جموں و کشمیر
جموں میں ’چنگیر سازی‘ کا فن آج بھی زندہ، خواتین نے روایت کو نئی زندگی دی
سری نگر،جموں کے سرحدی علاقے آر ایس پورہ کی فضا میں آج بھی روایتی ہنر اور ثقافت کی خوشبو رچی بسی ہے یہی وہ خطہ ہے جہاں صدیوں پرانا فن چنگیر سازی آج بھی زندہ ہے چنگیر، جسے عام طور پر روٹی رکھنے والی ٹوکری یا روٹی کور کے طور پر جانا جاتا ہے نہ صرف گھریلو استعمال کی ایک ضروری شے ہے بلکہ یہ جموں و کشمیر کی دستکاری، ثقافت اور نسوانی ہنر مندی کی ایک علامت بن چکی ہے۔
یہ فن زیادہ تر دیہی خواتین کے ہاتھوں میں پروان چڑھ رہا ہے، جو گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ اس ہنر کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بھی بنا چکی ہیں۔ آر ایس پورہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون، پرینکا دیوی، انہی باصلاحیت خواتین میں سے ایک ہیں۔
یو این آئی سے خصوصی بات چیت میں پرینکا نے بتایا کہ چنگیر بنانے کا فن اپنے آپ میں ایک منفرد ہنر ہے۔ ان کے بقول،’چنگیر بنانے میں کوئی مشین استعمال نہیں ہوتی، سارا کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف صبر بلکہ تخلیقی سوچ اور صفائی نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔‘
پرینکا اس وقت کالج میں زیرِ تعلیم ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ اس روایتی فن سے وابستہ رہ کر نہ صرف اپنی پڑھائی کے اخراجات پورے کر رہی ہیں بلکہ خاندان کی مدد بھی کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا،’میں روزانہ کچھ گھنٹے اس کام کے لیے نکالتی ہوں۔ مختلف رنگوں کے کپڑے اور دھاگوں سے نئی ڈیزائن بناتی ہوں۔ اس سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔‘
پرینکا کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں نانی اور والدہ بھی یہی کام کرتی ہیں اور ان سے ہی انہوں نے یہ فن سیکھا ہے۔’نانی ہمیشہ کہتی ہیں کہ چنگیر صرف ایک چیز نہیں بلکہ یہ ہماری پہچان ہے۔ پہلے بانس اور سرکنڈے سے بناتے تھے، اب ہم رنگین رسیوں سے خوبصورت ڈیزائن تیار کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے اس ہنر کی سرپرستی یا فروغ کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جا رہے، تاہم وہ اور دیگر مقامی خواتین اپنے طور پر اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تیار شدہ چنگیریں اور دیگر دستکاری اشیاء مقامی میلوں، مارکیٹوں اور گھریلو نمائشوں میں فروخت کرتی ہیں۔
ان کے مطابق لوگ ان اشیاء کو بڑے ذوق و شوق سے خریدتے ہیں، خاص طور پر گفٹ کے طور پر۔ کئی لوگ شادی بیاہ، تہواروں یا تہنیتی تحفوں کے لیے بھی چنگیر خریدتے ہیں کیونکہ اس میں ایک خوبصورتی اور روایت کی جھلک نظر آتی ہے۔
پرینکا کے مطابق، چنگیر بنانے میں لگنے والے مواد کی قیمت زیادہ نہیں ہوتی، مگر اس پر خرچ ہونے والا وقت اور محنت بہت قیمتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک درمیانی سائز کی چنگیر بنانے میں تقریباً دو سے تین گھنٹے لگتے ہیں، جب کہ بڑی چنگیر یا بیڈ کور اسٹائل ڈیزائن تیار کرنے میں ایک دن سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
یہ ہنر، جو بظاہر ایک سادہ دستکاری معلوم ہوتا ہے، دراصل صبر، محنت، اور فنکارانہ سوچ کا حسین امتزاج ہے۔ ہر چنگیر میں رنگوں کا امتزاج، دھاگے کی ترتیب، اور کناروں کی سلائی ایک الگ کہانی سناتی ہے۔
جموں کے مقامی بازاروں میں آج بھی خواتین ہاتھ سے بنائی ہوئی چنگیر، روٹی کورز، میٹ کورز اور ڈیزائن والی چھوٹی ٹوکریاں فروخت کرتی نظر آتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا دستکاری محکمے کی جانب سے اس فن کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا جائے تو نہ صرف خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں بلکہ جموں کی ثقافتی شناخت کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔
آر ایس پورہ اور اس کے گرد و نواح میں کئی خواتین ایسی ہیں جو چنگیر سازی کے ذریعے اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر کر رہی ہیں۔ ان کے لیے یہ محض ہنر نہیں بلکہ خود مختاری کی علامت بن چکا ہے۔
پرینکا آخر میں کہتی ہیں،’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت یا کوئی این جی او اس فن کو پہچانے۔ اگر ہمیں تربیت، بہتر مارکیٹ اور مواد فراہم ہو تو ہم اس کام کو ایک بڑا کاروبار بنا سکتے ہیں۔‘
جموں کی اس باہمت لڑکی اور اس جیسی درجنوں خواتین کے ہاتھوں سے جنم لینے والی رنگین چنگیریں نہ صرف گھروں کو سجاتی ہیں بلکہ یہ اس بات کی گواہ ہیں کہ جموں و کشمیر کی خواتین آج بھی روایت، تخلیق اور خود انحصاری کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
