جموں و کشمیر
جموں میں جموں و کشمیر میں جاری 5.73 لاکھ ایس ٹی-2 سرٹیفکیٹس میں سے 5.04 لاکھ جاری ہوئے
سری نگر، جموں و کشمیر میں جاری کیے گئے 5,73,667 درج فہرست قبائل-2 (ایس ٹی-2) سرٹیفکیٹس میں سے 5,04,007 سرٹیفکیٹس جموں ڈویژن میں جاری کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 69,660 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو یہ اطلاع دی۔
یہ معلومات جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ، جو محکمہ مال کے وزیر بھی ہیں، نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی نریندر سنگھ رائنا کی جانب سے جموں و کشمیر میں رہنے والے پہاڑی نسلی گروہوں کے اہل افراد کو ایس ٹی-2 سرٹیفکیٹس جاری کیے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
سرکاری جواب کے مطابق، جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 5,73,667 ایس ٹی-2 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں۔
کشمیر ڈویژن میں بارہمولہ میں 29,635، سری نگر میں 46، بڈگام میں 336، پلوامہ میں 836، گاندربل میں 1,018، کولگام میں 347، کپواڑہ میں 34,224، بانڈی پورہ میں 193، شوپیاں میں 1,735 اور اننت ناگ میں 1,290 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر ڈویژن کے مذکورہ اضلاع میں مجموعی طور پر 69,660 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے ہیں۔
جموں ڈویژن میں راجوری سب سے زیادہ 3,01,091 سرٹیفکیٹس کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ پونچھ میں 1,85,435 اور کشتواڑ میں 17,304 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
دیگر اضلاع میں یہ تعداد کافی کم رہی۔ جموں میں 140، ادھم پور میں سات، رام بن میں دو، سانبہ میں ایک اور ڈوڈہ میں تین سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سانبہ کے باری برہمنہ میں فائرنگ، ایک شخص زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع کے باری برہمنہ علاقے میں دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کے بعد فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔
پولیس ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ گزشتہ رات باری برہمنہ کے تارور علاقے میں ایک چائے کی دکان کے قریب کچھ افراد کے ایک گروپ کے درمیان جھگڑا ہوا۔
ذرائع کے مطابق، ’’اس واقعے کے دوران ایک شخص نے مبینہ طور پر دو سے تین راؤنڈ فائر کیے۔‘‘
ذرائع نے بتایا کہ اس فائرنگ میں سانبہ کے وجے پور کے رہائشی 30 سالہ وشال سنگھ عرف وشو کی ٹانگ میں گولی لگی۔
اسے علاج کے لیے اے آئی آئی ایم ایس وجے پور منتقل کیا گیا۔
پولیس نے معاملہ درج کرلیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش شروع کردی ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں عارضی ملازمین کے مستقل کرنے کے لیے فی الحال کوئی مقررہ مدت نہیں: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے میں عارضی، موسمی، کنٹریکٹ، یومیہ اجرت اور ضرورت کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کے مستقل کرنے کے لیے پالیسی کو حتمی شکل دینے کی فی الحال کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی ہے۔
حکومت نے کہا کہ یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور چیف سکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی اس معاملے کا جامع جائزہ لے رہی ہے، جس میں قانونی، انتظامی اور مالی پہلو بھی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی محمد تاریگامی کے اس سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دیں، جس میں ایسے ملازمین کی مستقل کرنے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
حکومت کے مطابق یہ کمیٹی مارچ 2025 میں تشکیل دی گئی تھی اور جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔
کمیٹی کو ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق انسانی، قانونی اور مالی امور کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکومت نے کہا کہ یہ ملازمین مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مختلف اوقات میں الگ الگ شرائط و ضوابط کے تحت ملازمت پر رکھا گیا تھا۔
حکومت نے کہا کہ مجوزہ پالیسی متعلقہ قانونی دفعات، موجودہ قانونی پوزیشن اور مقررہ بھرتی کے طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ اس کے مالی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ’’کمیٹی تمام محکموں میں یکساں طور پر نافذ کیے جانے کے قابل اور انتظامی طور پر قابلِ عمل قانونی فریم ورک تیار کرنے کے لیے جامع جائزہ لے رہی ہے۔‘‘
کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے اور حتمی پالیسی سے متعلق فیصلے کے وقت کے بارے میں حکومت نے کہا کہ وہ اس معاملے کے منظم اور پائیدار حل کی ضرورت سے واقف ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ’’یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور ضروری جائزہ و مشاورت کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، مختلف زمروں کی کثرت اور کسی بھی فیصلے کے قانونی، انتظامی اور مالی اثرات کے پیش نظر اس مرحلے پر کوئی مقررہ مدت بتانا مناسب نہیں ہوگا۔ حکومت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں و حکام سے ضروری معلومات موصول ہونے کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے گی۔‘‘
حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ ایسے ملازمین کے کسی اہل خانہ کے رکن کو ہمدردانہ بنیاد پر ملازمت دینے کی پالیسی کیا ہوگی، جن کی مستقل ہونے کا انتظار کرتے ہوئے موت ہوگئی۔ جواب میں حکومت نے کہا کہ یہ معاملہ کمیٹی کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہے۔
جموں و کشمیر میں تقریباً ایک لاکھ عارضی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین ہیں، جو کئی برسوں سے مستقل ہونے کے منتظر ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی فہرستوں میں ’ردوبدل‘ جاری رہا تو ہندوستان ’بنانا ریپبلک‘ جیسا نظر آ سکتا ہے: محبوبہ مفتی
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں سے نام مبینہ طور پر حذف کرنے اور نام شامل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہندوستان آخرکار ’’بنانا ریپبلک‘‘ جیسی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے ان خبروں پر ردعمل ظاہر کیا کہ دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 اعتراضات ان فیصلوں اور مراسلات پر درج کیے، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی جانکاری یا منظوری کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ نے ہندوستان اور پاکستان کو ’’برادر ممالک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے ہی عوام کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارا ملک ہندوستان، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جب بھی جاتے ہیں تو فخر سے اسے جمہوریت کی ماں قرار دیتے ہیں۔ آج وہ ہندوستانی جمہوریت کی اسی بنیادی بنیاد، یعنی انتخابی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں ’’ردوبدل‘‘ کیا جا رہا ہے اور کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر اسی طرح بی جے پی کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے اور نام شامل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی وقت ہمارا ملک، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، ایک بنانا ری پبلک جیسا نظر آنے لگے گا۔‘‘
پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ پاکستان خود کو بین الاقوامی سطح پر امن قائم کرنے والے اور ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اپنے ملک کے اندر اختلاف رائے کو ’’آہنی ہاتھ‘‘ سے کچل رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں غیر مسلح اور پرامن احتجاج کرنے کے باوجود حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ دنیا بھر میں امن قائم کرنے والے بن کر گھوم رہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں ان خواتین کو ان کے گھروں میں حراست میں لے رہے ہیں جن کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔‘‘ تاہم محبوبہ نے کہا کہ ہندوستان کے ادارہ جاتی نظام میں ایسے لوگوں کی موجودگی جو اقتدار میں موجود افراد سے سوال کر سکتے ہیں، ایک ’’امید کی کرن‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’واحد امید کی کرن جو میں دیکھ سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں اب بھی ہمارے پاس دو ایسے الیکشن کمشنروں جیسے لوگ موجود ہیں جن میں اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کرنے کی ہمت اور دیانت داری ہے۔‘‘ انہوں نے پاکستان کے نظامِ اقتدار میں ایسی ہی آوازوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جو عمران خان کی بہن کی حراست پر سوال اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمارے پاس ان دو الیکشن کمشنروں جیسے لوگ نہ ہوں تو، میں اس وقت ان کا نام نہیں لینا چاہتی، مجھے نہیں معلوم کہ اگر وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا محکمہ انکم ٹیکس کے دفتر چلے جائیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ لیکن اگر ہم اسی طرح جاری رہے تو ایک وقت آئے گا جب ہم ایک بنانا ریپبلک جیسے نظر آئیں گے، یہاں کوئی جمہوریت نہیں رہے گی۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
