تازہ ترین
تاریخی مغل روڈ سے برف ہٹایا گیا تاہم ٹریفک کے لئے ہنوز معطل
جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ سے برف ہٹایا گیا تاہم روڈ پر برف باری سے پیدا شدہ پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل ہنوز معطل ہے۔
بتادیں کہ منگل کی شام بالائی علاقوں میں برف باری سے مغل روڈ پر پیر کی گلی اور پوشنا پونچھ کے درمیان درجںوں گاڑیاں درماندہ ہوئی تھیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مغل روڈ کو صاف کر دیا گیا ہے اور قریب 2 سو درماندہ مسافروں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روڈ پر 50 مسافر گاڑیاں اور 30 مال بردار گاڑیاں در ماندہ ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم گذشتہ رات نو بجے آپریشن شروع کر دیا اور دو سو مسافروں کو نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
مذکورہ ذرائع نے کہا کہ روڈ کو صاف کر دیا گیا ہے تاہم پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی نقل وحمل ہنوز معطل ہی ہے۔
ادھر وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل حسب معمول جاری ہے۔
تاہم بانہال اور چندر کوٹ کے درمیان خانہ بدوشوں کے ریوڑ رواں دواں ہیں جس نے ٹریفک کے نقل و حمل کی رفتار دھیمی ہوگئی ہے۔
دنیا
یوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
کیف، یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں روسی فوج کے ایک حملے میں کم از کم 22 افراد زخمی ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ ملک بھر میں روسی حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے ایک دن سے بھی کم وقت بعد ہوا۔
خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بتایا کہ پیر کی صبح روسی فوج کے ایک گائیڈڈ فضائی بم نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کثیر المنزلہ عمارت کی دو منزلیں تباہ ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔
اتوار کو بھی یوکرین بھر میں روسی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہیوسکی نے بتایا کہ شمالی شہر سومی میں فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ایک مرکز کو نقصان پہنچا اور تین افراد، جن میں 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، ہلاک ہوگئے۔
ادھر اوڈیسا کے علاقے کے حکام نے بتایا کہ بحیرہ اسود کے جنوبی علاقے میں ایک ’’بڑے پیمانے کے حملے‘‘ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ حملے میں رہائشی عمارتوں، ایک دکان، ایک ہوٹل، ایک طبی عمارت اور اناج کے گودام کو نقصان پہنچا۔
دارالحکومت کیف میں میئر وٹالی کلِچکو نے بتایا کہ ایک خاتون اور دو 16 سالہ نوجوان زخمی ہوگئے، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
شہر کی انتظامیہ نے کہا، ’’دشمن حملہ آور ڈرونز کے ذریعے کیف کے علاقے پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔‘‘
انتظامیہ کے مطابق حملوں میں 16 مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں 12 مکانات، ایک گودام اور ایک پیداواری مرکز شامل ہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ جنوبی علاقے زاپوریژیا میں روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کیف میں روسی ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا۔
زیلنسکی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ روس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے خلاف 2,200 سے زیادہ حملہ آور ڈرون، 1,630 فضائی بم اور مختلف نوعیت کے 38 میزائل داغے۔
بعد میں اپنے ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا، ’’اگر روس واقعی کشیدگی میں کمی کی جانب کسی حقیقی قدم کی تیاری کر رہا ہوتا، جیسا کہ وہ امریکی مذاکرات کاروں سے دعویٰ کرتا ہے، تو شہید ڈرونز کے ذریعے دہشت کی یہ لہر جاری نہ ہوتی۔‘‘
انہوں نے ان ڈرونز کا حوالہ دیا جنہیں روس یوکرین کے خلاف استعمال کرتا ہے اور جو ایران میں تیار کیے گئے ہیں۔
ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے کیف میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’کیئف اسٹار‘ کے ایک ڈیٹا سینٹر اور ’اومیگا ٹیلی کام‘ کے ایک اور ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں یوکرینی فوج کو خدمات فراہم کر رہی تھیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ہفتے کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنی فوجی مہم ’’آخر تک‘‘ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ادھر مقامی اطلاعات کے مطابق پیر کو یوکرینی ڈرونز نے روس کے کراسنودار خطے میں ایک تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی ٹیلی گرام چینل ’ایگزیلینووا پلس‘ نے ایک بڑے پیمانے پر لگی آگ کی ویڈیو جاری کی اور اس مقام کی شناخت پاولوسکایا آئل ڈپو کے طور پر کی۔اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
یوکرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے جنگ کے نتیجے میں شہریوں پر پڑنے والے بڑھتے ہوئے اثرات اور جانی نقصان پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دونوں فریق شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
