ہندوستان
بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ کا ڈھاکہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے کا عزم،اقوام متحدہ کی رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا
نئی دہلی، غالبا اپنی نوعیت کی پہلی سیاسی پیش رفت میں بنگلہ دیش کی معزول حکومت کی جماعت عوامی لیگ نےہفتہ کو نئی دہلی میں اپنی پہلی پریس کانفرس منعقد کی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ حسن محمود نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کو غلط قرار دیا ۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی “شیخ حسینہ کی قیادت میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی”۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جولائی-اگست 2024 کی طلبہ تحریک پر مبنی یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کو “انتہائی جانبدارانہ” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔
حسن محمود نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی پارٹی جلاوطن حکومت بنانے پر غور کر رہی ہے، نامہ نگاروں کو بتایا کہ “ہم شیخ حسینہ کی قیادت میں بنگلہ دیش واپس جائیں گے” تاکہ حکومت بنا سکیں۔ سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ “نئی غیر قانونی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سینکڑوں صحافیوں کو بے بنیاد الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے، اخباری دفاتر اور ثقافتی تنظیموں پر حملے کیے گئے ہیں، عوامی لیگ کے تقریباً ایک لاکھ کارکن جیلوں میں ہیں اور اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے”۔
حسن محمود نے بنگلہ دیش میں اگلے ماہ ہونے والے انتخابات پر بھی سخت تنقید کی اور انہیں “یکطرفہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ، جسے ان کے بقول تقریباً 60 فیصد آبادی کی حمایت حاصل ہے، اسے الیکشن لڑنے کے موقع سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ محمود نے الزام لگایا کہ “یہ ایک پہلے سے طے شدہ الیکشن ہے اور کسی صورت آزادانہ یا منصفانہ نہیں ہے”۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر عوامی لیگ کے ارکان اور سیکورٹی فورسز کے خلاف تشدد کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے محمود نے کہا کہ اس رپورٹ میں بنگلہ دیش میں بد امنی کے دوران مارے جانے والے ہزاروں پولیس اہلکاروں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 3,000 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے نیز انہوں نےایک ایسے واقعے کا حوالہ دیا جس میں ایک پورے پولیس اسٹیشن کو، جس کے اندر تقریباً 40 افسران موجود تھے، آگ لگا دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (یو این ایچ سی آر) کی وہ رپورٹ، جس کی عوامی لیگ نے تردید کی ہے، ایک سال قبل فروری 2025 میں جاری کی گئی تھی۔ محمود نے اقوام متحدہ کی دستاویز میں بتائے گئے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی ساکھ پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ “یکطرفہ” تھے اور ان کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
محمود نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بہت سے لوگ سنائپر فائرنگ سے مارے گئے، جو ایسے ایجنٹوں کے ذریعے کی گئی جنہوں نے اس کیلیبر کی بندوقیں استعمال کیں جو بنگلہ دیشی سیکورٹی فورسز کے پاس نہیں تھیں۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ ان فائرنگ کے واقعات کے پیچھے غیر ملکی یا دشمن عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ہماری آخری امید اقوام متحدہ تھی، لیکن ہمیں اس میں بھی مایوسی ہوئی… عام طور پر یو این ایچ سی آر کی رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد تیار کی جاتی ہے،” تاہم، اس معاملے میں یو این ایچ سی آر کے سربراہ وولکر ٹرک، جنہیں بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایڈوائزر محمد یونس اپنا دوست قرار دیتے ہیں، نے “محض یونس حکومت کی درخواست پر رپورٹ پیش کر دی۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ کسی بھی متعلقہ فریق سے مشاورت نہیں کی گئی اور ڈیٹا کا کوئی واضح ماخذ موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق، یونس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری گزٹ میں جن متعدد افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا تھا، وہ بعد میں زندہ پائے گئے۔
حسن محمود، جو ‘انٹرنیشنل کرائمز ریسرچ فاؤنڈیشن’ کی قانونی ٹیم کے سربراہ غلام معروف مجمدار نجوم کے ہمراہ گفتگو کر رہے تھے، نے یہ بھی کہا کہ عوامی لیگ اگست کی بغاوت کے بعد سے ہونے والے قتل عام اور مظالم کا ایک جامع ریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صرف گزشتہ دو ہفتے کے دوران ہندو برادری کے آٹھ ارکان کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی تحقیقاتی رپورٹ یو این ایچ سی آر، یورپی یونین اور کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اورپھر ان سے اپیل کی جائے گی کہ وہ یا تو کارروائی کریں یا ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں۔
عوامی لیگ کے رہنماؤں نے یو این ایچ سی آر کی اس رپورٹ کی سخت تنقید کی ہے جس میں طلبہ زیر قیادت ہونے والے مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ان رہنماؤں کا موقف ہے کہ اس رپورٹ میں غیر متناسب طور پر صرف ریاستی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جبکہ پارٹی حامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہونے والے تشدد کو کم اہمیت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں قائم عبوری انتظامیہ نے ابھی تک ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
یو این آئی۔م ک
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
