جموں و کشمیر
کشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
سرینگر، وادی کشمیر میں جنگلی سوروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے سائنسدانوں نے جینیاتی تحققی کام شروع کر دیا ہے۔
شیرِ کشمیر زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کشمیر (ایس کے یو اے ایس ٹی-کے) کے وائلڈ لائف سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر خورشید احمد نے بتایا کہ جانور کا ایک نمونہ پہلے ہی جمع کر لیا گیا ہے۔ اب جموں اور ہندوستان کے اہم حصوں میں پائی جانے والی جنگلی سوروں کی آبادی کے ساتھ ان کے تعلق کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی تجزیہ کیا جائے گا۔
مسٹر خورشید نے یو این آئی کو بتایا، “ہم جینیاتی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کا تعلق اہم آبادی (جموں یا ہندوستان کے اہم حصے کی آبادی) سے ہے یا پھر ان کا تعلق کشمیر کے دوسری طرف یعنی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار کی آبادی سے ہے۔”
یہ مطالعہ کشمیر میں اس نوع کی موجودگی کو لے کر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ہو رہا ہے کیونکہ وادی کے کئی علاقوں میں کسان زراعت اور سبزیوں کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ جنگلی سور کو کشمیر کا مقامی جانور نہیں مانا جاتا ہے اور 1980 کی دہائی میں اس علاقے میں انہیں مقامی طور پر معدوم قرار دے دیا گیا تھا۔ مسٹر خورشید کے مطابق اس نوع کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں شکار کے مقصد سے کشمیر لایا گیا تھا، خاص طور پر داچی گام نیشنل پارک کے آس پاس کے جنگلات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں۔ داچی گام میں تین جنگلی سور 2013 میں دوبارہ دیکھے گئے تھے۔ اس سے پہلے 1984 میں اس نوع کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔
آبادی کے ساتھ ان کے تعلقات کی جانچ کی جائے گی اور اس کے بعد پورے کشمیر میں جنگلی سوروں کی آبادی کا جینیاتی تخمینہ لگایا جائے گا۔ اس تحقیق سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ کشمیر کے الگ الگ حصوں میں پائے جانے والے جانور ایک ہی، باہم جڑی ہوئی آبادی کا حصہ ہیں یا الگ الگ آبادی ہیں۔ اس سے جین کے بہاؤ، نقل و حرکت کے انداز اور وادی میں اس نوع کی توسیع کے بارے میں بھی معلومات مل سکتی ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
بڈگام میں رشوت لیتے پٹواری کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا
سری نگر، جموں و کشمیر میں انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جمعہ کو بڈگام ضلع میں ایک پٹواری کو محصولاتی ریکارڈ کی تفصیل ’فرد‘ جاری کرنے کے بدلے شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
ملزم کی شناخت بشیر احمد ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو تحصیل خانصاحب کے واٹر ہیل علاقے میں حلقہ گنڈ علی نائک کا پٹواری ہے۔
اے سی بی ذرائع کے مطابق ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پٹواری نے ’فرد‘ جاری کرنے کے لیے شکایت کنندہ سے رشوت طلب کی تھی۔ شکایت کنندہ نے اپنے دادا کی جانب سے 21 جولائی، 2026 کو محصولاتی دستاویز کے لیے آن لائن درخواست دی تھی۔ اس کے بعد درخواست کی صورتحال جاننے کے لیے پٹواری سے رابطہ کیا۔
الزام ہے کہ ملزم نے محکمہ محصولات کے آن لائن پورٹل میں تکنیکی خرابی کا حوالہ دیا اور بعد میں مختلف بہانے بنا کر معاملے میں تاخیر کرتا رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ پٹواری نے ابتدا میں 12000 روپے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر بات چیت کے بعد معاملہ 10000 روپے میں طے ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جانچ میں الزام پہلی نظر میں درست پایا گیا۔ اس کے بعد بیورو نے اے سی بی پولیس اسٹیشن سری نگر میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون، 1988 کی دفعہ 7 کے تحت ایف آئی آر درج کی اور جانچ شروع کی۔ ایک جال بچھانے والی ٹیم تشکیل دی گئی، جس کے بعد ملزم کو شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے کی رشوت مانگتے اور لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔
آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے پاس سے رشوت کی رقم برآمد کی گئی اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کولگام میں پولیس نے پانچ سال سے گرفتاری سے بچنے والے مفرور کو گرفتار کرلیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے کولگام ضلع میں پولیس نے جمعہ کو ایک ایسے مفرور شخص کو گرفتار کرلیا جو گزشتہ پانچ برس سے گرفتاری سے بچ رہا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ کولگام کے اوکے علاقے کے رہنے والے محمد اسحاق شیخ کو پولیس اسٹیشن کولگام میں درج کیس ایف آئی آر نمبر 152/2021، این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 اور 29 کے تحت مطلوب تھا۔
پولیس کے مطابق مخصوص اطلاع ملنے کے بعد مفرور شخص کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے کہاکہ ’’مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کولگام کی ایک ٹیم نے سخت کوششوں کے بعد مذکورہ مفرور کو کولگام سے گرفتار کرلیا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ملزم کو سیشن کورٹ کولگام میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے سینٹرل جیل کوٹ بلوال، جموں بھیج دیا گیا ہے۔‘‘
پولیس نے کہا کہ وہ تمام مفرور افراد اور جرائم میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ کوئی بھی قانون سے بچ نہ سکے۔
یواین آئی۔ طا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق کے کشمیر کے لوگوں کی غربت سے متعلق بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما کے بیان میں تاریخی اعتبار سے کوئی غلطی نہیں ہے اور انہیں نہ معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کی۔
تنویر صادق نے 8 ستمبر کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت کشمیر کے لوگ اتنے غریب تھے کہ ’’پورا محلہ ایک ہی پاجامہ (پتلون) بانٹ کر پہنتا تھا۔‘‘
اس بیان پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنقید کی تھی۔ دونوں جماعتوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ شیخ عبداللہ اور لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں ان کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے کشمیریوں کو انتہائی غریب کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
تنویر صادق کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ غربت کا حوالہ تاریخی بیانات اور ریکارڈ پر مبنی تھا اور این سی کے ترجمان نے اسے خود سے ایجاد نہیں کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’تنویر نے ایسی کون سی بات کہی جو تاریخی طور پر درست نہیں ہے؟ والٹر لارنس نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بہت سے دیگر مورخین نے بھی جموں و کشمیر اور خاص طور پر کشمیریوں کی غربت کے بارے میں لکھا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے تاریخی طور پر زائل داروں، چک داروں اور زمینداروں پر مشتمل نظام کے تحت مشکلات برداشت کیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے پاس مناسب مالی وسائل نہیں تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ اور تنویر نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ این سی کے سینئر رہنماؤں، بشمول پارٹی صدر اور جنرل سکریٹری، نے بھی ماضی میں کشمیر میں موجود انتہائی غربت کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنویر صادق کے بیان کا مقصد کشمیر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرنا تھا، جہاں اب خاندان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنتے دیکھ سکتے ہیں۔
عمر نے کہاکہ ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے،‘‘ اور مزید کہا کہ تنویر صادق نے کچھ غلط نہیں کہا۔
عمر عبداللہ نے اس تنازع پر بی جے پی اور پی ڈی پی پر سیاسی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’تو بی جے پی اور پی ڈی پی مل کر میچ کھیل رہے ہیں۔ آپ دیکھیں، ان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے تنویر صادق یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے معافی یا وضاحت پیش کرنے کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ’’تنویر کو اس معاملے پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی نے بدھ کو تنویر صادق کے بیان کے خلاف کشمیر کے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
ہندوستان7 days agoمودی حکومت نے تعلیمی نظام کو معذور بنا دیا : کھرگے
