تازہ ترین
جہانگیر ارشد: نمک کی مقدار دکھانے والا چمچہ تیار کرنے والا کشمیری نوجوان
سری نگر، (یو این آئی): شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے جہانگیر ارشد نے کشمیر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک ایسا ادارہ قائم کیا ہے جس میں سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیادی کتابوں میں درج تھیوریز نہیں پڑھائی جاتی ہیں بلکہ ان تھیوریز کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس انسٹی ٹیوٹ میں ایک ایسا چمچہ تیار کیا ہے جس سے سالن یا نمکین چائے میں نمک کی مقدار معلوم کی جا سکتی ہے۔
موصوف نے اس سے قبل بھی کئی ایسے آلات ایجاد کئے ہیں جن پر انہیں نہ صرف سونے کے تمغوں سے نوازا گیا بلکہ بعض آلات ان کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بن گئے۔
کشمیر یونیورسٹی سے ایم ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے والے 27 سالہ جہانگیر نے یو این آئی کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہا کہ میں ایک ایسے منفرد چمچے پر کام کر رہا ہوں جس سے یہ معلوم کیا جا ئے گا کہ باورچی خانوں میں جو سالن ہماری خواتین تیار کر رہی ہیں اس میں نمک کی مقدار کیا ہے، اس چمچے کا نمونہ تیار ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا:‘اس نوعیت کے چمچے کو بنانے کا آئیڈیا میرے انسٹی ٹیوٹ میں زیر تربیت طلبا نے دیا’۔ان کا کہنا تھا:‘ان بچوں نے مجھ سے کہا کہ ہمارے باورچی خانوں میں جو سالن یا نمکین چائے بنائی جاتی ہے اس میں نمک کم یا زیادہ ہوتا ہے کیوں نہ ایک ایسا آلہ تیار کیا جائے جس سے نمک کی مقدار معلوم ہوسکے ’۔
موصوف نے کہا کہ یہ چمچہ یہ دکھائے گا کہ سالن میں کتنے یونٹ نمک ہے۔
انہوں نے کہا:‘اس چمچے کو جب سالن میں ڈالے جائے گا تو یہ دکھائے گا اس سالن یا نمکین چائے میں کتنے یونٹ نمک موجود ہے ’۔
ان کا کہنا تھا:‘ہم اس چمچے کی بیٹری پر کام کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ یہ چمچہ بغیر بیٹری کے کام کرسکے جس میں ہمیں ابھی کچھ ماہ لگ جائیں گے ’۔
جہانگیر ارشد نے کہا کہ یہ چمچہ صرف باورچی خانے میں ہی ہماری خواتین کے کام نہیں آئے گا بلکہ‘ہائپر ٹینشن’کے مریضوں کے لئے بھی مفید ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا:‘ میرے بانڈی پورہ میں قائم انسٹی ٹیوٹ میں چھ طالب علم عدنان فاروق، تابش مشتاق، تبسم منظور، امان سیرت جان اور زینب النسا اس چمچے پر کام کر رہے ہیں ’۔
ان کا کہنا تھا:‘میری پہلی اختراع‘بیبی پیس اینڈ فور ٹلنگ ڈیوائس’تھا جو ایک ڈائپر نما آلہ تھا جو بچوں اور فالج زدہ مریضوں کے لئے تھا’۔انہوں نے کہا کہ یہ آلہ پہلے ہی دکھا دیتا تھا کہ اس کے لگانے والے کو کب باتھ روم جانے کی ضرورت پڑے گی’۔
موصوف نوجوان نے کہا کہ اس آلے کے لگانے والے مریض کے بارے میں نرس کو پہلے ہی معلوم ہوگا کہ مریض کو کب رفع حاجت کے لئے باتھ روم جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آلے کی اختراع پر مجھے سونے کے تمغے سے سرفراز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا جاپان جیسے ملکوں کی کئی کمپنوں نے میرے ان آلات میں دلچسپی دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدہ بھی طے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جاپان کی کمپنیوں کی طرف سے حوصلہ افرائی ملنے پر ہم نے مزید بیس آلات پر کام کرنا شروع کیا ہے۔
جہانگیر ارشد نے کہا کہ ہم نے سری نگر کے حضرت بل میں‘کیشو ووٹیک’نامی ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے جس میں طلبا کو یہ آلات تیار کرنا سکھایا جاتا ہے تاکہ سماج میں موجود مشکلات کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ یہاں سائنسی مزاج پیدا ہونا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے انسٹی ٹیوٹ میں نویں سے بارہویں جماعت کے سائنس کے طالب علم میں زیر تربیت ہیں جو اپنی کتابوں میں بنیادی تھیوریز کو ہی عملی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
موصوف نوجوان نے کہا کہمیرے انسٹی ٹیوٹ میں اب تک زائد از ڈیڑھ سو بچوں نے مختلف آلات تیار کئے ہیں۔انہوں نے کہا:‘ہمارا یہ انسٹی ٹیوٹ کامیابی سے چل رہا ہے اور ہماری کاوشیں سود مند اور ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں ’۔
جہانگیر ارشد جو امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکزاس سے آن لائن آرٹی فیشل انٹلی جنس اور میشن لرننگ کا کورس کر رہے ہیں، کا کہنا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2022 میں بھی اختراعی مصنوعات کے فروغ پر زور دیا گیا ہے لیکن اس میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے انجینئروں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے وہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی بہترخدمت کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا:‘صرف انجینئر ہی نہیں بلکہ ہر طالب علم موجد و مخترع بن سکتا ہے صرف سماج کے مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے ’۔
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
