کھیل
ایڈیلیڈ میں ہندوستان کا ٹاپ آرڈر ناکام، شکست کا خوف
ایڈیلیڈ، ٹریوس ہیڈ (140) کی شاندار سنچری کے بعد گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے دوسرے دن ہفتہ کو ہندوستان کو شکست کے خطرے میں دھکیل دیا ہے۔
پہلی اننگز میں ہندوستان کے 180 رنز کے جواب میں آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 337 رنز بنائے اور ہندوستان کے خلاف 157 رنز کی نمایاں برتری حاصل کر لی۔ ہندوستانی، جو دن کے کھیل کے آخری سیشن میں اپنی دوسری اننگز میں بلے بازی کے لیے آئے تھے، فلڈ لائٹس کے نیچے گلابی گیند کے حملے کو برداشت کرنے میں ناکام رہے اور صرف 128 رنز پر اپنی پانچ وکٹیں گنوا بیٹھے۔ ہندوستان ابھی بھی آسٹریلیا کے پہلی اننگز کے اسکور کو چھونے سے 29 رنز دور ہے۔
اسٹمپ کے وقت ریشبھ پنت 28 رنز بنانے کے بعد کریز پر موجود ہیں اور نتیش کمار ریڈی 15 رنز بنا چکے ہیں۔ اپنے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرنے والے کپتان روہت شرما (6) نے دوسری اننگز میں بھی بلے بازی نہیں کی جبکہ پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنا کر ہندوستان کی جیت کو آسان بنانے والے ورات کوہلی (11) نے بھی بیٹنگ نہیں کی۔ کے ایل راہل صرف سات رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ پہلی اننگز میں کھاتہ کھولنے میں ناکام رہنے والے یشسوی جیسوال 24 رنز کے ذاتی اسکور پر بولینڈ کا شکار بن گئے۔ آج گرنے والی پانچ وکٹوں میں سے پیٹ کمنز اور اسکاٹ بولینڈ نے دو دو وکٹیں برابر کیں، جبکہ مچل اسٹارک کو شبھمن گل (28) کی وکٹ ملی۔
میچ کے تیسرے دن کا دارومدار جوڑی پنت اور ریڈی پر ہوگی۔ اگر یہ جوڑی بڑی شراکت داری کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو ہندوستان کی امیدوں کو سہارا مل سکتا ہے، حالانکہ اب تک میچ پوری طرح سے آسٹریلیا کے حق میں نظر آرہا ہے۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے اپنے کل کے اسکور ایک وکٹ پر 80 رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹریوس ہیڈ کے بلے نے آج ہندوستانی گیند بازوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اپنی 31ویں سالگرہ سے صرف 21 دن دور، ہیڈ کے جارحانہ انداز نے نہ صرف میزبانوں کو بلکہ ہندوستانی ناظرین کو بھی متاثر کیا۔ ایک سرے پر کریز کو تھامے ہوئے ہیڈ نے تقریباً 100 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنے کیریئر کی ساتویں سنچری مکمل کی۔ محمد سراج کے ہاتھوں آؤٹ ہونے سے پہلے انہوں نے 17 چوکے اور چار فلک بوس چھکے لگائے۔
آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں جسپریت بمراہ اور سراج نے چار چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ نتیش کمار ریڈی اور روی چندرن اشون نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ہندوستان کو آج پہلی کامیابی کپتان بمراہ نے ناتھن میکسوینی (39) کی شکل میں دی جب وہ اپنی ایک باہر جانے والی گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش میں وکٹ کے پیچھے کیچ ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ اسٹیو اسمتھ اپنا قدم جما پاتے، بمراہ نے بھی انہیں ناتھن کے انداز میں آؤٹ کیا۔ مارنس لابوسچنے (64) کو جیسوال کے ہاتھوں کیچ کروانے کے بعد نتیش نے واپس بھیج دیا۔
وہیں مچل مارش (9) روی چندرن اشون کا شکار بنے۔ رشبھ پنت نے وکٹ کے پیچھے اپنے آؤٹ ہونے کی اپیل کی جبکہ اشون خاموش رہے۔ جیسے ہی امپائر نے انگلی اٹھائی وہ خوشی سے اچھل پڑے اور مارش نے بھی امپائر کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اپنے دستانے اتار دیئے۔
ہیڈ، جو ایک سرے پر کھڑے ہو کر ہندوستانیوں کو بخیہ ادھیڑ رہے تھے، اب انہیں اگلی شراکت الیکس کیری (15) کے ساتھ کرنی تھی، جس کا وکٹ کیپر بلے باز نے پوری طرح احترام کیا۔ اگرچہ کیری سراج کا شکار بنے لیکن کپتان پیٹ کمنز (12) کو بمراہ نے بولڈ کیا۔ اس سے پہلے ہیڈ کی وکٹ سراج کے جھولی میں جا چکی تھی۔ کھانے کے وقت آسٹریلیا کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ آخری سیشن میں ہندوستانیوں کو بقیہ دو وکٹیں لینے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
