ہندوستان
جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرحِ نمو پر جے رام رمیش اٹھائے سوال ، کہا مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے پر بڑھ رہا ہے شدید اقتصادی بوجھ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستان کی 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کی اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ اہم اعداد و شمار معیشت میں موجود کئی بنیادی کمزوریوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر “وقت سے پہلے جشن منانے” کا الزام لگایا ہے۔
پیر کے روز جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون کے دوران ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی سال بہ سال 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی، جس میں مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 81.36 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 75.46 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ نامینل جی ڈی پی 10.3 فیصد بڑھ کر 88.27 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔
پہلی سہ ماہی کی یہ نمو ریزرو بینک آف انڈیا کے پہلے کے 7 فیصد کے تخمینے سے زیادہ تھی، اگرچہ یہ مالیاتی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں درج کی گئی 8.6 فیصد کی ترمیم شدہ نمو سے کم تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعداد و شمار پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار معیشت کی صورتحال کی گمراہ کن تصویر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “سہ ماہی جی ڈی پی کے اعداد و شمار، جیسے کہ وہ رپورٹ کیے گئے ہیں، معیشت کی ایک شدید تحریف شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔”
جے رام رمیش نے دلیل دی کہ نمو کے یہ اعداد و شمار ملکی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے درمیان “شدید طور پر افسردہ نجی سرمایہ کاری کے جذبات” کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے صارفین کے کمزور اعتماد، گھریلو ضروریات کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری، چین کے ساتھ تجارتی خسارے اور گھریلو مالیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا، “صارفین کا اعتماد کمزورہوا ہے، جو کووڈ کے بعد کے اپنے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گیا ہے اور نومبر 2025 سے مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں “تیزی سے بڑھ رہی ہیں” اور تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری “تشویشناک سطح” پر ہے۔
کانگریسی رہنما نے چین کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ “چین کے ساتھ مسلسل تجارتی خسارہ تباہی مچا رہا ہے”۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اہم شعبوں کو “چند بڑے صنعتی گھرانوں” کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر “نقصان دہ اثرات” مرتب ہو رہے ہیں۔
جے رام رمیش نے نابرابری اور گھریلو مالیات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “ہندوستان کے 5 سب سے امیر خاندانوں کی دولت میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہ دار ملازمین کی حقیقی اجرتوں میں کمی آئی ہے،” جبکہ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ گھریلو بچت کی شرح میں کمی آئی ہے اور گھریلو قرضے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ان کی یہ تنقید پہلی سہ ماہی کی نمو کے اعداد و شمار کی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے زبردست تائید کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے 7.8 فیصد کے اس اضافے کو ایک “مثالی” اور “عظیم کارنامہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مسلسل عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود یہ کارکردگی حاصل کی ہے۔
حکومت نے توقع سے زیادہ مضبوط جی ڈی پی کارکردگی کو ہندوستانی معیشت کے استحکام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے ساتھ، سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی گراس ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گراس فکسڈ کیپٹل فارمیشن میں 11.9 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔
کانگریس نے تاہم یہ دلیل دی ہے کہ اقتصادی نمو کا معیار اور شمولیت کا اندازہ روزگار، حقیقی اجرت، گھریلو استعمال، بچت، نجی سرمایہ کاری اور مالیاتی تحفظ سمیت وسیع تر اشاریوں کے ذریعے لگایا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعظم پر براہِ راست تنز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: “یہ وزیرِ اعظم کی طرف سے وقت سے پہلے جشن منانے کا معاملہ ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
کھیل1 week agoورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
