ہندوستان
ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے متردف : احمد بخاری
نئی دہلی، ملک کے موجودہ حالات اور پہلگام میں سیاحوں پر حالیہ دہشت گردانہ حملے 28 افراد کی ہلاکت سے سے انتہائی دلبرداشتہ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے آج قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے جبکہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں انسان کے خون کی کیا حرمت ہے اور کسی بے گناہ کی جان کا لیا جانا غضب الہی کو دعوت دینا ہے۔ دین اسلام میں کسی کو قتل پر اکسانے والے پر لعنت بھیجی گئی ہے اور اسے گناہ عظیم قرار دیا گیا ہے۔
شاہی امام نے کہا کہ آج پوری دنیا میں تشدد قتل و غارت گری ظلم اور جبر کا دور دورہ ہے۔ تین دن پہلے پہلگام میں جو حیوانیت کا ننگا ناچ ہوا ہے اس نے ہندوستانی ضمیر اور ہماری اخلاقیات کی روایت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعہ سے ہم سب کے جذبات میں تلاطم ہے، مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر بے گناہوں کا قتل کیا جانا نا قابل معافی جرم ہے۔
پہلگام میں جو دردناک اور انسانیت سوز ہلاکتیں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں اور بے گناہ انسان انسانی حیوانیت کے نام پر لقمہ اجل بنے ہیں، اس سے زیادہ غیر انسانی فعل اور کیا ہو سکتا ہے؟ دہشت گردی کی وکالت یا حمایت کسی بھی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی۔
مولانا احمد بخاری نے کہا کہ دہشت گردوں نے خود کو مسلمان بتاتے ہوئے جس غیر اسلامی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کون سا اسلام ہے؟ جو انہوں نے پڑھا ہے یا انکو پڑھایا گیا ہے۔ مذہبی شناخت جاننے کیلئے لوگوں کو مبینہ طور پر ننگا کیا گیا اور یہ تصدیق ہونے پر کہ وہ ہندو ہیں، ایسے بے گناہ اور نہتے لوگوں کو گولی کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ یہ نہ تو دین اسلام کی تعلیم ہے ، نہ تاریخ اور نہ ہی تہذیب ہے۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چل پڑا تو کہاں جا کر رکے گا نہیں کہا جا سکتا۔ ہندوستان اور اس کی روایتی تہذیب کسی قیمت پر اسکی اجازت نہیں دیتی۔
شاہی امام نے کہا کہ یہ وقت ہندو ، مسلمان کرنے کا نہیں ہے بلکہ ملک کی آبرو، خود مختاری اور عزت نفس کیلئے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہنے کا وقت ہے۔ ملک کی سالمیت اور بالا دستی پر جب بھی ضرب آئے گی تو امن پسند ہندوستانی شہری ملک کی سلامتی کیلئے ہمیشہ آگے رہے گا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان اور انسانیت آخر کس طرف جانا چاہتی ہے ابھی چند سال پہلے پوری انسانی برادری کو وڈ جیسی مہلک بیماری کی لعنت سےگزری، کروڑوں معصوم جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔ لوگوں کو کہیں کفن دفن نصیب ہوئے کہیں نہیں ہوئے ، لاشیں اٹھانے والا کہیں تھا کہیں نہیں تھا۔ اس کیفیت سے انسانیت گزری ۔ اس کے باوجود اس خدائی عذاب سے پوری دنیا سبق حاصل نہیں کر پائی اور آج بھی دنیا میں فریقین کو رضا کارانہ طور پر اور کہیں تجارتی بنیادوں پر اسلحہ کی فراہمی
کا بازار پورے شباب پر ہے ، جو جانی اتلاف کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔
مسٹر احمد بخاری نے کہا کہ آج پھر جنگ و جدال کا چوطرفہ ماحول ہے وہی انسانیت سوزی ہے، انسان انسان کو مار کر اس میں اپنی کامیابی تلاش کر رہا ہے۔ آج دنیا کے کئی ملک کسی نہ کسی طرح جنگ و تشدد کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ بد قسمتی تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی مذہبی منافرت ، فرقہ واریت اور اکائیوں کے درمیان اعتماد اور بھروسہ موضوع بحث ہے۔ آخر یہ دنیا کدھر جارہی ہے اور ہم اسے کہاں لیجانا چاہتے ہیں؟ پوری انسانی تاریخ میں جنگ و دہشت گردی سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔
شاہی امام نے کہا کہ ہمارے ملک کی کچھ بنیادی خصوصیات ہیں جن میں مساوات اور پر امن بقائے باہم اس کی وہ افضل خوبیاں ہیں ، جو دنیا میں ہمیں ممتاز و منفرد بناتی ہیں ، ہماری ہزار ہا سال پرانی تاریخ اور تہذیب ہمارا وہ قومی سرمایہ جس کی وجہ سے ہر دور میں پر امن بقائے باہم کے حوالے سے ہمارے فلسفہ حیات کو مقدم مانا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مولانا احمد بخاری نے ملک کے تمام مسلمانوں کی طرف سے سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور ہلاک شدگان کی روح کی شانتی کے لئے دعا کی ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