ویانا، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی تجویز پر اختلافات نے تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر ایک فیصد سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگی تنازعے کے حل اورآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امن تجویز مسترد کر دی۔
عالمی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل، جسے ‘ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ’ کہا جاتا ہے، ترانوے ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
کیپلر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اس امن اقدام کا اعلان کیا تھااور تصدیق کی تھی کہ یہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ انہوں نے اس روڈ میپ کو مسترد کر دیا، اگرچہ انہوں نے اتوار کو ایک فون انٹرویو میں خبر رساں ادارے ‘ایکسیوس’ کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے مزید بات چیت کریں گے۔
ہفتے کے اوائل میں یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے تصدیق کی کہ اس نے حوثیوں کی طرف سے مملکت کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک لیا تھا۔
امریکی انتظامیہ کے ریکارڈ ملکی ایندھن قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ڈیزل برآمدات پر پابندی عائد کر سکنے کے احتمال کے پیش نظر برینٹ کی قیمتیں پچھلے ہفتے 0.4 فیصد بڑھیں، جبکہ WTI 7.9 فیصد گر ا۔
دریں اثنا، کلیدی مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری ممالک کی خام تیل کی برآمدات ستمبر میں دوبارہ بڑھ کر یومیہ 12.8 ملین بیرل تک پہنچ گئیں، جو فروری میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ریکارڈ شدہ سب سے زیادہ مقدار ہے، یہ اعداد و شمار پیر کو Kpler کے ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے اعلان کے بعد آئے ، جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ترسیلات میں اضافہ کیا۔
یہ تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب سعودی عرب نے ریڈ سی کے بندرگاہ ینبع سے اپنی برآمدات کو ہٹاتے ہوئے مشرقی ٹرمینل راس تنورہ کی طرف منتقل کر دیا، اس کے بعد کہ عسکری حملوں نے اس کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچایا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں آرٹیکل 370، 35اے اور خود اختیاری کے حوالوں کے لیے 10 ترامیم پیش
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے سے متعلق قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے پانچ ترامیم حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے پیش کی ہیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خود اختیاری کے حوالے شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے پانچ ارکان اسمبلی جاوید بیگ، تنویر صادق، اعجاز احمد جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کے حوالوں کو قرارداد میں شامل کرنے کے لیے ترامیم پیش کی ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان اسمبلی نے بھی اسی نوعیت کی ترامیم پیش کی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دو ارکان اسمبلی نے بھی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے سے متعلق ترامیم پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے واضح طور پر قرارداد میں خود اختیاری کا مطالبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
پرہ کی ترمیم میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے ساتھ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسمبلی میں اس معاملے پر پی ڈی پی کے موقف میں یہ ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے بھی ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مرکز کو مختلف فورمز پر کیے گئے اپنے وعدوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان ترامیم سے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ایک نیا پہلو شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس قرارداد کو پہلے ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی کی 2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد کے حوالوں پر شدید اختلاف کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد کے حوالے پر عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں آ گئے، نعرے لگائے اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پیر کے لیے جاری سرکاری کارروائی کے ایجنڈے میں وزیر اعلیٰ کی قرارداد کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ایوان میں اس پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پیر کے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ’’25 ستمبر 2026 کو معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث۔‘‘
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
