ہندوستان
اسٹالن کو سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھنا چاہئے اور تعلیم پر سیاست نہیں کرنی چاہیے: پردھان
نئی دہلی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے قومی تعلیمی پالیسی پر تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ تعلیم پر سیاست نہ کریں اور طلباء کے مفاد میں سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر فیصلے کریں مسٹر پردھان نے آج مسٹر اسٹالن کی جانب سے قومی تعلیمی پالیسی کی مخالفت کے بعد ایک خط میں یہ بات کہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط کا اشتراک کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا “کسی ریاست کے لیے یہ انتہائی نامناسب ہے کہ وہ قومی تعلیمی پالیسی کو تنگ نظری سے دیکھے اور سیاسی نظریے کو برقرار رکھنے کے لیے دھمکیوں کا استعمال کرے۔
حکومت تمل ثقافت اور زبان کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور اسے مقبول بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ میں مودبانہ اپیل کرتا ہوں کہ تعلیم پر سیاست نہ کریں اور اپنے طلباء کے بہترین مفاد میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کام کریں۔
مسٹر پردھان نے خط میں لکھا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ریاستی حکومت سیاست سے اوپر اٹھکر ایسی پالیسیوں پرترجیح دے جو ہمارے طلباء کو علم، ہنر اور مستقبل کے مواقع کے ساتھ بااختیار بنائے۔ قومی تعلیمی پالیسی صرف ایک اصلاحات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تبدیلی کا وژن ہے جو ہندوستان کے تعلیمی نظام کو عالمی معیار تک بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہمارے لسانی اور ثقافتی تنوع کو محفوظ اور مضبوط کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت تمل زبان اور ثقافت کو مقبول بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمل زبان ابدی ہے اور تمل ثقافت عالمی ہے۔ حکومت تمل زبان اور ثقافت کو مقبول بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
مسٹر پردھان نے کہا کہ یہ قومی افتخار کی بات ہے کہ تمل دنیا کی قدیم ترین کلاسیکی زبانوں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کی قدیم ترین زبان ہے۔ مسٹر سبرامنیا بھارتی کے یوم پیدائش کی یاد میں، ہم نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہندوستانی زبان کے تہوار منانا شروع کر دیے ہیں ، جس میں پچھلے سال پندرہ روزہ تقریبات میں کروڑوں طلباء، اساتذہ، ماہرین تعلیم، عوامی رہنماؤں اور دیگر لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات قومی اور عالمی سطح پر تمل کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے 8ویں شیڈول میں شامل تمام ہندوستانی زبانوں کو ہندوستانی زبانیں مانتے ہیں اور اسی کے مطابق تمل کو اہمیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی ریاست یا کمیونٹی پر کوئی زبان مسلط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ قومی تعلیمی پالیسی لسانی آزادی کے اصول کو برقرار رکھتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ طلباء اپنی پسند کی زبان میں سیکھتے رہیں۔ درحقیقت، اس پالیسی کا ایک اہم مقصد تمل سمیت ہندوستانی زبانوں کی تعلیم کو بحال کرنا اور مضبوط کرنا ہے، جو کہ دہائیوں کے دوران رسمی تعلیم میں دھیرے دھیرے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
انہوں نے تین زبانوں کی پالیسی کے اہم نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ 1968 سے ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے، یکے بعد دیگرے تعلیمی پالیسیوں کا حصہ ہونے کے باوجود، اس پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اسکولوں میں ہندوستانی زبانوں کی منظم تعلیم میں کمی واقع ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کا نتیجہ غیر ملکی زبانوں پر حد سے زیادہ انحصار کی صورت میں نکلا ہے، جس سے طلباء کا ان کی اپنی لسانی جڑوں سے رابطہ محدود ہو گیا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی اس تاریخی ناکامی کو درست کرنے کے لیے اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تمل سمیت ہر ہندوستانی زبان کو تعلیم میں اس کا مناسب مقام ملے۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر اسٹالن نے تین زبانوں کے فارمولے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مہنگائی، بڑھتے گھریلو اخراجات پر جے رام رمیش کا حکومت پر شدید حملہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بالخصوص تہواروں کے موسم میں عام خاندانوں پر مہنگائی کے بڑھتے بوجھ پر کب براہ راست بات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مسلسل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے اور کہا کہ مہنگائی اب صرف کھانے پینے کی اشیاء اور باورچی خانے کے ضروری سامان تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ”تہواروں کے موسم میں عوام کی جیبیں لوٹنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مہنگائی کا درد اب باورچی خانے تک محدود نہیں رہا، لیکن وزیر اعظم بے حسی کے ساتھ ڈھول بجا رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے حکومت کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اگست کے مہینے میں پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کی مہنگائی اگست میں بڑھ کر 48.27 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں یہ 22.54 فیصد تھی۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”سبزیاں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، اور پیاز کی مہنگائی اگست میں 48.27 فیصد تک پہنچ گئی،“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایئر کنڈیشنر، ٹیلی ویژن اور ریفریجریٹر جیسی مصنوعات مزید مہنگی ہونے والی ہیں اور اس صورتحال کو گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے جوڑا۔
