دنیا
امریکہ اپنے وعدے پورے کرے تو ایران ’’فوری جواب دے گا‘‘: پزیشکیان
بشکیک (کرغزستان)، ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر امریکہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو ایران بھی ’’فوری جواب‘‘ دے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معاہدے پر دستخط ہونے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں واشنگٹن پر اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 26ویں سربراہی اجلاس سے بشکیک میں خطاب کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا کہ ایران کا اپنے بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کا ’’شاندار ریکارڈ‘‘ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یک طرفہ اقدامات، فوجی طاقت کا استعمال، غیر قانونی پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی مسابقت علاقائی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پزیشکیان نے ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’13 جون 2025 اور 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں، بین الاقوامی قانون، طاقت کے استعمال کی ممانعت کے اصول اور زندگی کے حق کی واضح خلاف ورزی تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران، لبنان، غزہ اور مغربی کنارے سمیت پورے مغربی ایشیا میں ہونے والے واقعات نے طاقت اور دباؤ پر مبنی طرزِ عمل کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔
پزیشکیان کے مطابق ایران پر ہونے والے حملوں میں مینا ب کے ایک اسکول اور فارس صوبے کے لامِرد میں ایک اسٹیڈیم پر حملے بھی شامل تھے، جن میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ 40 روزہ جنگ کے پہلے دن کے بڑے جرائم کی صرف تین مثالیں تھیں۔ اس بربریت کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی مسلح افواج کی طاقت اور عوام کی حمایت کے بل پر امریکہ اور قابض حکومت کو بھاری اسٹریٹجک شکست دی۔‘‘
یزیشکیان نے کہا کہ یہ حملے ایس سی او کے ایک رکن ملک اور ایک قدیم تہذیب پر حملہ تھے۔ انہوں نے ان رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جارحیت کی مذمت کی اور تہران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 40 روزہ مزاحمت کے بعد بالآخر جنگ بندی عمل میں آئی اور امریکہ اپنے پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایرانی صدر کے مطابق اس کے بعد پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تین ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’تاہم، صدر کی جانب سے دستخط کیے گئے اس دستاویز کے حوالے سے امریکی عزم دو ہفتے سے بھی کم عرصے تک قائم رہا اور امریکہ نے اپنے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا، جو اب بھی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ امریکی وعدوں کی خلاف ورزی کا ایران نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ہے۔ لیکن میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر امریکہ مفاہمتی یادداشت میں اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی طرح جواب دے گا۔ امریکہ کے برعکس، بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔‘‘
یزیشکیان نے سلامتی اور اقتصادی معاملات میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر جرائم اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کو خطے کے اہم خطرات قرار دیا۔ ایرانی صدر نے ایس سی او کے اندر متعدد اقتصادی اقدامات کی تجویز بھی پیش کی، جن میں مالیاتی اور بینکاری تعاون کو مزید گہرا کرنا، ’’ایس سی او بینک‘‘ کا قیام، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے انشورنس یونین اور ’’ایس سی او انرجی کنسورشیم‘‘ کا قیام شامل ہے۔
سلامتی کے شعبے میں انہوں نے تنظیم کے اندر ایک ’’اسٹریٹجک سکیورٹی اسٹڈیز سینٹر‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جو ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرنے اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کر سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کے قریب بیلسٹک میزائل داغے: سیئول
سیئول، جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً 5:20 بجے (جمعہ کو 20:20 جی ایم ٹی) شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے وونسان سے متعدد میزائل داغے گئے، جنہوں نے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) کا فاصلہ طے کیا۔ جے سی ایس نے کہا کہ وہ میزائل تجربات کے حوالے سے امریکہ اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سکیورٹی آفس نے میزائل داغے جانے کے بعد وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ہنگامی سکیورٹی اجلاس منعقد کیا۔
امریکی پیسفک کمانڈ نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل داغے جانے کے واقعے سے امریکی سرزمین یا اس کے اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔ کمانڈ نے کہا کہ واشنگٹن جنوبی کوریا اور خطے میں اپنے دیگر اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کی جانب سے شمالی کوریا پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ روزہ مشترکہ بحری مشقیں ختم کیے جانے کے ایک روز بعد کیا گیا۔
