ہندوستان
اب چشمے کی ضرورت نہیں، ہندوستان کے پہلے آئی ڈراپ کوڈرگ ایجنسی کی منظوری
نئی دہلی، ممبئی کی دوا ساز کمپنی اینٹوڈ فارماسیوٹیکل نے اپنے اختراعی پریس وو آئی ڈراپ کے لیے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) سے منظوری حاصل کر لی ہے یہ حصولیابی پریس بائیوپیا کے علاج میں اہم پیش رفت تصور کی جارہی ہے یہ آئی ڈراپ آپ کے پڑھنے کے چشمے کو ہٹا سکتا ہے یہ ڈراپ ان لاکھوں لوگوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے جن کی بینائی دھندلی ہے۔ طبی زبان میں اس دھندلے پن کو پریس بائیوپیا کہتے ہیں۔ اس میں عموماًوہ لوگ مبتلا ہوتے ہیںجو لوگ 40 سال کی عمر کو پار کر چکے ہیں، انہیں اپنے اردگرد کی چیزوں کو دیکھنے میں مشکلہوتی ہے اور آنکھوں کے سامنے دھندلا پن چھاجاتا ہے۔ بائیوپیا آنکھ کے قدرتی لینس کی لچک میں کمی کی وجہ سے بصارت کے قریب دھندلا پن کا سبب بنتا ہے۔یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا آئی ڈراپ ہے، جسے ہندوستان میں بنایا گیا ہے تاکہ لوگ بغیر چشمہ کے پڑھ لکھ سکیں۔کمپنی نے پریس وو (Pressvu)ڈراپ کی تیاری اور عمل کے حوالے سے اس ایجاد کے لیے پیٹنٹ کے لیے بھی درخواست دی ہے۔
اینٹوڈا کا یہ فارمولہ نہ صرف پڑھنے کے چشمے سے نجات دیتا ہے بلکہ مریض کو اضافی فائدہ بھی دیتا ہے۔ جب برسوں تک آئی ڈراپس استعمال کرنے کی بات آتی ہے تو یہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
اس آئی ڈراپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اینٹوڈ فارماسیوٹیکل کے سی ای او مسٹر نکھل کے ماسرکر نے کہاکہ پریس وو ڈراپ کو برسوں کی تحقیق وترقی کے بعد تیارکیا گیا ہے۔ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا(ڈی سی جی آئی) کی جانب سے اس کی منظوری ہندوستان میں آنکھوں کی دیکھ بھال کو تبدیل کرنے کے ہمارے مشن میں ایک بڑا قدم ہے۔یہ ڈراپ صرف ایک پروڈکٹ نہیں، یہ ایسا حل ہے جو لاکھوں لوگوں کو بہتر دیکھنے میں مدد کرکے ان کی زندگیوں کو بہتر بنائے گا۔ہمیں اختراع اور صحت کی دیکھ بھال کے حل فراہم کرنے کے اپنے عزم پر فخر ہے جو قابل رسائی اور سستی ہیں۔
پریس وو کی طبی لیاقت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر دھننجے باکھلے نے کہاکہپریس ویو کی منظوری امراض چشم کے شعبے میں ایک امید افزا کامیابی ہے جوچشمے ضرورت کو ختم کرتا ہے۔مریضوں کے لیے پریس وو ڈراپ کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر آدتیہ سیٹھی نے کہاکہ پریس بائیوپیا کا علاج طویل عرصے سے ریڈنگ گلاسز، کانٹیکٹ لینسز اور جراحی کے اقدامات سے کیا جاتا ہے، لیکن پریس وی یو کے ساتھ اب اس کا موثر طریقے سے علاج کیا جا سکتا ہے، یہ نیا علاج زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کر سکتا ہے۔ دھندلا نظر آنے والے بہت سے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ علامات پر توجہ دیں۔
اگر کام یا دیگر سرگرمیوں میں اچانک دھندلا پن، روشنی کی چمک یا دوہری بینائی ہو تو فوراً طبی مشورہحاصل لیں۔ کمپنی نے بتایا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے سے نسخے پر مبنی ڈراپ فارمیسیوں میں 350 روپے کی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔ یہ دوا 40 سے 55 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے ہلکے سے درمیانی درجہ کے پریس بائیوپیاکے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔یہ پروڈکٹ صرف رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے نسخے پر فروخت کیا جائے گا۔ کمپنی نے جدید ترین پروڈکٹ کے استعمال کے بارے میں ڈاکٹروں کو بریفنگ اور تعلیم دینے کے لیے اپنی فیلڈ فورس کو تربیت دینا شروع کر دی ہے۔خیال رہے کہ اینٹوڈ فارماسیوٹیکل کو پہلے ہی سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈز کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کی سبجیکٹ ایکسپرٹ کمیٹی (ایس ای سی) سے اس آئی ڈراپ کی منظوری مل چکی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔م الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
