تازہ ترین
اننت ناگ میں 13.6 فیصد ووٹنگ، محبوبہ مفتی کے آبائی حلقے میں سب سے کم محض 2 فیصد
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے حساس ترین چار اضلاع پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے تین مرحلوں میں ہونے والی پولنگ کے پہلے مرحلے میں منگل کو ضلع اننت ناگ میں محض 13 اعشاریہ 61 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اس پارلیمانی حلقے میں 39 اعشاریہ 37 فیصد ووٹ پڑے تھے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تشدد کے چند چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑ کر مجموعی طور پر پولنگ کا دن پُرامن رہا۔ منگل کو ضلع اننت ناگ کے چھ اسمبلی حلقوں بشمول اننت ناگ، ڈورو، کوکر ناگ، شانگس، بجبہاڑہ اور پہلگام میں ووٹ ڈالے گئے۔ ضلع میں قائم کئے گئے 714 پولنگ اسٹیشنوں میں سے اکثر پر دن بھر سناٹا چھایا رہا۔ تاہم پہلگام، کوکرناگ اور ڈورو میں بعض پولنگ اسٹیشنوں پر رائے دہندگان کی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔
اسمبلی حلقہ پہلگام میں سب سے زیادہ 20 اعشاریہ 73 فیصد جبکہ بجبہاڑہ میں سب سے کم 2 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ بجبہاڑہ اسمبلی حلقہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا آبائی قصبہ اور پانچ برس قبل پی ڈی پی کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا۔
چیف الیکٹورل افسر شلیندر کمار نے منگل کی شام یہاں صوبائی کمشنر بصیر احمد خان اور آئی جی پولیس سوئم پرکاش پانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران نامہ نگاروں کو پولنگ سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ بجبہاڑہ حلقہ میں صرف ایک ہزار 905 رائے دہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ شلیندر کمار نے کہا کہ اننت ناگ میں 3 اعشاریہ 47 فیصد، ڈورو میں 17 اعشاریہ 28 فیصد، کوکرناگ میں 19 اعشاریہ 5 فیصد اور شانگس میں 15 اعشاریہ ایک فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ضلع اننت ناگ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 256 ہے جن میں سے 71 ہزار 777 ووٹرز نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پولنگ کا عمل پُرامن طور پر اختتام پزیر ہوا۔ اننت ناگ رواں پارلیمانی انتخابات میں ملک کا واحد ایسا حلقہ ہے جس میں تین مرحلوں میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ جنوبی کشمیر کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے لیا ہے۔ ضلع اننت ناگ میں پولنگ کے بعد اب 29 اپریل کو ضلع کولگام جبکہ 6 مئی کو پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع اننت ناگ میں پولنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوکر سہ پہر چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے پولنگ کے اوقات میں دو گھنٹوں کی تخفیف کی ہے۔
اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں اگرچہ 18 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں لیکن اصل اور سخت مقابلہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور نیشنل کانفرنس کے جسٹس (ر) حسنین مسعودی کے درمیان ہے۔ سی پی آئی ایم جس نے اس حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے، نیشنل کانفرنس کی امیدوار کو حمایت کرے گی۔ پیپلز کانفرنس جس کی حلقے میں کوئی خاص پوزیشن نہیں ہے، نے چودھری ظفر علی کو کھڑا کیا ہے۔ بی جے پی جس کو گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے میں صرف 1.26 فیصدی ووٹ حاصل ہوئے تھے، نے صوفی یوسف جو ایم ایل سی بھی ہیں، کو کھڑا کیا ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ضلع اننت ناگ کے سبھی چھ اسمبلی حلقوں میں پولنگ کا عمل پُرامن رہا۔ انہوں نے بتایا ‘سنگ باری کے چند معمولی واقعات کو چھوڑ کر کہیں پر بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا’۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع اننت ناگ کے چند ایک علاقوں میں مقامی نوجوانوں نے پولنگ اسٹیشنوں پر پتھرائو کیا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کرکے احتجاجیوں کو منتشر کیا۔ جھڑپوں میں کسی کے شدید طور پر زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انتظامیہ نے ضلع میں پولنگ کے دوران تشدد کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی 170 کمپنیاں تعینات کی تھیں۔ اس کے علاوہ ریاستی پولیس کی بھاری نفری کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔
دوسری جانب پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے آبائی قصبہ بجبہاڑہ میں قائم ایک پولنگ اسٹیشن پر پی ڈی پی کے کارکنوں نے نیشنل کانفرنس کے ایک پولنگ ایجنٹ کو شدید زد وکوب کیا۔ واقعہ کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں جن میں پی ڈی پی کارکنوں کو نیشنل کانفرنس کے پولنگ ایجنٹ کو دھکے، مکے اور لاتیں مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ پی ڈی پی کے چند کارکن این سی پولنگ ایجنٹ پر پتھر مارتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات فورسز اہلکاروں کی مداخلت کے بعد ہی پی ڈی پی کارکنان مذکورہ پولنگ ایجنٹ کو مارنا بند کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے پولنگ ایجنٹ نے پی ڈی پی کی جانب سے مبینہ بوگس ووٹنگ پر اعتراض کیا جس پر پی ڈی پی کارکنان نے انہیں نشانہ بنایا۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کو اپنی ہار نظر آرہی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘انہیں اپنی ہار نظر آرہی ہے۔ لوگوں کو پیٹنے سے تقدیر نہیں بدلے گی’۔
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ‘مفتی کے آبائی قصبہ میں کم فیصد ووٹنگ سے پی ڈی پی کے غنڈے حواس باختہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنا غصہ ایک غریب این سی ورکر پر نکالا’۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع اننت ناگ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 256 ہے۔ ان میں 2 لاکھ 69 ہزار 603 مرد، 2 لاکھ 57 ہزار 540 خواتین، 2102 سروس ووٹرز اور 11 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی
ٹوکیو، امریکہ اور جاپان نے اپنے دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے تحقیق، ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون کی توثیق ہوتی ہے۔
امریکہ اور جاپان کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے تعاون سے متعلق معاہدے میں توسیع اور ترمیم کا پروٹوکول جمعہ کو ٹوکیو میں دستخط کیا گیا۔
امریکہ کی جانب سے صدر کے معاون اور وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹشیوس نے جبکہ جاپان کی جانب سے وزیر خارجہ موتیگی توشیمتسو نے دستخط کیے۔
1988 میں پہلی مرتبہ طے پانے والا یہ معاہدہ امریکہ اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان سائنسی تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے محققین اور سائنسی اداروں کے درمیان وسیع روابط کو فروغ ملا ہے۔
ترمیم شدہ معاہدے کے تحت واشنگٹن اور ٹوکیو نے کہا ہے کہ وہ اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبے میں تعاون کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، جس میں محفوظ اور قابل اعتماد اختراعی نظام کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع دونوں حکومتوں کے طویل مدتی سائنس و ٹیکنالوجی شراکت داری اور ایسے تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہفتہ کے روز کہا کہ دنیا میں آئندہ مالیاتی بحران کی وجہ غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مسٹر ملہوترا نے یہاں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس میں ’’غیر یقینی صورتحال کے دور میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی ضروری نہیں کہ دنیا میں اگلا مالیاتی بحران مالیاتی وجوہات ہی کی بنا پر آئے۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام مستقبل میں مالیاتی بحران سے تحفظ کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہے، اور بحیثیت مرکزی بینک بدلتے ہوئے حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگلا مالیاتی بحران جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) وجوہات، کسی بڑے سائبر حملے یا پھر کسی سنگین تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی رونما ہو سکتا ہے، اور اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور گہرا رہتا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا براہ راست ریزرو بینک کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر یہ اس کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔ مالیاتی استحکام کے بغیر افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) میں استحکام لانا ممکن نہیں، اور اس کے بنا معیشت میں بھی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک برقرار رہنے والے مالیاتی استحکام کی بدولت ہی ہم حالیہ برسوں کے دوران مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کر سکے ہیں—چاہے وہ کورونا وبا کا چیلنج رہا ہو یا پھر جغرافیائی و سیاسی بحران۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات سے ہندوستانی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی ہے اور اس کا اثر قیمتوں پر پڑا ہے، تاہم معیشت کی مضبوط بنیادوں کے باعث افراطِ زر طے شدہ ہدف کے دائرے میں رہی ہے اور ترقی کی شرح بھی مستحکم ہے۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران بینکوں کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے دیے گئے قرضوں (این پی اے) کے منفی اثرات سے نجات پانے میں ملک کو ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت میں نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہندوستان میں مرکزی بینک کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات افراطِ زر میں اضافے کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
