دنیا
امریکہ نے ایران پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ دمشق حملے میں ملوث نہیں ہے :وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے جمعرات کو معمول کی بریفنگ میں کہا ہے ہم نہیں چاہتے یہ تنازعہ پھیلے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران دمشق میں اپنے قونصل خانے پر حملے کو خطے میں تنازعہ بڑھانے یا امریکی تنصیبات یا عملے پر حملے کے بہانے کے طور پر استعمال نہ کرے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرن یاں پئیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ دمشق حملے میں ملوث نہیں ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ایران نے واشنگٹن کو اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے شامی سفارت خانے پر اسرائیل کے حملے کا جواب دے گا، وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکہ کے “آہنی” عزم کی تصدیق کی ہے۔
العربیہ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہےکہ واشنگٹن کو ایران کا پیغام ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اتوار (7 اپریل) کو ریاست عمان کے دورے کے دوران پہنچایا، جس نے کئی بار تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی معمول کی بریفنگ پریس سیکرٹری کیرن یاں پئیر سے اس بارے میں متعدد سوال پوچھے گئے۔
ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ ایران اسرائیل کے خلاف ایک بڑے حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔ خطے میں امریکی اثاثوں کی موجودگی میں، امریکہ اس کا کس طرح جواب دینے کے لیے تیار ہے؟
جین پیئر نے صدر بائیڈن کی بدھ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے یقینی طور پر ان دھمکیوں کے بارے میں امریکہ کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ ایران اپنے قونصل خانے پر حملے کے جواب میں اسرائیل کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے اور اسرائیل کے لیے ہماری امداد اور عزم آہنی ہے۔ وہ دورے پر آئے جاپان کے وزیرِ اعظم فومیو کیشیدا کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پیئر نے کہا صدر بائیڈن نے یہ بھی واضح کر دیا کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے آہنی عزم رکھتا ہے خاص طور پر ان خطرات کے خلاف ہے جو ایران اور اس کی پراکسیز سے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا میں یہاں کسی آپریشنل طریقہ کار میں نہیں پڑوں گی۔ صدر نے کل ہی خود کو بہت واضح کر دیا ہے۔ اور اس لیے میرے پاس مزید کچھ نہیں ہے۔
ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کے جواب میں ہمیں مشترکہ حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے؟”
کیرن یاں پئیر نے کہا ” میں یہاں مفروضات میں نہیں پڑنا چاہتی۔ ظاہر ہے کہ ہم نے ایران سے آنے والی دھمکیوں کو دیکھا ہے۔ اور اس لیے ہم نے خود کو بہت واضح کر دیا ہے۔ ہم اسرائیل کی سلامتی کی حمایت میں جو آہنی عزم رکھتے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ “آیا ایران نے واشنگٹن کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے اس بارے میں رابطہ کیا ہے کہ جب وہ شامی سفارت خانے پر اسرائیل کے حملے کا جواب دے گا تو وہ وسیع نہیں ہو گا؟”
جین پیئر نے کہا “ظاہر ہے ہم نہیں چاہتے کہ یہ تنازعہ پھیلے۔ ہم اس کے بارے میں ایران کے لیے بہت واضح رہے ہیں کہ ہم دمشق حملے میں ملوث نہیں ہیں۔ ہم نے ایران کو بتایا کہ اس حملے میں امریکہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا،”ہم نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس حملے کو خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے یا امریکی تنصیبات یا اہل کاروں پر حملہ کرنے کے بہانے کےطور پر استعمال نہ کرے۔”
اس حملے نے، جس میں ایک اعلیٰ ایرانی جنرل کو ہلاک کر دیا گیا تھا، غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں پھیلنے والے تشدد میں ایک بڑے اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
تہران نے احتیاط سے تنازعے کے علاقائی پھیلاؤ میں کسی بھی براہ راست کردار سے گریز کیا ہے، جب کہ عراق، یمن اور لبنان سے حملے کرنے والے گروہوں کی پشت پناہی کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
