تازہ ترین
جمہوریت اور آئین کا گلا گھونٹ کر بھاجپا جموں وکشمیر کو اندھیروں میں دکھیلنے میں مصروف: نیشنل کانفرنس
لیفٹنٹ گورنر کے دعوے بے بنیاد، زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 70برسوں کے دوران ترقیاتی منظرنامے سے متعلق لیفٹیننٹ گورنر کی لن ترانیوں کی کوئی بنیاد نہیں اور تاریخی حقائق موصوف کے دعوؤں سے میل نہیں کھاتے۔
ان باتوں کا اظہار پارٹی کے رکن پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون نے اپنے ایک بیان میں لیفٹنٹ گورنر کے اُس بیان پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیا جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ”گذشتہ70برسوں میں جموں وکشمیر کو کیا ملا اس کا محاسبہ کیا جانا چاہئے“۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے گذشتہ70سال سے بہت کچھ حاصل کیا تھا لیکن بھاجپا نے جمہوریت اور آئین کا گھلاگھنوٹ کو اس تاریخی ریاست کو اندھیروں میں دھکیلنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ اگر لیفٹنٹ گورنر موصوف نے آزادی کے بعد کی جموں وکشمیر کی تھوڑی سی بھی تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس طرح کے لاعملی پر مبنی دعوے نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان دعوؤں کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہئے، یہ افسانہ نگاری اور جھوٹا پروپیگنڈا گذشتہ سال 5اگست کو کئے گئے غیر آئینی اور غیر جمہوری اور سرے سے ہی ناکام اقدامات کو جواز بخشنے اور صحیح جتلانے کے بڑے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔
زمینی سطح پر جمہوریت کو مستحکم کرنے اور اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق موصوف کے دعوے بھی جموں و کشمیر میں موجودہ زمینی صورتحال سے میل نہیں کھاتے۔پتہ نہیں گورنر صاحب کسی جمہوریت کی نشاندہی کررہے ہیں۔ گذشتہ سال سے ہم نے عوامی نمائندوں، اراکین پارلیمان، سابق ممبرانِ اسمبلی، سابق وزرائے اعلیٰ اور دیگر سیاسی کارکنوں کی نقل و حرکت پابندی اور نظربندہی دیکھا ہے۔
لوگوں کو یہ بھی یاد ہے کہ کس طرح سے گذشتہ سال سیاسی جماعتوں کو ایک منتخبہ حکومت بنانے سے روکا گیا اور اس کیلئے جمہوریت کو تار تار کرکے اسمبلی کو تحلیل کیا گیا۔ جموں وکشمیر میں محض دکھاوے کیلئے پنچایتی انتخابات کرائے گئے اور اس میں بھی آج تک 12000پنچایتی نشستیں خالی پڑی ہیں اور حکومت اب دکھاوے کے انتخابات کرانے سے بھی قاصر ہے۔
گورنر صاحب گذشتہ2سال کے دوران مضبوط کی گئی کس جمہوریت کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ہم نے گذشتہ دو سال کے دوران وہ جمہوریت بھی دیکھی جب ایک عہدے پر انتخابات ہونے سے پہلے ہی منتخب ہونے والے شخص کے نام کا اعلان کیا گیا۔
لون نے کہا کہ یہ ایک نہ مٹنے والی حقیقت ہے کہ کس طرح زرعی اصلاحات غربت کے خاتمے کا سبب بنا اور ریاست کے تینوں خطوں کی ایک بہت بڑی آبادی کو راحت پہنچائی اور ناانصافی کا خاتمہ کیا گیا۔ ہماری ریاست پہلی تھی جس نے اصلاحات متعارف کیاگیا، چکداری، سودخوری اور جاگیرداری کا خاتمہ کیا گیا اور سنگل لائن انتظامیہ جیسے اقدامات نے جموں وکشمیر میں غربت کے خاتمے کے سلسلے کو بہت آگے بڑھایا۔
پورے برصغیر میں پنچایتی راج کا تصور جموں و کشمیر سے شروع ہوا۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے بہت ہی قلیل وقت میں تاریخ ساز اقدامات سے جموں وکشمیر میں جمہوریت کو زمینی سطح تک پہنچایا، عوام میں خود اعتمادی اور خدا اعتمادی کا جذبہ پیدا کیا، غربت اور افلاس کا خاتمہ کیا اور ریاست کو تعمیر و ترقی کی پٹری پر لاکھڑا کیا۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے انقلابی اقدامات کو دنیا بھر کے لیڈران نے مشعل راہ قرار دیا ہے۔
محمد اکبر لون نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر کی طرف یہ کہنا ہے کہ جموں وکشمیر نے گذشتہ70سال میں کیا حاصل کیا، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 30سالہ پُرآشوب دور سے گزرنے کے باوجود بھی جموں وکشمیر میں ملک کی بیشتر ریاستوں سے ترقی یافتہ شامل ہوتی ہے۔
