقاصد ہیں تاکہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرکے یہاں کی تحریک آزادی پرکاری ضرب لگائی جائے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر بتایا کہ اگر 6اگست کو آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ واقع ہوئی تو ریاست جموں وکشمیر میں کہرام مچ جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دہلی پر عائد ہوگی ۔
اس سے قبل حریت (ع) چیرمین نے میرواعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 6 اگست کو اگر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے 35-A کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے مفادات کے منافی ہو یا مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت و ہیئت یا جموں وکشمیر کی آبادی Demography کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائیگی۔انہو ں نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت(JRL) کی جانب سے اس ضمن میں ایک منظم اور مرتب پروگرام پہلے سے دیا جاچکا ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ صرف JRL کے پروگرام پر من و عن عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں لیکن کشمیر کی متنازعہحیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ ادھر شہر کے آبی گزر علاقے میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق جلوس میں شامل مظاہرین نے آبی گزر بنڈ سے ہوتے ہوئے لعل چوک کی جانب پیش قدمی کی۔ فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک نے لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہند نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی تو ریاست جموں وکشمیر کے لوگ سڑکوں پر آکر کہرام مچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے لوگ یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی اجاز ت نہیں دیں گے۔ یاسین ملک نے بتایا کہ ریاستی عوام اپنی شناخت کو بچانے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے خون کے آخری قطرے تک کو بہادے گی۔ فرنٹ چیرمین نے بتایا کہ 6اگست،جس روز سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہونے جارہی ہے ، اگر یہاں کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاستی عوام سڑکوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ 5اور 6اگست کو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں گے اور یہاں کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اس روز سیول کرفیو منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم ہمارے احتجاج کی گواہ رہنی چاہیے کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام ریاست کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑنی کی کسی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر جلوس میں شامل مظاہرین نے ’جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے‘ کے نعرے بلند کئے۔
اس دوران حریت (گ) جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی کی قیادت میں حیدرپورہ جامع مسجد سے بھی ایک احتجاجی جلو س برآمد ہوا جس مرد و خواتین کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میں شامل مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے بازی کرنے کے علاوہ آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے بلند کئے۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل جامع مسجد حیدرپورہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی سمجھی نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں حقِ خودارادیت کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے بھارتی آئین کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے آئین میں ان تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دفعہ 35A اور دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کشمیر احتجاجی مظاہرہ میں شریک قائدینِ حریت نے اس موقع پر اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی طرف سے یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اِسے ایک ہندو راشٹریہ کے زیرِ تسلط لائے جانے کے مذموم ہتھکنڈوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
قائدین نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مورخہ 5؍اور 6؍اگست کو اپنے تمام کاروباری اور دفتری امورات معطل کرکے سِول کرفیو نافذ کرنے کی تحریک کو اپنا بھرپور تعاون اور حمایت پیش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست جموں کشمیر کو ایک نوآبادیاتی کالونی تصور کرنے کی بھول بھلیوں میں اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ پچھلے 70برسوں سے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور اس دوران بھارت یہاں زمینی سطح پر اپنی فوجی اور سیاسی دھاک بٹھانے میں قطعی طور ناکام ونامراد ہوچکا ہے۔ ادھر سرحدی ضلع پونچھ میں بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کو لے کر زور دار احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ نمائندے کے مطابق جمعہ نماز کے بعد ہی تحصیل منڈی پونچھ میں ایک بڑا جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی مختلف مساجد سے لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت ہند سے ایسی کسی بھی کوشش سے پرہیز کرنے کی اپیل کی جس سے ریاست جموں وکشمیر کے خرمن امن میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔
مظاہرین نے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کیا گیاتو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت ہند پر ہوگی۔ جلو س میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ 6اگست کو ضلع بھر میں مکمل ہڑتال رہے گی جس دوران تمام نجی اور اجتماعی سرگرمیاں معطل رہیں گے۔ KNS
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
