جموں و کشمیر
جموں و کشمیرکو تباہ و برباد کرنے کے لئے پی ڈی پی نے بھاجپا کیلئے دوازے کھولے: عمر عبداللہ
سری نگر،نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بھی حکمرانوں کی طرف سے فرقہ پرستی کی باتیں ہورہی ہیں، لوگوں کو لڑوانے کیلئے اُکسایا جارہاہے، ایسی تقریری سُن کر افسوس ہوتا ہے، کہا جارہاہے کہ ہندو خطرے میں ہیں،ایسی تقریروں کا مقصد مذاہب کے بیچ میں تناﺅ اور جھگڑا پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھلا14فیصد مسلمانوں کی آبادی سے 80فیصد ہندﺅں کی آباد کو کون سا خاطرہ لاحق ہوگا؟مسلمانوں نے کبھی اپنے حق سے زیادہ نہیں مانگا، آپ ہمیں ملک میں ایک مسلمان دکھائے جس نے اپنے حق سے مانگا ہو یا جسے حق سے زیادہ دیا گیا ہو؟ان باتوں کا اظہار عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر میں الیکشن ریلیوں سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ افسوس تو اس بات ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اپنا حق بھی نہیں مل رہا ہے، حکمران جماعت کے پاس لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں بھیجنے کیلئے ایک بھی مسلمان نہیں مل رہاہے، 14فیصد آبادی کو مرکزی وزاتوں میں ایک بھی وزارت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اسی ناانصافی اور انہی فرقہ پرست طاقتوں کیخلاف لڑ رہی ہے اور جو ہمارے خلاف میدان میں ہیں وہ براہ راست بی جے پی کی مدد کررہے ہیں اور عوام کو موجودہ انتخابات میں غور و فکر اور سوچ سمجھ کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔
پی ڈی پی اور محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہاکہ الزام لگانا آسان ہے، آپ اپنی حکمرانی کا کچھ حال بتائے، آپ کے دورِ حکومت میں یہاں کے لوگوں کو کیا کیا دیکھنا پڑا، جب آپ کے پاس لوگوں کی ترجمانی کرنے کا موقعہ تھا تب آپ مودی جی کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھیں۔
آپ اپنی تقریروں میں کہتی تھی کہ دنیا میں ایک ہی آدمی کشمیر اور کشمیریوں کا مسئلہ حل کرسکتا ہے اور وہ مودی جی ہیں، کیا مودی جی نے یہاں کا مسئلہ حل کیا؟ آپ نے تو کشمیر کو تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دلوایا۔آپ نے ہماری پہچان، ہمارا وجود، ہماری انفرادیت تہس نہس کروانے میں بھاجپا کیلئے دروازے کھول کردیئے۔
انہوں نے کہاکہ 2016میں جب یہاں بے چینی تھی، اُس وقت آپ کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے سامنے یہاں کے عوام کی ترجمانی کرنے کاموقعہ فراہم ہوا تھا لیکن آپ نے یہاں کے عوام کے دکھ ، درد اور احساسات بیان کرنے کے بجائے اُلٹا یہاں کے عوام کو طعنے دیئے اور یہ تک کہہ ڈالا کہ جو بچے گولیوں سے مارے جارہے ہیں وہ دودھ اور ٹافی لینے نہیں جارہے تھے، آپ نے اپنے دورِ حکومت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا اور ایک بار بھی اپنی غلطی کا اعتراف اور عوام سے معافی مانگنا گوارا نہیں سمجھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ آج ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ دفعہ370نے لوگوں کا کیا دیا، ہم کہتے ہیں کہ اگر کچھ نہیں دیا تو کم از کم مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے یہاں کے عوام کو اس دفعہ کے ذریعے زمینوں پر مالکانہ حقوق دیئے، یہ پورے ملک میں کہیں نہیں ہوسکا، آج انہی زمینوں کو خطرہ ہے۔ ہم ہائی وے اور ریلوے کیخلاف نہیں لیکن کیا یہ ضروری ہے جن زمینوں سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے، جن زمینوں کیساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہو اہے، اُنہی زمینوں سے ریل اور ہائے وے بنایا جائے، کیا ٹریک کاراستہ تھوڑا ادھر اُدھر نہیں کیا جاسکتا؟
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس وہ تنظیم ہے، جس نے یہاں کے لوگوں کو زمینوں پر مالکانہ حقوق دیئے، ہم عوام سے یہ حق چھینتے ہوئے نہیں دیکھیں گے،آپ کا نمائندہ پارلیمنٹ ضروری جائیگا ، انشاءاللہ وہ نمائندہ جائیگا جو وہاں پر آپ کی بات کریگا، وہ نمائندہ نہیں جو دودھ اور ٹافی کی بات کرے اور اپنے ہی لوگوں کو طعنے دے۔
یو این آئی-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
