جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں صوتحال تشویشناک:مونسون کا دباﺅ جاری:منگل کی شام سے جموں ،خطہ پیرپنچال کے آرپار اوروسطی کشمیرمیں موسلا داربارش
ندی نالوںمیں طغیانی، جہلم میں فی گھنٹہ پانی کی سطح میں ڈیڑھ فٹ اضافہ
جنوبی کشمیرمیں سیلاب کا الرٹ جاری ،سری نگرمیں بھی سرکاری مشینری کمربستہ،رات دیرتک جہلم کے خطرے کے نشان کو کو عبورکرنے کااندیشہ
توی ،راوی ،چناب ،اوجھ اور چناب میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے بعد جموں ،اودھم پور،کٹھوعہ ،سانبہ اور دیگر علاقوںسے لوگوں کی ہنگامی منتقلی
سری نگر: جے کے این ایس : منگل کی شام سے رات بھر اور پھر بدھ کی دوپہرتک بغیر کسی وقفے سے موسلا دار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث جنوبی اور وسطی کشمیرمیں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا جبکہ اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں آبی ذخائرکے نزدیک واقع کئی بستیوں میں پانی داخل ہونے کے بعد حکام نے جنوبی کشمیرمیں متوقع سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کردیا اورجنوبی کشمیرکو سیلاب زدہ علاقہ قرار دیاگیا۔اس دوران نالہ ویشو،نالہ لدر اور دیگر کئی ندی نالوںمیں طغیانی آنے کے بعد دریائے جہلم میں یکایک پانی کی سطح منگل کی صبح کے مقابلے میں بدھ کو بعدددوپہرتک تقریباً6تا8فٹ تک بڑھ گئی ،سنگم اوررام منشی باغ سری نگرکے مقام پر جہلم نے خطرے کے نشانات کو عبور کرلیا ۔حکام نے بدھ کی شام تک جہلم میں پانی کی سطح مزید بڑھ جانے کااندیشہ ظاہر کرتے ہوئے بچاﺅ کارروائیوں کیلئے کمر کس لیا اور مشینری کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاررکھاگیا۔ادھر شمالی کشمیرمیں گرچہ جہلم ابھی خطرے کے نشان سے نیچے ہے لیکن جھیل وولرمیں پانی کی سطح خطرے کے نشان کو عبور کر گئی ،جسکے نتیجے میں بانڈی پورہ اور سوپورکی کئی بستیوں میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق موسمیاتی ماہرین کے ایک نجی گروپ کشمیر ویدر نے بدھ کی سہ پہر یہ جانکاری فراہم کی کہ سنگم کے مقام پر جہلم کے پانی کی سطح میں مزید چند فٹ اضافے کا امکان ہے۔اور شام سے رات تک اوپر کا رُجحان ممکن ہے۔کشمیر ویدر کے مطابق سری نگرمیںرام منشی باغ کے مقام پرجہلم میں پانی کی سطح پہلے ہی سیلاب کے اعلان کے نشان کو عبور کر چکی ہے۔ پانی کی سطح3 گھنٹے میں خطرے کے نشان کو عبور کرسکتی ہے۔
جبکہ جہلم میںپانی کی سطح دیر رات یاکل صبح تک بڑھ سکتی ہے۔عشم سونہ واری کے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح بھی رات گئے تک سیلاب کے اعلان کے نشان تک پہنچنے کا امکان ہے۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیرنے اپنی تازہ جانکاری میں بتایاکہ بدھ کی صبح سے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے بعد سہ پہر 3بجے دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پرپانی کی سطح یا اونچائی 26.94فٹ تھی ،جو خطرے کے نشان21تا25فٹ سے زیادہ ہے ۔پانپورمیں پانی کی سطح 5.99میٹر ریکارڈ کی گئی ،جو خطرے کے نشان سے اوپرہے ۔سری نگرمیں بدھ کی سہ پہر5 بجے رام منشی باغ کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح20.06فٹ تھی ،جو سیلابی اعلان کے نشان 21فٹ سے ابھی نیچے ہے لیکن شام سے رات دیر تک پانی کی سطح خطرے کے نشان کو عبور کرسکتی ہے ۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیر کے مطابق اس دوران عشم سونہ واری کے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح 10.06فٹ تھی جبکہ یہاں خطرے کانشان 16.5فٹ رکھاگیا ہے ۔تاہم جھیل وولر میں پورااُبال آچکاہے اور یہاں پانی کی سطح بدھ کی سپہرتین بجے1576.54میٹر تھی ،جو خطر ے کے مقررہ نشان1578.00میٹر سے کچھ کم ہے ۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیرکے مطابق بدھ کی سہ پہر5 بجے کھڈونی کولگام کے مقام پر نالہ ویشو میں پانی کی سطح10.95میٹر تھی ،جو خطرے کے نشان8.50میٹر سے کہیں زیادہ ہے ۔جنوبی کشمیرکے دیگر بڑے نالوں بشمول رامبیاروچی ،بٹہ کوٹ پہلگام میں لدراور گاندربل میں سندھ نالے میں بھی بارشوں کے بعد پانی کی سطح میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔اس دوران حکام نے تازہ موسمی صورتحال کے بارے میں بتایاکہ بدھ کو سہ پہر ساڑھے تین بجے اننت ناگ ضلع کے کئی علاقوں میں بارش، دیگر مقامات پر ابر آلودموسم ہے۔کولگام ضلع ہلکی سے اعتدال پسندبارش جاری ہے جبکہ ضلع شوپیان بھی ہلکی بارش ہورہی ہے تاہم پلوامہ ضلع میں ابر آلودموسم تھا۔