ہندوستان
اقوام متحدہ کے امن مشن میں خواتین امن بردار دستوں کا کردار منفرد ہے: جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں خواتین امن بردار دستوں کی تعیناتی کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ خواتین امن دستوں کی مقامی کمیونٹیوں تک منفرد رسائی ہے اور وہ تنازعات والے علاقوں میں خواتین کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتی ہیں، اس طرح امن مشن کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر جئے شنکر نے یہاں وزارتِ دفاع اور مرکز برائے اقوام متحدہ پیس کیپنگ ( سی یو این پی کے ) کے تعاون سے وزارت خارجہ کے زیر اہتمام گلوبل ساؤتھ کی خواتین امن برادر فوجوں کے لیے پہلی کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس منگل کو وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ کے خطاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ خواتین امن دستوں کی اس کانفرنس میں ہماری توجہ عالمی جنوبی تناظر پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق قرارداد 1325 کی منظوری کو 25 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ کانفرنس نہ صرف اب تک ہونے والی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ امن اور سلامتی میں خواتین کے کردار کو بڑھانے اور اسے بااختیار بنانے کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کی بھی تصدیق کرتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ کے قیام امن میں اپنی شراکت اور تعاون پر فخر ہے، یہ عہد کئی دہائیوں پرانا ہے۔ 1950 کی دہائی سے ہندوستان نے 50 سے زیادہ مشنوں میں 290,000 سے زیادہ امن بردار فوجیوں کا تعاون کیا ہے۔ درحقیقت، ہندوستان آج بھی سب سے زیادہ فوج دینے والا ملک ہے۔ فی الحال پانچ ہزار سے زیادہ ہندوستانی امن بردار دستے گیارہ میں سے نو فعال مشنوں میں تعینات ہیں جنہیں چیلنجنگ اور مخالف ماحول کا سامنا ہے۔ ان کی ایک ہی توجہ ہے: عالمی امن اور سلامتی کی ترقی۔
انہوں نے کہا کہ اس کوشش میں ہندوستان نے بدقسمتی سے تقریباً 180 امن دستوں کو کھو دیا ہے جن کی عظیم قربانی ہماری اجتماعی کوششوں کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے لکھی جائے گی۔ ایسے ہی ایک آدمی، کیپٹن گربچن سنگھ سلاریا، جنہیں کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن کے دوران ان کی ہمت کے لیے بعد از مرگ پرم ویر چکر سے نوازا گیا، وہ اب بھی متاثر کن ہیں۔ بیرون ملک آپریشنز کے لیے دیے جانے والے اس اعلیٰ ترین اعزاز کا یہ ایک منفرد معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور پولیس دونوں میں امن فوج کے کرداروں میں خواتین کو تعینات کرنے میں ہندوستان سب سے آگے رہا ہے۔ اس سفر کا پہلا باب 1960 کی دہائی میں شروع ہوا، جب ہندوستانی خواتین کانگو میں بطور میڈیکل آفیسر تعینات تھیں۔ 2007 میں، ہندوستان پہلا ملک تھا جس نے لائبیریا میں تمام خواتین پولیس یونٹ تعینات کیے۔ اس اہم اقدام کا میزبان برادری اور اقوام متحدہ کے وسیع تر فریم ورک دونوں پر دیرپا اثر پڑا۔ کئی برسوں کے دوران، اس اقدام نے لائبیریا کی خواتین کو بااختیار بنایا ہے، جس سے سیکورٹی کے شعبوں میں ان کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ آج، ہندوستان فخر کے ساتھ اس وراثت کو جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں 150 سے زیادہ خواتین امن دستوں کو چھ اہم مشنوں میں تعینات کیا گیا ہے، جن میں کانگو، جنوبی سوڈان، لبنان، گولان ہائٹس، ویسٹرن صحارا اور ابی شامل ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے بہت سی مثالی خواتین امن بردار فوج پیدا کی ہے جنہوں نے عالمی سطح پر دوسروں کو متاثر کیا ہے۔ ڈاکٹر کرن بیدی، جنہوں نے پہلی خاتون یو این پولیس ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دیں، میجر سمن گوانی اور میجر رادھیکا سین، بالترتیب 2019 اور 2023 میں یو این ملٹری جینڈر ایڈووکیٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے، اور محترمہ سیما دھونڈیا، جنہوں نے سب سے پہلے تمام خواتین کی تشکیل کردہ پولیس یونٹ کی قیادت کی، لائبیریا میں ان چند دوسرے لوگوں کی پیروی کرنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان پختہ یقین رکھتا ہے کہ امن کی حفاظت بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ سال خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ دو اہم واقعات رونما ہوں گے: برلن میں امن سازی کا وزارتی اجلاس اور نیویارک میں امن سازی کے منصوبے کا جائزہ۔ آج یہاں ہونے والی بات چیت ان عمل کے نتائج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ امن مشن میں خواتین کی شرکت اسے مزید متنوع اور جامع بناتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم قیام امن میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھاتے رہیں۔ یہ صرف مقدار کا نہیں معیار کا بھی ہے۔ خواتین امن بردار دستوں کو اکثر مقامی کمیونٹیز تک منفرد رسائی حاصل ہوتی ہے، جو تنازعات والے علاقوں میں خواتین کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ایسے ماڈیولز کو شامل کرنے کے لیے تیار کیے گئے تربیتی کورس جو امن دستوں کو خواتین سے متعلق مسائل کے بارے میں حساس بناتے ہیں، امن کی کارروائیوں کی کارکردگی میں اضافہ کریں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان عالمی جنوبی ممالک کی امن بردار فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اقوام متحدہ کے مرکز برائے امن کے زیرقیادت اقدامات کے ذریعے، ہندوستان تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگرام پیش کرتا رہے گا، بشمول خاص طور پر خواتین امن فوجیوں کے لیے تیار کیے گئے کورسز، جیسا کہ ہم نے 2023 میں آسیان ممالک کے ساتھ کیا تھا۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا، “ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز امن برقرار رکھنے کے لیے ہماری وابستگی ہے – جس کی جڑیں بات چیت، سفارت کاری اور تعاون پر مبنی ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
