جموں و کشمیر
جان ہے تو جہان ہے،، پھر دعوت میں لفافہ تو عیادت میں کیوں نہیں!!
جاوید اختر بھارتی
یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے کہ جان ہے تو جہان ہے یعنی جان سلامت ہے تو سب کچھ ہے جب جان ہی نہیں تو کچھ بھی نہیں،، حالانکہ اس کہاوت کی حقیقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہنا چاہئیے کہ صحت ہے تو جہان ہے،، بڑے بڑے شہروں میں دیکھا گیا ہے.
آپ کار یا موٹر-سائیکل چلارہے ہیں روڈ کے کنارے مختلف قسم بورڈ لگے ہوئے ملتے ہیں کہیں اسپتال ہے تو وہاں بیڈ کا نشان بنا ہوا وہاں آپ کو آہستہ چلنا ہے ہوسکتا ہے کوئی جلدی میں دوا لینے کے لئے نکل رہا ہو، وہاں آپ ہارن بھی نہیں بجانا ہے کیونکہ اسپتال کے اندر نہ کیسے کیسے مریض ہیں آپ کے ہارن کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرانے کی وجہ سے انہیں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اس لئیے مریض کو بھی بچانا ہے اور دوا لینے جارہے شخص کو بھی بچانا کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،، آگے آپ کو اسکول کا بورڈ ملتا ہے اس پر لکھا ہوا بھی ہے کہ برائے کرم آہستہ چلیں اس لیے کہ ہوسکتا ہے کوئی بچہ اچانک آپ کی کار کی زد میں آجائے اور جان گنوا بیٹھے .
وہاں پر بھی ہارن بجانے میں احتیاط برتنا ہے اس لیے کہ کہیں کوئی بچہ چکمہ نہ کھا جائے تو آپ کو اس بچے کو چکمہ کھانے سے بھی بچانا ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،،آگے آپ کو ریلوے کراسنگ کا بورڈ بھی ملتا ہے وہاں پر آپ کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے،،اور شاعر نے بھی یہی کہا ہے کہ تنگدستی گرچہ ہو غالب،، تندرستی ہزار نعمت ہے،،
اس لیے کہ جان جب تک جسم میں ہے انسان زندہ ہے لیکن جسم میں جان رہتے ہوئے انسان مرض میں مبتلا ہے اور اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے سے مجبور ہے تو کیا اس کے سامنے بھی کہا جاسکتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے حالانکہ یہ کہاوت دہرانے اور بار استعمال کرنے کا مطلب تو یہی واضح ہوتا ہے کہ جان ہے تو پوری دنیا ہے وہ کہیں بھی جاسکتا ہے، .
کسی بھی محفل میں شرکت کر سکتا ہے، گھر سے لیکر بیرون ملک تک کا سفر کرسکتا ہے کیونکہ اس کے جسم میں جان ہے،، تو جب جان ہے تو جہان ہے،، اب ایک آدمی زندہ ہے طویل عرصے سے بیمار ہے، بستر پر زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہا ہے یعنی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے سال کا بارہ مہینہ گذر گیا،، محرم سے ذی الحج تک کا مہینہ گذر گیا، دیکھا جائے تو عید و بقرعید، عاشورہ و عید میلاد النبی، شب برات اور پورا رمضان المبارک کا مہینہ بھی آیا اس کی زندگی میں لیکن رمضان میں روزے نہیں رکھ سکا، عید و بقرعید کے موقع پر نماز دوگانہ نہیں پڑھ سکا، کسی سے مصافحہ و معانقہ نہیں کر سکا، کسی کے گھر تہوار کی مبارکباد دینے نہیں جاسکا،.
خود اس کے گھر پر بھی کوئی آیا تو بستر سے اٹھ کر استقبال نہیں کرسکا، آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے ہیں لیکن سب کچھ کے بعد اس کے جسم میں جان تو ہے لیکن کیا اس کی عیادت کرتے وقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم بھلے ہی بیمار ہو، بستر پر اپنی زندگی کی سانسیں گن رہے ہو لیکن تم زندہ تو ہو اس لئے کہ تمہارے جسم میں ابھی جان باقی ہے اور جب تمہارے جسم میں جان ہے تو تم یہی سمجھو کہ جان ہے تو جہان ہے کیا اسے اس طرح سے تسلی دی جاسکتی ہے ہرگز نہیں،، ہاں وہ صحت مند ہوتا، تندرست ہوتا تب اس سے یہ بات کہی جاسکتی ہے.