وسطی اور شمالی کشمیرمیںجزوی دھوپ کے بعدمطلع ابر آلودہوگیااور کسی بھی وقت بارش ہونے کاامکان ہے ۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیرنے سنگم کے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے پر سیلاب کا الرٹ جاری کردیا۔کمزور مقامات کی نگرانی کیلئے ہنگامی ٹیموں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے؛ عوام سے گزارش ہے کہ دریاو ¿ں سے گریز کریں۔ حکام نے بدھ کے روز کہا کہ کشمیر میں صورتحال نازک ہوتی جا رہی ہے کیونکہ دریائے جہلم سنگم میں سیلاب کے خطرے کے نشان کو عبور کر گیا ہے، جبکہ رام منشی باغ فی الحال معمول کی سطح پر ہے۔حکام نے بتایا کہ محکمہ ہائی الرٹ پر ہے اور تمام ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ کمزور جگہوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ ریت کے تھیلے بھی رکھے گئے ہیں۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیر کے چیف انجینئر ای آر شوکت حسین نے کہا کہ سنگم میں پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس میں تقریباً 1.5 فٹ فی گھنٹہ اضافہ ہو رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیرہائی الرٹ ہے اور تمام ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔
کمزور مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ سینڈ بیگز بھی موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کولگام کے ویچو نالہ میں ایک معمولی کے علاوہ اب تک کوئی بڑی شگاف نہیں ہوئی ہے جس کا پہلے ہی ازالہ کیا جا چکا ہے۔اس دوران محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیر نے فلڈ ڈیوٹی پر موجود تمام افسران کو فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ تمام ٹیمیں چوکس ہیں، اور صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیر کے ایک اہلکار نے کہا کہ تمام افسران کو فوری طور پر ڈیوٹیوں پر رپورٹ کرنے کے لیے سیلاب کی ڈیوٹیاں سونپی گئی ہیں۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ تمام ٹیمیں الرٹ ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔حکام نے بتایاکہ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیرکا صورتحال پر نظر رکھنے اور بچاو اور امدادی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے ہندوستانی فوج اور سول انتظامیہ سمیت دیگر ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ اگرچہ دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیاں خطرے کے نشان سے کافی نیچے بہہ رہی ہیں، تاہم منگل کو بارش شروع ہونے کے بعد سے سری نگر سمیت جنوبی اور وسطی کشمیر کے کچھ حصوں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول نے کہا کہ پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور مسلسل بارش کی وجہ سے مزید بڑھ سکتی ہے۔محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کشمیر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ تمام متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ضروری اقدامات کریں۔ عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آبی ذخائر کے قریب نہ جائیں اور احتیاط برتیں۔ سیلاب کی ڈیوٹی تفویض کیے گئے تمام افسران کو فوری طور پر اپنی پوسٹوں پر رپورٹ کرنا چاہیے۔دریں اثناءجموں خطے کے کئی اضلاع بشمول جموں شہر میں دوران شب مسلسل موسلا دار بارش ہونے کے بعد بدھ کو سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔حکام نے بتایاکہ دریائے توی ،راوی ،چناب ،اوجھ اور دیگر ندیوں میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے بعد جموں ،اودھم پور،کٹھوعہ ،سانبہ اور دیگر علاقوںسے لوگوں کی نقل مکانی شروع کردی جبکہ کئی سیلاب زدہ علاقوں سے سینکڑوں لوگوںکو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا۔انہوںنے بتایاکہ دریائے توی ،راوی ،چناب ،اوجھ اور دیگر ندیوں میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے بعد نزدیکی علاقوںمیں الرٹ جاری کیاگیا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر بچاﺅ ٹیموںکو متحرک کیاگیا،جنہوں نے تقریباً2000ہزار لوگوں کو خطرناک علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامامات پر منتقل کردیا ۔حکام نے بتایاکہ مزید بارشوں سے متعلق پیش گوئی کے پیش نظر پوری انتظامیہ کو متحرک رکھاگیا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے بروقت نمٹ کر لوگوںکے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایاجاسکے ۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