پیر کو مشقوں کے آغاز کے چند گھنٹے بعد شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے ان مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا اپنی طاقت کے نقطۂ نظر سے ”مضبوط اور مؤثر جوابی اقدامات“ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ماہ کے اواخر میں بھی شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ہونے والی نام نہاد ”فریڈم ایج“ مشقوں کے منصوبوں کو پیانگ یانگ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ”خطرہ“ قرار دے کر سخت تنقید کی تھی۔
شمالی کوریا نے 20 اگست کو بھی سمندر کی جانب متعدد میزائل داغے تھے، حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
جوہری ہتھیار رکھنے والے شمالی کوریا کی اگست میں میزائل لانچنگ ایسے وقت ہوئی تھی جب جنوبی کوریا اور امریکہ نے اپنی سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقوں کا محدود پیمانے پر انعقاد کیا تھا۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے مشقوں کا دائرہ کم کرنے کے حکم کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے ان مشقوں کو شمالی کوریا کے خلاف ”نامناسب اور معاندانہ“ قرار دیا تھا، جس سے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔
پیانگ یانگ طویل عرصے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی مذمت کرتا آیا ہے اور انہیں شمالی کوریا پر حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔ شمالی کوریا اکثر ایسی مشقوں کے دوران یا ان کے آس پاس میزائل تجربات کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق اپنی حکومت کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ‘چین کے خلاف’ حفاظتی اقدامات کو نافذ کیا ہے۔
انہوں نے جمعہ کو شائع ہونے والے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اے آئی کے لیے حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں، جب کہ چین میں صدر شی جن پنگ کا اس ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ کنٹرول ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ چین کے ساتھ اے آئی ریس جیتنے اور ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں فکر مند امریکیوں کو یقین دلانے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، مسٹر ٹرمپ نے انتھروپک کو ایک مثال دیتے ہوئے کہا، “انہوں نے تین ماہ قبل کچھ کیا جو بہت برا تھا۔ ہم نے انہیں فوری طور پر روک دیا۔”
اس سال کے شروع میں، ٹرمپ انتظامیہ نے انتھروپک کو امریکی حکومت کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا، اور اسے سیکیورٹی رسک قرار دیا۔ تاہم گزشتہ ماہ ایک وفاقی جج نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا، “ہمارے پاس حفاظتی اقدامات ہیں۔ سب سے بڑا تحفظ ایسے لوگوں کا ہونا ہے جو اتنے ہی ذہین ہوں، کیونکہ کوئی بھی اس بات کو نہیں سمجھتا، سوائے اس کے کہ آپ کا آئی کیو زیادہ ہو۔” مسٹر ٹرمپ نے کہا۔
چین کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “چین کے پاس حفاظتی اقدامات نہیں ہیں، ویسے… صدر شی حفاظت ہیں، میرا مطلب ہے، آپ چین میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔”
مسٹر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ امریکہ تکنیکی مقابلے میں آگے ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم چین سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم جیت رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، اے آئی میں، ہم چین کے خلاف جیت رہے ہیں۔”
انہوں نے اے آئی کے ارد گرد کے داؤ کو بڑے پیمانے پر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “انٹرنیٹ سے بڑا” اور “شاید” صنعتی انقلاب سے بڑا ہے۔
انہوں نے کہا”یہ ہو سکتا ہے اور ہمیں تقریباً ایک سال میں پتہ چل جائے گا۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی چیز ہو سکتی ہے اور یہ زیادہ تر اچھے کے لیے ہے،”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحل پر مکمل کنٹرول، سعودی تیل پائپ لائن بند
صنعا، ایران نواز حوثی فورسز نے یمنی حکومتی فورسز کے خلاف تیز رفتار پیش قدمی کے بعد یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
سعودی عرب نے عراق سے بھیجے گئے ڈرونز کے ذریعے اپنی اہم ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے بطور ”احتیاطی اقدام“ معطل کردیا ہے۔ تاہم ریاض نے فوری جوابی کارروائی سے گریز کیا ہے تاکہ عراقی حکام کو مزید حملے روکنے کے لیے اقدامات کا موقع دیا جاسکے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حملے کا عراق سے کیا جانا ثابت ہونے کے بعد انہوں نے ایک علاقائی فوجی کمانڈر کو بھی عہدے سے برطرف کردیا۔
دوسری جانب ایران سے توقع ہے کہ وہ پیر کو عمان میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ ملاقات میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی، جس کا مقصد خطے میں سکیورٹی کو فروغ دینا ہے۔
ایک سیٹلائٹ تصویر میں 10 ستمبر کو سعودی عرب کے حجاز خطے میں مدینہ کے جنوب میں ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کے قریب سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا ہے۔ تاہم سعودی حکام یا سعودی آرامکو نے فوری طور پر اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز دونوں میں بڑھتی کشیدگی عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم خطرہ بن رہی ہے۔ حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحل پر کنٹرول اور سعودی تیل کی بڑی پائپ لائن پر حملہ خطے میں جاری ایران-امریکہ کشیدگی کے وسیع تر اثرات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
کھیل1 week agoورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