ایسی حالت میں اس کے پاس دولت ہے، علاج کر نے کی وسعت ہے اور وہ علاج نہیں کر رہا ہے تب اسے بطور مشورہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تمہارے پاس دولت ہے تمہیں اپنا علاج کرانا چاہئیے کیونکہ تم جانتے ہو کہ جان ہے تو جہان ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ وسعت ہوتے ہوئے بیماری کا علاج نہ کرانا بھی غلط ہے اس لیے کہ دوا اور دعا یہ ضروری ہے اور یہ دینی تعلیم بھی ہے لیکن ہاں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ایک شخص سخت بیمار ہے اور علاج بھی نہیں کرا رہا ہے کسی طبیب، کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جارہا ہے تو آخر کیا وجہ ہے اور ضروری ہے کہ اس بات کی معلومات انتہائی خفیہ طریقے سے کی جائے تاکہ اس بیمار شخص کی دل آزاری نہ ہو انسان کی زندگی میں خوشی اور غم دونوں مواقع پیش آتے ہیں یہ دنیا کا دستور ہے کہ کسی گھر سے دلہن کی ڈولی اٹھتی ہے تو کہیں سے کسی کا جنازہ اٹھتا ہے.
ڈولی سجانے کے لیے تو رشتہ دار، اعزہ و اقرباء جوق درجوق آتے ہیں، کسی کو نوشہ اور دولہا بنانے کے لیے بھی آتے ہیں، پھر ولیمہ میں بھی آتے ہیں اور بلائے بھی جاتے ہیں، تحفے تحائف بھی لے کر آتے ہیں، روپیہ پیسہ بھی لے کر آتے ہیں، جہاں سازوسامان ہوا کرتے ہیں وہیں لفافے میں روپے اور پیسے بھی ہوتے ہیں جبکہ ان رشتہ داروں کو اور دوست احباب کو اور عزیز و اقارب کو یہ خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم یہ سامان نہیں لے جائیں گے اور پیسہ نہیں دیں گے پھر بھی یہ شادی رکنے والی نہیں ہے اس لیے کہ لڑکی اور لڑکے کے سرپرست، والدین، گھر والے سب لوگ شادی کے انتظامات بہت پہلے سے کرتے ہیں وہ اس دن کی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے بھروسے نہیں رہتے ہیں ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس شادی بیاہ کی تقریبات کے موقع پر جو تحفے تحائف آتے ہیں اور ان میں جو نقد رقم ہوتی ہے وہ تقریبات کے اختتام پر اس تقریبات کا انعقاد کرنے والے کے لیے کچھ راحت کا ذریعہ بنتی ہے .
لیکن کوئی پہلے سے اپنی بیماری کے علاج کے لیے تیاری نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہے کہ میری زندگی میں کب بیماری لگے گی اب ایسی صورت میں جو دولتمند ہیں وہ بیماری کی حالت میں بڑے بڑے اسپتال میں جاتے ہیں اور بڑے بڑے ڈاکٹر سے اپنا علاج کراتے ہیں لیکن بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، بیماری کی کوئی ذات برادری نہیں ہوتی، بیماری لگنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اس قدر کمزور ہیں کہ وہ کسی کے گھر جانا تو دور کی بات ہے جس کمرے میں رہتے ہیں اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں نہیں جاسکتے، لیٹے ہیں تو کھڑے نہیں ہوسکتے، مالی حالت اتنی خستہ ہے کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرا سکتے تو عیادت کے لیے وہی لوگ آتے ہیں جو شادیوں میں تحفے تحائف لے کر آتے تھے، جو لفافے میں بند کرکے پیسے لے کر آتے تھے لیکن آج وہی رشتہ دار، عزیر و اقارب آتے ہیں تو بس خالی ہاتھ جبکہ انہیں معلوم ہے کہ میں جس کی عیادت کرنے آیا ہوں اس کے پاس علاج کرانے کے لئے پیسہ نہیں ہے تو اس موقع پر بھی اسی لفافے میں حسب حیثیت کچھ پیسے لے کر کیوں نہیں آتے.
اور اسی طرح بطور امداد لفافے میں پیسے رکھ کر کیوں نہیں دئیے جاتے لہذا اب سے ہمیں یہ طریقہ اپنانا چاہیے کہ کسی مریض کی عیادت کرنے جائیں تو جس طرح پھل فروٹ لے کر جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ ہم اپنی وسعت کے مطابق لفافوں میں پیسے رکھ کر لے جائیں اور مریض کے جو ذمہ دار ہیں انہیں انتہائی خلوص کے ساتھ دیں اور مریض کی شفایابی کے لیے دعائیں کریں اور مریض سے عیادت کرنے والے لوگ اپنے لئے بھی دعا کرنے کے لیے کہیں جب ہم ایسا ماحول بنائیں گے تو انشاءاللہ لوگوں کو اپنا علاج کرانے میں آسانی ہوگی، انسانیت کو فروغ حاصل ہوگا، ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا دنیا میں جہاں بہت ساری رسمیں ایجاد ہوئیں وہیں اس رسم کے ایجاد کی ضرورت ہے رب کریم سب کو سلامت رکھے ہر آفت و بلا و بیماری سے محفوظ رکھے…………. آمین –
javedbharti508@gmail.com
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
