دنیا
جنوبی سوڈان کے قریب متنازع علاقے میں فرقہ وارانہ جھڑپ، 23 افراد ہلاک
جوبا، جنوبی سوڈان کے قریب متنازعہ ابیئی خصوصی انتظامی علاقے میں وارپ ریاست کی ٹوک کمیونٹی کے مسلح نوجوانوں اور نگوک ڈنکا کے درمیان دوبارہ فرقہ وارانہ جھڑپوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے پیر کو اس کی تصدیق کی۔ اقوام متحدہ کی عبوری سیکورٹی فورس ابیئی (یو این آئی ایس ایف اے) نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں ریاست وارپ کی ٹوک کمیونٹی کے مسلح نوجوانوں نے ابیئی خصوصی انتظامی خطے کے علاقوں پر حملہ کیا۔
یو این آئی ایس ایف اے نے کہا، “مسلح حملہ آوروں نے 3 اور 4 فروری کومالول الیو، بینٹین، اوولنہوم، اباٹوک، مجبونگ، اوول اور رومامئر کے مشرقی علاقے میں شہریوں پر حملہ کیا اور اس دوران راکٹ، گرینیڈ اور مارٹر جیسے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔”
قابل ذکر ہے کہ دونوں برادریوں کے درمیان پہلی بار 27 سے 28 جنوری کو ایبئی کے انتظامی علاقے میں جھڑپ ہوئی تھی، جس میں اقوام متحدہ کے دو امن فوجیوں سمیت 54 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یو این آئی ایس ایف اے نے کہا کہ ابیئی کے جنوبی حصے میں لڑائی کے نتیجے میں بہت سے شہری مارے گئے، بہت سے زخمی اور بہت سے اغوا ہوئے ہیں۔ گاؤوں کو جلانے اور مویشیوں کی چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔
ابیئی کے انتظامی علاقے کے وزیر اطلاعات بلیس کوچ اگوار اجیت نے دعویٰ کیا کہ نیور کے روحانی پیشوا گائے ماچیک اور ان کے حامیوں کے ذریعہ حمایت یافتہ ٹوک کے مسلح نوجوانوں نے خطے کے مختلف گاؤوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا قتل کیا گیا۔ بازاروں اور املاک کو آگ لگانا اور مویشیوں کی لوٹ ہوئی۔”
یواین آئی ایس ایف اے نے کہا کہ اس نے مزید تشدد کو روکنے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے زمینی اور فضائی گشت کو تیز کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “یواین آئی ایس ایف اے کے امن دستے اس وقت اپنے ٹھکانوں میں 2000 سے زیادہ بے گھر افراد کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں بنیادی مدد فراہم کر رہے ہیں، جن میں سینکڑوں بچے، حاملہ خواتین، بوڑھے اور معذور افراد شامل ہیں۔”
یواین آئی ایس ایف اے نے جاری تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بین فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور امن کے لئے خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “مشن ان لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ اپنی دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں اور یاد دلاتا ہے کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم بن سکتا ہے۔”
یواین آئی ایس ایف اے نے دشمنی کے فوری خاتمے، بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا، “یواین آئی ایس ایف اے نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے اورابیئی میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
امریکی حکام نے چین کو ہتھیار فروخت کرنے کے منصوبے کی تردید کی: وال اسٹریٹ جرنل
نیویارک، امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ واشنگٹن نے بیجنگ کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی ہو سکتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ اطلاع دی ہے۔
اتوار کو چین میں امریکی سفیر ٹیری برانسٹڈ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی ہتھیار خریدنے کی تجویز دی تھی۔ برانسٹڈ نے یہ نہیں بتایا کہ شی جن پنگ نے اس پر کیا جواب دیا تھا۔
اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو ہتھیار فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایک دوسرے عہدیدار نے اخبار سے بات کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ چین کو ہتھیاروں کی فروخت قانون کے تحت ممنوع ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے بیجنگ کو ایسی کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ٹرمپ نے کانگریس کے انتخابات سے قبل ایران پر حملوں کا امکان برقرار رکھا
نیویارک، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کو برقرار رکھا ہے۔
جب فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان سے انتخابات سے قبل دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ممکن ہے، لیکن میں صرف یہ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے اطلاع دی تھی کہ مسٹر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہیں اس ہفتے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کی توقع ہے۔
یو این آئی ۔ ایم جے
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