1990سے قبل جموں وکشمیر مہاراشٹرا، دلی، کولکتہ اور دیگر بڑی ریاستوں کیساتھ مقابلے کی جانب گامزن تھی۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بیشتر ریاستوں کے مقابلے بہت ہی اچھا تعلیمی شعبہ، طبی شعبہ اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور اس میں سے بیشتر کام نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 1996تک پُرآشوب دور کے دوران یہاں بنیادی ڈھانچہ ختم ہوگیا تھا۔
اس کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے یہاں نیا ڈھانچہ قائم کیا اور ریاست کو دوبارہ تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا اورپھر 2009سے 2014تک عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے ہر شعبہ میں جتنا کام کیا اُتنا 60سالہ تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ گورنر صاحب کا یہ کہنا کہ،ہم نے گذشتہ70سال میں کیا حاصل کیا ہے، زمینی حقائق کے عین برعکس اور محض ہوا میں تیر مارنے کے مترادف ہے۔
دنیا
ٹرمپ کا دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ”ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”یہ دلچسپ ہوگا، ہے نا؟ لیکن میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”
ٹرمپ 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے ”بہت اچھے تعلقات” ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو کوئی ”رعایت” نہیں سمجھتے اور اگر اس سے امریکی قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق، پیر کو پیانگ یانگ کے علاقے سے داغا گیا ایک میزائل 900 کلومیٹر (559 میل) سے زیادہ فاصلے تک گیا۔ فوج نے میزائلوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔
جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ کم از کم دو میزائل 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر جا گرے۔
ان کے مطابق، پہلے میزائل نے تقریباً 220 کلومیٹر (137 میل) جبکہ دوسرے نے 910 کلومیٹر (565 میل) سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ کویاری نے دوسرے میزائل کے غیر معمولی پروازی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ ہائپرسونک ہتھیار ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور پیانگ یانگ سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ رواں سال کے اواخر میں کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ وہ ذاتی سفارت کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جس کے تحت ان کی پہلی مدتِ صدارت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین براہِ راست ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو چائے پر بلایا، طے کریں گے آگے کی حکمت عملی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو منگل کی شام چار بجے چائے پر مدعو کیا ہے۔ اس میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو آگے بڑھانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
مسٹر گاندھی کی رہائش گاہ 5 سنہری باغ میں ‘ہائی ٹی’ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اتحاد کے آئندہ کے پروگراموں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاج کی اگلی حکمت عملی پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا اتحاد پچھلے کچھ دنوں سے ووٹر فہرستوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کر رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے ان مسائل پر پیر کے روز بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک نکالے گئے مارچ کی کامیابی کے لیے کل دیر رات اس میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ اتحاد کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔
کانگریس رہنما کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس چائے پارٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تال میل، آئندہ کے پروگراموں اور ان مسائل پر احتجاج کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
