تازہ ترین
حسنین مسعودی کی لوک سبھا میں تقریر:حدبندی کمیشن کا قیام غیر قانونی، آبادیاتی تناسب بگاڑنا مقصود
سری نگر، 4 فروری (یو این آئی ) جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خوداحتسابی سے کام لیکر 5 اگست 2019 کولئے گئے غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلوں کو واپس لیکر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی عمل میں لائیں۔
صدر جمہوریہ کی تقریر کی تحریک شکریہ پر لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران حسنین مسعودی نے کہا کہ میں معذرت کیساتھ کہتا ہوں کہ میں صدرِ جمہوریہ کی تحریک کی حمایت یا تائید نہیں کرسکتا۔صدرِ جمہوریہ نے اپنی تقریر میں جموں وکشمیرکا ذکر کیا اور جموں وکشمیر میں قاضی گنڈ ۔بانہال ٹنل اور کچھ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کی بات کہی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ڈیڑھ کروڑ پر مشتمل جموں وکشمیر کی آبادی 4سال سے کسی نمائندگی اور کسی اسمبلی کے بغیر ہے۔
صدرِ جمہوریہ کی تقریر میں نہ تو اس بات کا تذکرہ کیا گیا اورنہ ہی یہ بات کہنے کی زہمت گوارا کی گئی کہ کب جموں وکشمیر میں جمہوریت بحال ہوگی۔اس بات پر بھی لب کشائی نہیں کی گئی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی حقوق کب واپس کئے جائیں گے، جو 5 اگست2019 کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر چھینے گئے ۔
انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو کسانوں کے قانون سے سابق حاصل کرکے جموں وکشمیر سے متعلق لئے گئے فیصلے بھی فوری طور پر واپس لینے چاہئیں۔
مسعودی نے کہا کہ ہمارا ملک دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن جب آپ ایک ریاست کو گذشتہ ساڑھے 4 سال سے جمہوری حقوق سے محروم رکھتے ہیں تو ان دعوﺅں میں کوئی وزن نہیں رہتاہے۔
مسعودی نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر صرف ٹنل اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ہی اہم تو پھر آپ 5ریاستوں میں آئندہ دنوں میں الیکشن کیوں کروا رہے ہیں؟ ان ریاستوں کو بھی 5چھ لوگوں کے حوالے کرکے افسر شاہی مسلط کردیجئے اور پھر ٹنلوں اور سڑکوں کے اعداد وشمار لوگوں کو سناتے رہئے۔
جموں وکشمیر کے حدبندی عمل پر حکمران جماعت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ آپ لوگ جموں وکشمیر کا آبادیاتی تناسب بگاڑنا چاہتے ہیں اور جموں وکشمیر کے لوگ آپ کے حربوں اور منصوبوں سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کہیں پیگاسس پر بات ہوتی ہے تو حکمران جماعت کے سبھی لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت زیر سماعت ہے اور اس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے لیکن جب جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی بات آتی ہے تب حکمرانوں کو اس کا زیر سماعت ہونا دکھائی نہیں دیتا اور اس ایکٹ کے تحت مسلسل اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو سراسر غیر آئینی ہیں اور جموں وکشمیر کیلئے حدبندی کمیشن کا قیام بھی اسی مشکوک ایکٹ کے تحت لایا گیا ہے جس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایک آئینی بینچ اس کو دیکھ رہاہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے صورتحال میں آئین کا یہی تقاضا ہے کہ حدبندی کمیشن پر کام کیا جائے ؟انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کیخلاف جنگ چھیڑ دی ہے، آئین آپ کو کہاں اس کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک ریاست کا درجہ کم کرکے اس کے دو حصے کردیں؟
انہوں نے کہاکہ ہر ریاست کی اپنی ایک شناخت، پہنچان اور کلچر ہے ،آپ اُس کی انفرادیت کو کیسے ختم کرسکتے ہیں؟مسعودی نے کہا کہ یہا ںجمہوریت نہیں بلکہ غنڈہ گردی اور ہٹ دھرمی سے کام لیا جارہا ہے۔
جموں وکشمیر کی ہر ایک چیز پر حملے کئے جارہے ہیں، ہم سے ہمارا پرچم چھین لیاگیا، ہمارے بچوں کو نوکریاںچھینی جارہی ہیں،ملازمین سے ملازمتیں چھینی جارہی ہیں، ہماری زمینیں چھینی جارہی ہیں اور یہ سب کچھ آبادیاتی تناسب بگاڑنے کیلئے ہورہاہے۔
آپ جموں وکشمیر کی اقتصادیات پر حملے کررہے ہیں،اس کی سیاست پر حملے کررہے ہیں، اس کی پہنچان پر حملے کررہے ہیں، اب آپ جموں وکشمیر کی میوہ صنعت پر حملے کررہے ہیں، اب آپ باہر سے بغیر ٹیکس کے میوہ لارہے ہیں تاکہ جموں وکشمیر کے میوہ کا مارکیٹ ختم ہوجائے۔
حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیرمیں جمہوریت کی تنزلی اور بے روزگاری کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت کشتواڑ میں ایک عوامی منتخبہ ڈی ڈی سی چیئرپرسن دو ہفتوں سے ہڑتال پر بیٹھی ہیں کیونکہ وہاں پر جاری پروجیکٹوں میں مقامی نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا جارہاہے لیکن افسرشاہی میں کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میںاس وقت بے روزگاری کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ 23 فیصدی پر پہنچ گئی ہے۔ لیکن صدرِ جمہوریہ کی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ تقریر میں 61000 ہزار عارضی ملازمین کی مستقلی کے لئے لائحہ عمل کا تذکرہ ہونا چاہئے تھا لیکن یہ سب کچھ نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموںو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیساتھ ساتھ جمہوریت کی فوری بحالی اور عارضی ملازمین، رہبر تعلیم، سیزنل ٹیچر، آئی اے وائی، یوتھ کارپس اور دیگر کنٹریکچول ملازمین کی مستقلی کے بارے میں فوری اقدامات اُٹھائے اور ساتھ ہی سرینگر جموں قومی شاہراہ کے تعمیری کام میں سرعت لائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ آپ دل کی دوری اور دلی کی دوری کی بات کرتے ہیں لیکن جب تک آپ جموںوکشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نہیں سمجھیں گے اور اُن کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو یہ دوری ختم ہونے والی نہیں ہے۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہیں: وزیراعظم
بیروت، لبنان کی حکومت نے ملک کے جنوبی علاقوں میں گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے، جبکہ جنگ بندی کی صورت حال مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل کے “حملے، دراندازیاں، مسماری اور گھروں کی منظم تباہی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”
سلام نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ اس کی جانب سے تباہ کیے گئے دیہات فوجی مقامات تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ “کسی بھی منطق پر پورا نہیں اترتا اور ان دیہات کو تباہ کرنے، ان کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں واپس آنے سے روکنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں کیا جاسکتا۔”
سلام کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے جنوبی لبنان کے دورے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ کاٹز نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز وہاں “زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں” اور “تمام گھروں کو تباہ کر رہی ہیں۔”
کاٹز نے الگ سے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام یا غزہ میں زیر قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کو الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن “تمام فریقوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس فریم ورک کے مطابق عمل کریں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے “واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔”
5 اگست کو اسرائیل نے منصوری قصبے پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجدل زون کے قریب دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔
اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کا پہلا حکم تھا۔ اسی دوران ایک دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ اگلے روز اسرائیلی حملے میں برج الشمالی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اس واقعے پر براہ راست کوئی عوامی بیان جاری کیا ہے۔
2 مارچ کو لبنان بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوگیا، جب ایران نواز حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے۔
اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیلی فورسز نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔
مکمل انخلا کے لیے بھی کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
حالیہ مشروط جنگ بندی کی بنیاد جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے ایک فریم ورک معاہدے پر ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی فورسز کو مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرنا تھا، جبکہ لبنانی فوج ان کی جگہ تعینات ہوتی۔ یہ عمل محدود “پائلٹ زونز” سے شروع ہونا تھا اور اس کے بدلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی ثالثی میں اب تک سات ادوار کے مذاکرات ہوچکے ہیں، جن میں چار واشنگٹن اور تین روم میں ہوئے۔
حزب اللہ، جو ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے، کہہ چکا ہے کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گا، تاہم دریا کے شمال میں اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق مارچ سے اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جو ملک کی تقریباً پانچویں آبادی کے برابر ہیں۔
جنگ بندی کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے کے بعد بھی موسمِ گرما کے دوران یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
واشنگٹن میں دو امریکی سینیٹروں نے لبنان کے لیے پانچ سال کے دوران 1.2 ارب ڈالر کے سکیورٹی امدادی پیکیج کی تجویز پیش کی ہے۔ اس امداد کے ایک حصے کو ریاست کی جانب سے ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں پیش رفت سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ امدادی پیکیج ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے بعد لبنان کا استحکام اب بھی ایک غیر حل شدہ سیاسی اور عسکری کشمکش سے جڑا ہوا ہے، جس میں فی الحال کمی کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
