ہندوستان
آفات کے بندوبست میں ‘راحت اور بچاؤ’ سے ‘روک تھام’ تک پہنچا ہندوستان، اب ‘زیرو کیژولٹی’ ہدف: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک کا ڈزاسٹر مینجمنٹ راحت اور بحالی پر مرکوز نظام سے آگے بڑھ کر خطرے کو کم کرنے، پیشگی اطلاع اور ‘زیرو کیژولٹی’ (صفر جانی نقصان) کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث مستقبل میں آفتوں کے بڑھنے اور نئی شکلیں سامنے آنے کا اندیشہ ہے، ایسے میں تحقیق، پیشگی تیاری اور ‘ہول آف گورنمنٹ’ نقطہ نظر کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ امت شاہ نے یہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم) کے انسٹی ٹیوٹ باڈی کی تیسری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ہر آفت کے بعد نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، این آئی ڈی ایم، نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی مشترکہ ٹیم سے نقصان کی وجوہات کا مطالعہ کرنے اور تفصیلی رپورٹ تیار کرانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے این ڈی ایم اے اور این آئی ڈی ایم سے ملک بھر کے لیے ایسا واضح رہنما ہدایت نامہ (گائیڈ لائنز) تیار کرنے کو کہا، جس میں ہر آفت کے دوران کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا ہے اور کس طرح کارروائی کرنی ہے، اس کی معلومات ہو۔ این آئی ڈی ایم تربیت نیز این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیوں کے زمینی نفاذ پر توجہ دیں گی۔
وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ شعبوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے اور محکمہ جات کے سربراہان کے ذریعے کم از کم ہر تین ماہ میں جائزہ لینے کو کہا۔ انہوں نے بیرونِ ملک ہو رہی ڈزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تحقیق اور بہترین اقدامات کو ہندوستانی حالات کے مطابق اپنانے پر بھی زور دیا۔ محکمہ زراعت کو پاکستان کی طرف سے آنے والے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے مستقل تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔
امت شاہ نے کہا کہ آفت کی روک تھام کا سب سے موثر ذریعہ ماحولیاتی تحفظ ہے۔ ‘مشن لائف’، ‘پرو پلینٹ پیپل’ اور انٹرنیشنل سولر الائنس جیسے اقدامات کو انہوں نے آفت کے خطرے کو کم کرنے کی جامع حکمتِ عملی سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ‘زیرو کیژولٹی’ کا مطلب صرف آفت کے دوران جان بچانا نہیں، بلکہ آفت کے اندیشے کو پہلے ہی کم کرنا اور اسے روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً چار گنا اور نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ میں دو دہائیوں بعد ترمیم، شہری ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام، قومی و ریاستی سطح پر ڈیجیٹل ڈزاسٹر ڈیٹا بیس کا آغاز اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کو قانونی درجہ دینے کو انہوں نے نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے طور پر گنایا۔ اس مدت کے لیے 16ویں فنانس کمیشن نے بھی تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کو تحقیق، جدت طرازی، تربیت، پالیسی معاونت اور محکماتی تعاون کا قومی مرکز بناتے ہوئے اسے عالمی سطح کا ادارہ بنانا ہے۔ اس کے لیے حکومت نے حال ہی میں چار ایکڑ زمین بھی مختص کی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی تعاون ضروری ہے، لیکن ترجیح ملک کے پانچ لاکھ دیہاتوں اور شہروں کو آفت سے محفوظ بنانا ہونی چاہیے۔ انہوں نے این آئی ڈی ایم کی کم از کم سال میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ لازمی طور پر منعقد کرنے کی ہدایت دی، تاکہ فیصلوں کا موثر نفاذ یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کے ذریعے علم کو صلاحیت میں، صلاحیت کو تیاری میں اور تیاری کو نتائج میں بدل کر ‘زیرو کیژولٹی’ کے ہدف کی طرف بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
