جموں و کشمیر
اوڑی میں گاڑی گہری کھائی میں جاگری 8 مسافر جاں بحق، 6 دیگر زخمی ، علاقے میں قیامت صغریٰ بپا
سری نگر، شمالی کشمیر کے اوڑی میں بدھ کے روز پیش آئے ایک دلدوز سڑک حادثے میں 8مسافر جاں بحق جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ زخمیوں میں سے مزید تین کی حالت بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اوڑی کے بوجھتلان کے مقام پر اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب ایک ٹاٹا سومو گاڑی زیر نمبر JK05bB-0946ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر دو سوفٹ گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار سبھی مسافر شدید طورپر زخمی ہوئے۔
معلوم ہوا ہے کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، فوج اور مقامی لوگ جائے موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائی شروع کی جس دوران ڈرائیور سمیت 14افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر 8مسافروں کو مردہ قرار دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ چھ زخمیوں کو ابتدائی مرہم پٹی کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہ مولہ منتقل کیا گیا جہاں پر مزید تین زخمیوں کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔
ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ حادثے میں زخمیوں ہوئے سات مسافروں کی برسر موقع ہی موت واقع ہوئی تھی جبکہ آٹھ زخمیوں کو علاج ومعالجہ کی خاطر جی ایم سی بارہ مولہ منتقل کیا گیا۔
مہلوکین کی شناخت سروا بیگم زوجہ غلام محمد ، مقصود احمد ولد غلام رسول شیخ ، محمد مقبول شیخ ولد عملہ شیخ، سمینہ بیگم دختر عبدالحمید شیخ ، آمنہ بانو دختر عبدالقادر شیخ ،طاہرہ بیگم زوجہ ریاض احمد شیخ کے بطور کی گئی ہے ۔
زخمیوں کی پہچان میمہ بیگم زوجہ اقبال شیخ ، ڈرائیور شبیر احمد ولد بشیر احمد ، شبیر احمد شیخ ولد عبدالھد شیخ ، عبدل رفیق میر ولد عبدالرحمن، خورشید احمد میر ولد منظور احمد میر، شبیر احمد ولد محمد عبداللہ شیخ ، جمیل احمد شیخ ولد محمد اشرف کے بطور ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹاٹا سومو میں ڈرائیور سمیت دس مسافروں کے لئے بیٹھنے کی گنجائش ہے تاہم ڈرائیور نے 14مسافروں کو گاڑی میں بٹھایا تھا جس وجہ سے یہ دلدوز حادثہ پیش آیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ محکمہ کے اہلکاروں کو بھی مبرا قرار نہیں دیاجاسکتا چونکہ جگہ جگہ پر ٹریفک اہلکار تعینات رہتے ہیں تو اس صورت میں سومو ڈرائیور نے کیسے چودہ مسافروں کوگاڑی میں بٹھایا یہ تحقیقات طلب معاملہ ہے۔
مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ اوڑی حادثے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثہ کیسے اور کن حالات میں ہوا اس حوالے سے عین شاہدین کے بیانات قلمبند کئے جارہے ہیں۔
دریں اثنا جموں وکشمیر کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں نے اوڑی حادثے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کااظہار ہے۔
جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے اوڑی میں المناک سڑک حادثے میں قیمتی جانوں کے زیاں پر زبردست رنج و الم کا اظہار کیا ہے۔
دونوں لیڈران نے حادثے میں لقمہ اجل بنے افراد کے اہل خانہ اور لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے لقمہ اجل بنے کے لواحقین کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کیلئے اللہ سے دعا مانگی۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ زخمی ہوئے افراد کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ یقینی بنائے اور لقمہ اجل بنے افراد کے پسمادگان کے حق میں ایکش گریشیا ریلیف فراہم کی جائے۔
اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے بھی اوڑی حادثے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائے۔
انہوں نے مہلوکین کے حق میں ایکس گریشا بھی واگزار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں آرٹیکل 370، 35اے اور خود اختیاری کے حوالوں کے لیے 10 ترامیم پیش
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے سے متعلق قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے پانچ ترامیم حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے پیش کی ہیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خود اختیاری کے حوالے شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے پانچ ارکان اسمبلی جاوید بیگ، تنویر صادق، اعجاز احمد جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کے حوالوں کو قرارداد میں شامل کرنے کے لیے ترامیم پیش کی ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان اسمبلی نے بھی اسی نوعیت کی ترامیم پیش کی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دو ارکان اسمبلی نے بھی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے سے متعلق ترامیم پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے واضح طور پر قرارداد میں خود اختیاری کا مطالبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
پرہ کی ترمیم میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے ساتھ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسمبلی میں اس معاملے پر پی ڈی پی کے موقف میں یہ ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے بھی ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مرکز کو مختلف فورمز پر کیے گئے اپنے وعدوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان ترامیم سے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ایک نیا پہلو شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس قرارداد کو پہلے ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی کی 2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد کے حوالوں پر شدید اختلاف کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد کے حوالے پر عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں آ گئے، نعرے لگائے اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پیر کے لیے جاری سرکاری کارروائی کے ایجنڈے میں وزیر اعلیٰ کی قرارداد کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ایوان میں اس پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پیر کے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ’’25 ستمبر 2026 کو معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث۔‘‘
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
بی جے پی نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی، وقفۂ سوالات متاثر
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی پیر کو اس وقت متاثر ہوگئی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ انہوں نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خود اختیاری کے معاملے پر ایوان نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی پٹھانیا کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو بتایا کہ انہوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی خود اختیاری کے معاملے پر بحث کرکے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا رہی ہے اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے خلاف کام کر رہی ہے۔
پٹھانیا کو جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ بی جے پی رکن نے ان متعلقہ قواعد کی درست تشریح نہیں کی ہے جن کے تحت انہوں نے یہ تحریک پیش کی ہے۔
راتھر نے کہا کہ انہوں نے نوٹس نہیں دیکھا ہے اور قواعد کے مطابق اس تحریک کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا اور 14 دن کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے پر جلد ہی حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور 1953 سے قبل کی صورتِ حال کے حوالوں کو آئین کے منافی قرار دیا۔
2000 میں اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی خود اختیاری کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں وزیر مملکت تھے، اس وقت اس قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا تھا۔
یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب اسپیکر راتھر نے وقفۂ سوالات کی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی کے اعتراضات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس دلیل پر سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ بتانے کے لیے سرحدی صورتِ حال کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی اس یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی اور سوال کیا کہ اب تک ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
چودھری کے بیان کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ بی جے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کردی، جس سے وقفۂ سوالات کے دوران اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں ایل او سی کے قریب سڑک حادثے میں پانچ افراد کی ہلاکت کا خدشہ
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب تنگدھر کے سیماری علاقے میں پیر کو ایک گاڑی گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ اسکارپیو گاڑی سیماری کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی اور گہری کھائی میں جاگری۔
حادثے میں پانچ افراد کے موقع پر ہی ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