انہوں نے سوال کیا، ”ایسے حالات میں ایک عام خاندان اپنی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟“
مسٹر رمیش نے مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وزیر اعظم باقاعدگی سے مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن مہنگائی اور خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ پر اس طرح کی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا، ”وزیر اعظم ’من کی بات‘ لڑی میں مختلف مسائل پر نیحتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ملک کے سب سے اہم مسئلے مہنگائی پر کب بولیں گے؟ وہ عوام کے لیے تشویش کا اظہار کب کریں گے؟“
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ عام لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ حکومت مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ایک عام خاندان اپنا بجٹ کیسے سنبھالے؟ متوسط طبقہ اور غریب کب تک پستے رہیں گے؟“
کھانے پینے کی مختلف اشیاء پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔ جہاں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، وہیں اگست میں لہسن کی مہنگائی 43.60 فیصد اور ادرک کی مہنگائی 73.82 فیصد رہی۔ اس کے برعکس، ٹماٹر کی قیمتوں میں سال بہ سال 31.09 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں 13.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مسٹر رمیش کے یہ تبصرے تہواروں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں، گھریلو بچت، مقروضیت اور صارفین پر مہنگائی کے وسیع تر اثرات پر نئے سرے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سوال پوچھنے پر اپوزیشن پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ای ڈی-سی بی آئی) اور عوام پر تھپڑ، لاٹھی نیز گولی کا استعمال کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی لوگوں کے سوالوں سے اس قدر گھبرا گئی ہے کہ ‘ناراض پھوپھا’، ‘دماغی نکسل’ اور ‘آندولن جیوی’ جیسے نازیبا الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست تشدد پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر نوجوان کو تھپڑ مار رہے ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ اس سے پہلے کسانوں کو بی جے پی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے نے گاڑی سے کچلا، ایک مرکزی وزیر نے ‘گولی مارو…’ کہا، کسان تحریک میں ربر کی گولیاں چلیں اور 750 کسانوں کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے گئے، لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ اقتدار کا غرور جب عروج پر ہوتا ہے، تو لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال اور تذلیل عادت بن جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس صرف پالیسیوں سے ہی جمہوریت نہیں کچل رہے ہیں، بلکہ اب لاٹھی ڈنڈے تان کر عوام پر براہ راست حملہ کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا، کہا ان کی بہادری ہندوستانی نوجوانوں کو مسلسل تحریک دیتی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو انقلابی مجاہد آزادی شہید بھگت سنگھ کے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان کی ناقابل تسخیر ہمت اور بہادری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو نئی رفتار دی اور ملک کے لیے ہر قربانی دینے کا ان کا جذبہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت اور عزم کی لازوال علامت ہے۔
مسٹرمودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ‘شہید بھگت سنگھ کو ان کے یوم پیدائش پر میرا دلی سلام۔ انہوں نے اپنی ناقابل تسخیر ہمت اور بہادری کے ذریعے آزادی کی تحریک کو نئی رفتار دی۔
ملک کے وقار کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا ان کا جذبہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت اور عزم کی علامت ہے۔’
وزیر اعظم کے پیغام میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد میں بھگت سنگھ کی لازوال میراث اور ہندوستانی نوجوانوں کی نسلوں پر ان کے مسلسل اثر کو اجاگر کیا گیا۔
ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی وابستگی، انقلابی نظریات اور ملک کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی آمادگی نے انہیں قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے نمایاں مقام عطا کیا۔
اپنے خراج عقیدت کے ذریعے مسٹر مودی نے بھگت سنگھ کی قربانی اور عزم کے جذبے کو ہندوستانی نوجوانوں کے لیے دیرپا تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔
یو این آئی ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
دنیا7 days agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
