تازہ ترین
اہم معدنیات پر توجہ: عالمی سپلائی کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے امریکی وزرا مجتمع
واشنگٹن، امریکہ بدھ کو اہم معدنیات سے متعلق اپنا پہلا وزارتی اجلاس منعقد کرے گا، جس میں بین الاقوامی وفود کو جمع کیا جائے گا تاکہ ان معدنیات کے لیے سپلائی چین کی کمزوریوں کے بڑھتے ہوئے خدشات پر گفتگو کی جا سکے جو ٹیکنالوجی کی جدت، اقتصادی طاقت اور قومی سلامتی کے لیے ضروری ہیں وزیر خارجہ مارکو روبیو اس اجلاس کی میزبانی کریں گے، جو صرف اہم معدنیات پر مرکوز پہلا وزارتی اجلاس ہوگا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے اور منگل کو روبیو کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
یہ پہلا اجلاس ہے جس میں واشنگٹن معدنیات کی سیکیورٹی کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کر رہا ہے کیونکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی اہم معدنیات کی پالیسی کو ملک اور سرمایہ داری کے ماڈل کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے جو چین کی جانب سے ممکنہ رکاوٹوں کی صورت میں کان کنی اور پروسیسنگ منصوبوں کو حکومت کے پیسوں اور ضمانتوں کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔
انتظامیہ نے دسمبر 2025 میں “پیکس سلیکا” کا آغاز کیا، جو مصنوعی ذہانت کے لیے ضروری سلیکان اور دیگر معدنیات کے لیے محفوظ سپلائی چینز بنانے کے لیے ایک اقدام ہے۔ اس حکمت عملی کے تین حصے ہیں۔ گھریلو منصوبوں کے لیے اجازتوں میں تیزی لانا، اسٹریٹجک پروڈیوسرز کے لیے ایکویٹی کے حصص اور قیمت کی ضمانتیں فراہم کرنا، اور عوامی مالیات کے ذریعے دو طرفہ معاہدے کرنا۔
واشنگٹن نے ان سب کو ایک ساتھ جوڑ کر “صلاحیتوں کا اتحاد” بنانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ یہ حکمت عملی کتنی دیر تک سپلائی کی سیکیورٹی فراہم کرتی ہے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسے کتنی اچھی طرح سے عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس، روبیو کے ساتھ صبح 9:00 بجے (ای ایس ٹی) افتتاحی کلمات میں شریک رہیں گے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انتظامیہ معدنیات کی سیکیورٹی کے مسائل کو کتنا ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ عالمی سطح پر سپلائی چینز پر چین کے انحصارکو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر چین جو نایاب معدنیات اور دیگر اسٹریٹجک مواد کی عالمی پیداوار میں سر فہرست ہے۔
ڈیوڈ کاپلی، صدر کے خصوصی معاون اور عالمی سپلائی چینز کے سینئر ڈائریکٹر اور اقتصادی امور کے لیے وزیر خارجہ جیکب ہیلبرگ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے جیسا کہ وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے۔
یہ وزارتی اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب ان وسائل کے لیے جغرافیائی سیاسی مقابلہ عروج پر ہے جو الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز کی تیاری، قابل تجدید توانائی کے نظام اور فوجی ہارڈ ویئر کے لیے ضروری ہیں۔ اہم معدنیات میں لیتھیئم، کوبالٹ، نکل اور دیگر نایاب معدنیات وغیرہ بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک تنازعات کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
امریکہ کی اہم معدنیات کو محفوظ کرنے کی جدو جہد امریکہ کی پہلی ترجیح تک محدود نہیں ہے۔ 2025 میں، واشنگٹن نے آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور کئی یورپی ممالک جیسے اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری کی اور اس کے ساتھ ساتھ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وسائل سے مالا مال ممالک کے ساتھ معاہدوں کی کوشش بھی کی۔
انتظامیہ نے آسٹریلیا، جمہوریہ کانگو، جاپان، ملائیشیا، پاکستان، سعودی عرب، تھائی لینڈ اور یوکرین کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے ابتدائی درجے کی سرمایہ کاری، پروسیسنگ میں تعاون، اور طویل مدتی خریداری کے معاہدوں پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد چین کے کنٹرول والی سپلائی چینز پر انحصار کو کم کرنا ہے۔
