تازہ ترین
ارشاد احمد ڈار: پلوامہ سے تعلق رکھنے والا انقلابی آرگینک کاشتکار
سری نگر، (یو این آئی): آرگینگ کاشتکاری لوگوں کو مختلف بیماریوں سے نجات دینے میں ہی کافی حد تک ممد و مددگار ثابت نہیں ہوسکتی ہے بلکہ روز گار کا بھی ایک موثر وسیلہ بن سکتی ہے۔
ان باتوں کا دعویٰ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے آرگینگ کارشتکار ارشاد احمد ڈار کر رہے ہیں جنہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بغیر کوئی وقت ضائع کئے آرگینک کاشتکاری کو اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنایا۔
انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے خصوصی ہفتہ وار پروگرام‘سکون’میں اپنے گفتگو کے دوران کہا:‘اگر لوگ بیماریوں سے نجات پانا چاہتے ہیں روز ڈاکٹروں کے پاس جانے سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو آرگینک کاشتکاری اس کا سب سے اچھا ذریعہ ہے ’۔
ان کا کہنا تھا:‘پرانے زمانے میں اتنی اور اس قدر مہلک بیماریوں کا کوئی وجود نہیں تھا کیونکہ روایتی کاشتکاری کی جاتی تھی اور لوگوں کو صاف و شفاف اور بغیر کسی ملاوٹ کی غذا میسر تھی’۔
موصوف کاشتکار نے کہا کہ فصل اگانے کے لئے استعمال کی جانے والی کھادوں اور دیگر پسٹی سائڈس سے پیداوار میں ضرور اضافہ ہوجاتا ہے لیکن یہ مختلف بیماریوں کا موجب بھیہے۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی کاشتکاری سے پیداوار تھوڑی بہت کم ہوسکتی ہے لیکن اس کے صحت پر منفی اثرات نہیں پڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں ہی گوبر کو ڈی کمپوز کرکے بہترین کھاد تیار کر سکتے ہیں اور ہمیں بازار سے مہنگی کھاد خریدنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
ارشاد احمد نے کہا کہ میں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی آرگینک کاشتکاری شروع کی۔انہوں نے کہا:‘میں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد سال 2010 سے آرگینک کاشتکاری شروع کی یہ ہمارا موروثی کام بھی تھا، آج میں دوسروں کو بھی روز گار دے رہا ہوں اور خود بھی اچھی کمائی کر رہا ہوں ’۔
ان کا کہنا تھا:‘میں نے یہ کام شروع کرنے سے قبل متعلقہ محکمہ اور زرعی یونیورسٹی سے تربیت حاصل کی اور آج میں دوسروں کو بھی اس کاشتکاری کے گُر سکھا سکتا ہوں ’۔
موصوف کاشتکار کا ماننا ہے کہ ایک کنال اراضی پر بھی آرگینک کاشتکاری کرکے کم سے کم دو لاکھ روپیے سالانہ کمائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا:‘جس کے پاس صرف ایک کنال زمین ہے وہ بھی آرگینک کاشتکاری کر سکتا ہے اور اس میں مختلف قسموں کی سبزیاں اگا کر ڈیڑھ سے دو لاکھ روپیے سالانہ کما سکتا ہے ’۔
ان کا کہنا تھا:‘ آج کی زمینداری پرانے زمانے کی زمینداری نہیں ہے آج ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے یہ کام آسان بھی ہوا ہے اور اس میں اب وقت بھی کم صرف ہوجاتا ہے ’۔
ارشاد احمد نے نے کہا کہ حکومت اس سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے بہت کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید کام کرنے کی ابھی بھی گنجائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ورک شاپوں کا انعقاد کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے متعلق زیادہ سے زیادہ جانکاری عام کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وادی کے کاشتکار ابھی بھی اس قسم کی کاشتکاری سے پوری طرح واقف نہیں ہیں لہذا متعلقہ محکمے کو ایک منظم مہم چلانی چاہئے۔
موصوف آرگینک کاشتکار کا کہنا تھا کہ وادی میں شعبہ سیاحت سے بھی شعبہ زراعت و باغبانی اقتصادیات کا بڑا شعبہ ہے اگر اس کو دوام دیا جائے گا تو ہم اپنے مارکیٹ کی تمام ضروریات خود ہی پوری کرسکتے ہیں۔
وادی کے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان آرگینک کاشتکاری کرکے دوسروں کو روزگار دے سکتے ہیں ہمیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان5 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
