تازہ ترین
حالیہ برفباری کے بعد یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت میں اضافہ
درجنوں علاقے اپنے اپنے ہیڈ کواٹروں سے الگ تھلگ،لوگوں کو ہنوز مشکلات ومسائل کا سامنا
زمینی رابطوں کی بحالی، بجلی،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گئے:حکام
سرینگر:وادی کشمیر میں حالیہ برفباری سے پیدا شدہ صورتِ حال کے نتیجے میں جہاں عام لوگوں کو مسائل ومشکلات کا سامنا ہے،وہیں ٹھٹھرتی اور زمینی رابطے منقطع رہنے سے عوامی مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زمینی رابطوں کی بحالی کیساتھ ساتھ بجلی،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق چلہ کلان کے ابتداء میں ہی توقعات کے برعکس ریکارڈ توڑ برفباری کے سببوادی اس وقت ٹھٹھر رہی ہے جبکہ اہلیان کشمیر کو طرح طرح کے مسائل ومشکلات کا سامنا ہے۔درجنوں بالائی علاقے ابھی بھی اپنے اپنے ہیڈ کواٹروں سے کٹے ہوئے ہیں اور لوگوں کو عبور ومرور میں مشکلا ت کا سامنا ہے۔
اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں حالیہ برفباری کے 8روز گذر نے کے باجود بھی کئی بالائی علاقے جہاں بجلی سے مسلسل محروم ہیں،وہیں ان علاقوں کی رابطہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی برابر معطل ہے۔
عام لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو ٹھیک کرنے اور رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے اب محلہ سطح پر چندہ جمع کرکے مزدروں اور مشینوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو یہ دو بنیادی اور اہم ترین سہولیات میسر ہوں۔
ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ان دو بنیادوں چیزوں کی بحالی کے لئے کئے گئے اقدام موثر و کار گر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے بالائی علاقوں کو ان مشکلات سے نجات دلانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ضلع بڈگام کے کئی بالائی علاقوں میں جہاں بجلی ہنوز بحال نہیں ہوئی ہے وہیں ان علاقوں کی رابطہ سڑکوں پر ابھی بھی برف جمع ہے جسے ان پر ٹریفک کی نقل و حمل بحال نہیں ہوئی ہے۔
ادھر شمال وجنوب کے دیگر کئی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ برفباری کے بعد بجلی اور زمینی رابطے بحال کر نے کے حوالے سے انتظامیہ کے دعوے اور وعدے ثراب ثابت ہورہے ہیں۔کیوں کہ زمینی سطح پر لوگوں کو کوئی راحت نہیں مل رہی ہےء۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنکے علاقہ جات بجلی سے ہنوز محروم ہے اور ہماری رابطہ سڑکوں سے برف کو ہٹانے کے بجائے دبایا گیا جس سے اس پر ٹریفک کی بحالی مزید مشکل بن گئی۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کو اسپتال تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ مریضوں کو اسپتال اور دیگر صحت مراکز تک پہنچنے میں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ادھروادی کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد گذشتہ دو دنوں سے موسم خشک ہے اور مطلع ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ ایک ہفتے تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔وادی کشمیر میں سوموارکے روز موسم خشک مگر دن بھر ابر آلود رہا تاہم شبانہ درجہ حرارت میں بہتری واقع ہونے سے سردی کی شدت میں قدرے کمی محسوس کی گئی۔
وادی کشمیر میں اگرچہ تمام بڑی سڑکوں سے برف ہٹایا گیا ہے اور ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کیا گیا ہے لیکن سڑکوں کے کناروں پر برف کے بڑے ڈھیر جمع ہیں جس سے راہگیروں کو چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سڑکوں پر پھلسن سے حادثات رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں وہیں دوسری سڑک کے کناروں پر جمع برف راہگیروں کو چلنے میں مشکلات کھڑا کر رہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر گلی کوچوں سے برف نہیں ہٹایا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ خاص کر بچے اور عمر رسیدہ افراد گھروں سے باہر نکل نہیں پا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.0ڈگری سینٹی گریڈ، ککر ناگ میں منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔وادی کشمیر میں یخ بستہ ہواؤں کے نتیجے میں سردی کی شدت برقرار ہے اور لوگوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر رابطہ سڑکیں بحال کی گئیں جبکہ بجلی کی سپلائی قریب قریب90فیصد بحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وادی میں ہوئی بھاری برفباری کو آفاتِ سماوی قرار دیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں،جس میں صوبہ کشمیر کے تمام ڈپٹی کمشنران اور ایس ایس پیز نے بذریعہ ورچیول موڑ طریقہ کار شرکت کی۔
واضح رہے بھاری برفباری ایس ڈی آر ایف کے قواعد و ضوابط کے تحت آفاتِ سماوی کی فہرست میں شامل نہیں تھا جس کے سبب بھاری برفباری کی وجہ سے ہوئے نقصان کیلئے عبوری امداد کی فراہمی ڈسٹر کٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کیلئے ممکن نہیں تھی۔ بھاری برفباری کو آفاتِ سماوی قرار دینے سے ایس ڈی آر ایف کے تحت عبوری امداد کی فراہمی کی عمل میں سرعت آئے گی اور برف سے ڈھکے علاقوں کے متاثرہ لوگو ں کو راحت ملے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے درپیش مشکلات پر قابو پانے کے لئے ہر سطح پر اِنتظامیہ کے عملی اِقدامات کے دوران بھاری برفباری اور عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں ایک مفصل رِپورٹ طلب کی۔ طبی اِمداد کی فراہمی بالخصوص دْور دراز اور تنگ گلیوں والے علاقوں کے لوگوں کی نقل و حمل کیلئے چھوٹی بچاؤ گاڑیوں کی قلت سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے 4*4بچاؤ گاڑیاں اور ایمبولنسوں کو مشکل میں لوگوں کو فوری طور مدد کرنے کے لئے کہا۔ لیفٹیننٹ گورنرنے اَفسروں کو لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے تئیں حساس اور فعال رویہّ اَپنا کر عام انسا ن کی مشکلات کو کم کرنے کی لازمی ہدایت دی۔ (کے این ایس)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان6 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
