تازہ ترین
جماعت اسلامی ’’غیر قانونی‘‘قرار دئے جانے کے بعد عوامی حلقوں میں غم و غصہ
خبراردو:
ریاست کی معروف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیم جماعت اسلامی پر جمعرات کی شام مرکزی حکومت نے پابندی عائد کردی۔ جمعرات کی شام دیر گئے سماجی رابطہ گاہ سائٹوں پر محکمہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری آرڈر نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑائی جس کے ساتھ ہی اندرون و بیرون ریاست پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اداروں نے آرڈر کو نشر کرتے ہوئے خبر کی تصدیق کی۔معلوم ہوا کہ اس بات کا فیصلہ وزیرا عظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کابینی میٹنگ میں کیا گیا .
جس کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن زیر نمبر S.O 10699(E) بتاریخ 28فروری2019جاری کرکے کہا گیاہے کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے ،جو اندرونی سلامتی اور عوامی نظم وضبط کے متضاد ہیں۔جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو غیر قانونی قرار دے کر 5سال تک اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔نو ٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ (الف)جماعت اسلامی کا جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطہ ہیں اور جموں وکشمیرودیگر مقامات پر انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔(ب)جماعت اسلامی بھارت کے علاقے کے ایک حصے کی علیحدگی کے دعوے کی حمایت کرتی ہے اوردہشت گردوں اورعلیحدگی پسند گروپوں کو اس مقصد کیلئے لڑنے کی حمایت کرنے کیلئے ایسی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے ،جو بھارت کی علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔(ج)جماعت اسلامی ملک میں قوم مخالف اور دیگر دشمنانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے تاکہ منافرت کو ہوا دے سکے۔
مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں جن میں (الف)اپنی منفی سرگرمیوں میں تیزی لائے گی جن میں بھارت کے علاقے میں قانونی طور قائم حکومت کو غیر مستحکم کرکے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی کوششیں شامل ہیں۔(ب)وہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی، نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔(ج)قوم مخالف اورعلیحدگی جذبات کی تشہیر کرے گی جو کہ ملک کی سالمیت اور سیکورٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوگی۔(د)علیحدگی کی تحریک کو تیز کرے گی ،جنگجوؤں کی حمایت اور ملک میں تشدد کو بھڑکائے گی۔
اسکے علاوہ مرکزی حکومت یہ بھی خیال رکھتی ہے کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کے تناظر میں اسے ایک غیر قانونی تنظیم قرار دی جائے جس کا اطلاق فوری طور ہو۔اب اس لئے آئین ہند کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق مرکزی حکومت جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو ایک ’غیر قانونی جماعت‘ قرار دیتی ہے اور ہدایت دیتی ہے کہ یہ نوٹیفکیشن 5برسوں کیلئے قابل اطلاق ہوگی ۔ادھر حکم نامہ جاری کئے جانے کے ساتھ ہی وادی کے یمین و یسار میں عوامی حلقوں میں سخت ناراضگی پائی گئی جس دوران سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر نے سوشل میڈیا پر مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ ادھر جمعہ کی صبح سے ہی انتظامیہ نے وادی میں امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے اور کسی بھی امکانی چلینج سے نبردآزما ہونے کے لیے شہر خاص کے ساتھ ساتھ شمال و جنوب کے حساس مقامات پر فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا۔ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے شہر خاص کے کئی علاقوں میں صورتحال کے پیش نظر سخت بندشیں عائد کی تھیں جس دوران یہاں سڑکوں پر کئی مقامات پر خار دار تاریں بچھانے کے علاوہ راہ گیروں کی پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ادھر شہر کے بتہ مالو علاقے جہاں جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈکوارٹر واقع ہے کے ارد گرد بھی فورسز کی غیر معمولی نفری کو تعینات کردیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں جماعت اسلامی کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ سے قبل فورسز کی بھاری تعداد کوتعینات کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی احتجاجی مظاہرے سے بروقت نپٹا جاسکے تاہم عینی شاہدین کے مطابق یہاں نماز جمعہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے اسلام آباد ، اننت ناگ، پلوامہ اور شوپیان میں بھی جماعت کی مرکزی مساجد کے ارد گرد فورسز اہلکاروں کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا گیا تھا ۔
معلوم ہوا کہ اننت ناگ قصبہ میں قائم مسجد بیت المکرم جو جماعت علاقائی سطح پر جماعت کی اپنی مسجد ہے کے ارد گرد بھی جمعہ کو فورسز کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا ۔ ادھر بارہمولہ میں بھی مسجد بیت المکرم کے اطراف و اکناف میں پولیس کے خصوصی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا اور یہاں پر بھی لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی جارہی تھی۔ اس دوران انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور بے لگام افواہ بازی کی روک تھام کے لیے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ کی تیز رفتار سروس کو جمعہ کی صبح سے ہی معطل رکھا۔
اس دوران پولیس نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے کئی علاقوں سے دوران شب جماعت اسلامی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے مختلف تھانوں میں نظر بند کردیا۔ معلوم ہوا کہ پولیس نے تازہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران پلوامہ کے ترال قصبے سے تعلق رکھنے والے جماعت کے 6کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے لری بل، پنگلش، ڈاڈسرہ، پانر، مندورہ اور لرگام علاقوں میں شبانہ چھاپوں کے دوران قریباً6افراد کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس تھانہ ترال میں نظر بند رکردیا۔ادھر مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مرکزی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لوگوں کو بعد نماز جمعہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی ۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
