جموں و کشمیر
جب صدر جمہوریہ اپنی مرضی سے ارکین کو نامزد نہیں کر سکتا ہے تو لیفٹیننٹ گورنر کیسے کرسکتا ہے: طارق قرہ
سری نگر، جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے ایک روز قبل جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ کا سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب صدر جمہوریہ اپنی مرضی سے ارکین کو نامزد نہیں کر سکتا ہے تو لیفٹیننٹ گورنر کو ایسے اختیارات کیسے ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میرے خیال میں لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی مرضی سے ارکین نامزد کرنے کے اختیارات دینا غیر آئینی اور غیر جمہوری ہیں‘۔
موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر کو پانچ سیٹوں کو نامزد کرنے کے اختیارات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ’جہاں تک پانچ سیٹوں کا تعلق ہے تو لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی مرضی سے نامزد کرنے کے اختیارات دئے گئے ہیں حالانکہ آئین میں واضح ہے کہ صدر جمہوریہ کو بھی اگر راجیہ سبھا میں اراکین نامزد کرنے ہوں تو وہ بھی اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے ہیں انہیں بھی کیبنٹ کی سفارش پر ایسا کرنا پڑتا ہے‘۔
انہوں نے کہا: ’ایل جی کو اپنی مرضی سے اراکین نامزد کرنے کے اختیارات دئے گئے ہیں میرے حساب سے یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’جب صدر جمہوریہ ایسا نہیں کرسکتا ہے تو ایل جی کیسے کرسکتا ہے‘۔
ایگزٹ پول کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر قرہ نے کہا: ’ایگزٹ پول اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن ہمیں امید ہیں کہ ایگزیکٹ پول اس سے بہتر ہوں گے‘۔
انہوں نے کہا: ’کہیں ایگزٹ پولز صحیح ثابت ہوتے ہیں تو کہیں غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں تاہم ہم ایگزٹ پول سے زیادہ ایگزیکٹ پول میں یقین رکھتے ہیں‘۔
طارق قرہ نے امید ظاہر کی کہ الائنس کامیاب ہوگی اور ایگزٹ پول سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
پی ڈی پی کے الائنس کے ساتھ رابطہ ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ’ہر شخص اور پارٹی کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں جو بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنا چاہتے ہیں‘۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
جے اینڈ کے: لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ نے جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور کے جی او سی کا عہدہ سنبھالا
جموں، لیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ نے جمعرات کو جموں کے نگروٹا میں قائم وائٹ نائٹ کور کی کمان سنبھال لی۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایاکہ ’’لیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ نے لیفٹیننٹ جنرل پی۔ کے۔ مشرا سے وائٹ نائٹ کور کی کمان سنبھال لی ہے۔‘‘
کمان سنبھالنے کے بعد نئے کور کمانڈر نے تمام رینک کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور ٹیم کے جذبے کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ .
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف فردِ جرم داخل
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جرائم شاخ کی اقتصادی جرائم اکائی (ای او ڈبلیو) نے پلوامہ کے ایک باشندے کے خلاف جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں فردِ جرم داخل کی ہے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ملزم پولیس کے کام کاج کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
اس سال درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے معاملے میں پلوامہ کے ڈیری کے رہنے والے ثقلین مشتاق ڈار کے خلاف سری نگر کی سب جج عدالت میں فردِ جرم داخل کی گئی۔ جرائم شاخ کے مطابق، ڈار نے مبینہ طور پر اننت ناگ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے نام ایک جعلی خط تیار کیا اور اسے اس طرح پیش کیا جیسے وہ لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے جاری کیا گیا ہو۔
ایجنسی نے بتایا کہ یہ پیغام جعلی سرکاری لیٹر ہیڈ پر تیار کیا گیا تھا اور اس پر جعلی دستخط کیے گئے تھے۔
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ اس جعلی پیغام کا مقصد اننت ناگ ضلع پولیس انتظامیہ کے کام کاج کو غیر قانونی طریقے سے متاثر کرنا تھا۔
ای او ڈبلیو نے کہا کہ تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد سے الزامات ثابت ہوئے اور ہندوستانی نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 204، 319(2)، 336(2) اور 340(2) کے تحت جرائم طے ہوئے۔ جرائم شاخ نے بتایا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور معاملہ ثابت مانا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی فیصلے کے لیے عدالت میں فردِ جرم پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