چین کی اجارہ داری کا پیمانہ بہت واضح ہے۔ “گلوبل کرٹیکل منرلز آؤٹ لک 2025” کے مطابق 20 میں سے 19 اہم معدنیات میں اوسطاً 70 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ چین ریفائننگ میں سر فہرست ہے۔
یہ دو طرفہ معاہدے حکومتوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان تعاون پر مشتمل ہیں۔ حکومتیں نجی سرمایہ کاری کے لیے اہم صنعتوں یا اثاثوں کی رہنمائی کرتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیسہ ان منصوبوں میں لگے جو ملک کے لیے اہم ہیں۔
اکتوبر میں، امریکہ اور ابو ظہبی کی حکومتوں نے نجی ایکویٹی فنڈ اورین ریسورس پارٹنرز کے ساتھ عالمی سطح پر کان کنی اور ریفائننگ منصوبوں میں 1.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تاکہ مغربی ممالک کی لیتھیئم، نایاب معدنیات اور دیگر اہم معدنیات تک رسائی بڑھ سکے۔
ایم پی میٹریلز سعودی عرب میں نایاب معدنیات کی پروسیسنگ پلانٹ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو امریکی دفاعی محکمہ اور سعودی ریاستی کان کنی کمپنی معادن کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں ریفائننگ کی صلاحیت کو مضبوط کرنے اور عالمی سپلائی کو متنوع بنانے کے لیے ہے۔
اس وقت نایاب معدنیات کی ریفائننگ اور میگنیٹ کی پیداوار پر چین کا کنٹرول ہے، جو جدید ٹیکنالوجیز کے لیے اہم مواد ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نےیوکرین اور جمہوریہ کانگو کے ساتھ معدنیات کے معاہدوں کو سیکیورٹی کی ضمانتوں، تعمیر نو کے فنڈز، اور ترجیحی رسائی کے حقوق سے مربوط کیا ہے ۔اہم معدنیات کی سفارتکاری سیکیورٹی کی ضمانتوں، تعمیر نو کے ایجنڈوں، اور مستقبل میں امریکی سرمایہ کاری سے جڑی ہوئی ہے۔ کچھ معاہدے، جن میں یوکرین کے ساتھ معاہدہ بھی شامل ہے ابھی تک طے نہیں پا سکے ہیں۔
5 دسمبر کو امریکہ نے کانگو کے معدنیات کی مارکیٹنگ کے لیے ایک نئی شراکت داری میں شمولیت کا منصوبہ بنایا تھا، جس سے امریکی خریداروں کو تانبے اور کوبالٹ پر اولین ترجیح حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ بات چیت ایک دن بعد ہوئی تھی جب ٹرمپ نے جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی تاکہ کانگو کے معدنی وسائل سے بھرپور مشرق میں جاری تنازعات کا خاتمہ کیا جا سکے اور سپلائی چینز کو مستحکم کیا جا سکے۔ کانگو دنیا کے کوبالٹ کے 72 فیصد ذخائر کا مالک ہے اور سپلائی کا 74 فیصد پیدا کرتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم خامی موجود ہے۔ کچھ ممالک جنہیں امریکہ ان اتحادوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، انہیں اس وقت واشنگٹن کی طرف سے تجارتی پابندیوں، محصولات یا دیگر یکطرفہ اقدامات کے خطرے کا سامنا ہے۔
نایاب معدنیات جیسے اہم معدنیات کے لیے دو طرفہ معاہدے ایسے طریقہ کار کا تقاضا کرتے ہیں جنہیں امریکہ اپنے اثر و رسوخ کے طور پر استعمال کرتا ہے: اقتصادی جبر، ضابطے کا دباؤ یا مخصوص ترغیبات، جو بلا ارادہ اس بڑی حکمت عملی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جو پیکس سلیکا کو فروغ دینے کے لیے وضع کی گئی ہے۔
امریکہ کے اہم معدنیات کے ساختیاتی ڈھانچے میں ایک خامی موجود ہے کیونکہ شراکت دار ممالک طویل مدتی صنعتی وعدوں کے لیے خود کو ایسے تجارتی اقدامات کے تابع پاتے ہیں جو ان سرمایہ کاریوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ امریکہ نے ایسا نقطہ نظر اپنایا ہے جس میں اقتصادی تعلقات کو خارجہ پالیسی کے وسیع تراقدامات کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا ملکی ترجیحات ان اہم اقدامات کو متاثر کر سکتی ہیں جو پیکس سلیکا جیسے اقدامات کی بنیاد ہیں۔ ان شراکت داریوں کے کامیاب ہونے کے لیے شرائط و ضوابط میں شفافیت اور پیش بینی ضروری ہوگی۔
یو این آئی ۔ ایس وائی
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
