جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی کھوئی ہوئی حیثیت کی بحالی ہماراعزم اورریاستی درجہ کی واپسی ہمارامطالبہ
اگلی سماعت میں سپریم کورٹ سے فیصلے کی اُمید
UT کا’ سیٹ اپ‘ ناقابل برداشت، ڈیلی ویجروں کی باقاعدگی ناگزیر:سریندر چودھری
سری نگر:جے کے این ایس : نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے پیر کو بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس واحد جماعت ہے جو لوگوں کے حقوق اور وقار کے لیے مسلسل بات کرتی ہے۔ نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے راجیہ سبھا انتخابات سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے 3 اُمیدوار جو پارلیمنٹ میں داخل ہونے والے ہیں، وہ دہلی میں جموں و کشمیر کی آواز کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ نیشنل کانفرنس سے جیتیں گے، وہ راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کےلئے بات کریں گے۔انہوں نے بی جے پی پر تنقید کی کہ وہ بے روزگاری اور دیگر عوامی خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سریندر چودھری نے کہاکہ بی جے پی نے11 سال پہلے مسائل پر بات نہیں کی تھی، اور وہ آج ان کے بارے میں بات نہیں کرتی ہے۔ وہ صرف نیشنل کانفرنس کے منشور کی بات کرتی ہے، لوگوں کے مسائل کی نہیں۔ سریندر چودھری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور آئینی حیثیت کو بحال کرنے کےلئے پرعزم ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا مطالبہ ریاست کا درجہ اور جموں و کشمیر کی کھوئی ہوئی حیثیت کو واپس حاصل کرنا ہے۔ سریندرچودھری نے کہاکہ ہم اس یونین ٹریٹری کے سیٹ اپ کو برداشت نہیں کر سکتے۔انہوں نے لداخ کو ایک مثال کے طور پر حوالہ دیا کہ کس طرح یونین ٹیریٹری کی حیثیت نے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے کہاکہ وہ لوگ جنہوں نے لداخ میں یوٹی کا درجہ منایا، وہ اب غصے میں ہیں اور خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے درد کا تصور کریں جنہوں نے کبھی اس کا مطالبہ بھی نہیں کیا،۔نائب وزیر اعلیٰ نے یومیہ اجرت والے اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یومیہ اجرت والوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہیں ریگولرائز یا باقاعدہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے، سریندرچودھری نے اس کے مقامی لیڈروں پر دہلی کےلئے ماو ¿تھ پیس کے طور پر کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ یہاں بی جے پی لیڈر کٹھ پتلی ہیں، دہلی سے جو بھی خط آتا ہے، وہ صبح ہی پڑھ لیتے ہیں۔سریندر چودھری نے محبوبہ مفتی اور بی جے پی لیڈروں کو بھی نشانہ بنایا، اور اشارہ دیا کہ وہ مرکز کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما اور محبوبہ مفتی ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ وہ وہی پڑھتے ہیں جو دہلی بھیجتا ہے۔نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صحافیوں کو پابندیوں کا سامنا ہے لیکن دباو ¿ کے باوجود سچ بولنا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو صحافی سچ بولتے ہیں انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم جانتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں۔ریاستی حیثیت کے بارے میں، سریندر چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اب فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ انتخابات بھی اس کی ہدایت پر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے نہ صرف ہم سے بلکہ سپریم کورٹ سے ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔چودھری نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگلی سماعت کوئی فیصلہ لائے گی۔اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم سے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے تفصیلات میں جانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ فارم جمع کرانے کے لیے ابھی بھی وقت ہے۔ اس کے بعد ہم سے پوچھیں، ابھی نہیں۔سریندر چودھری نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ این سی قیادت کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر آپ جموں و کشمیر میں کسی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، تو نیشنل کانفرنس، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے کیڈر کو لیں۔ دیگر ٹیم اے، بی، سی میں تقسیم ہیں۔نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے کہا کہ تنقید کرنے والے جو کبھی دعوے کرتے تھے آج خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے50 بار چیختے تھے وہ اب سیٹیاں بجا رہے ہیں، 24اکتوبر کو آنے دو، نتیجہ بولے گا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
