تازہ ترین
حسنین مسعودی کی لوک سبھا میں تقریر:حدبندی کمیشن کا قیام غیر قانونی، آبادیاتی تناسب بگاڑنا مقصود
سری نگر، 4 فروری (یو این آئی ) جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خوداحتسابی سے کام لیکر 5 اگست 2019 کولئے گئے غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلوں کو واپس لیکر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی عمل میں لائیں۔
صدر جمہوریہ کی تقریر کی تحریک شکریہ پر لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران حسنین مسعودی نے کہا کہ میں معذرت کیساتھ کہتا ہوں کہ میں صدرِ جمہوریہ کی تحریک کی حمایت یا تائید نہیں کرسکتا۔صدرِ جمہوریہ نے اپنی تقریر میں جموں وکشمیرکا ذکر کیا اور جموں وکشمیر میں قاضی گنڈ ۔بانہال ٹنل اور کچھ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کی بات کہی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ڈیڑھ کروڑ پر مشتمل جموں وکشمیر کی آبادی 4سال سے کسی نمائندگی اور کسی اسمبلی کے بغیر ہے۔
صدرِ جمہوریہ کی تقریر میں نہ تو اس بات کا تذکرہ کیا گیا اورنہ ہی یہ بات کہنے کی زہمت گوارا کی گئی کہ کب جموں وکشمیر میں جمہوریت بحال ہوگی۔اس بات پر بھی لب کشائی نہیں کی گئی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی حقوق کب واپس کئے جائیں گے، جو 5 اگست2019 کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر چھینے گئے ۔
انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو کسانوں کے قانون سے سابق حاصل کرکے جموں وکشمیر سے متعلق لئے گئے فیصلے بھی فوری طور پر واپس لینے چاہئیں۔
مسعودی نے کہا کہ ہمارا ملک دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن جب آپ ایک ریاست کو گذشتہ ساڑھے 4 سال سے جمہوری حقوق سے محروم رکھتے ہیں تو ان دعوﺅں میں کوئی وزن نہیں رہتاہے۔
مسعودی نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر صرف ٹنل اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ ہی اہم تو پھر آپ 5ریاستوں میں آئندہ دنوں میں الیکشن کیوں کروا رہے ہیں؟ ان ریاستوں کو بھی 5چھ لوگوں کے حوالے کرکے افسر شاہی مسلط کردیجئے اور پھر ٹنلوں اور سڑکوں کے اعداد وشمار لوگوں کو سناتے رہئے۔
جموں وکشمیر کے حدبندی عمل پر حکمران جماعت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ آپ لوگ جموں وکشمیر کا آبادیاتی تناسب بگاڑنا چاہتے ہیں اور جموں وکشمیر کے لوگ آپ کے حربوں اور منصوبوں سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کہیں پیگاسس پر بات ہوتی ہے تو حکمران جماعت کے سبھی لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت زیر سماعت ہے اور اس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے لیکن جب جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی بات آتی ہے تب حکمرانوں کو اس کا زیر سماعت ہونا دکھائی نہیں دیتا اور اس ایکٹ کے تحت مسلسل اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو سراسر غیر آئینی ہیں اور جموں وکشمیر کیلئے حدبندی کمیشن کا قیام بھی اسی مشکوک ایکٹ کے تحت لایا گیا ہے جس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایک آئینی بینچ اس کو دیکھ رہاہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے صورتحال میں آئین کا یہی تقاضا ہے کہ حدبندی کمیشن پر کام کیا جائے ؟انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کیخلاف جنگ چھیڑ دی ہے، آئین آپ کو کہاں اس کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک ریاست کا درجہ کم کرکے اس کے دو حصے کردیں؟
انہوں نے کہاکہ ہر ریاست کی اپنی ایک شناخت، پہنچان اور کلچر ہے ،آپ اُس کی انفرادیت کو کیسے ختم کرسکتے ہیں؟مسعودی نے کہا کہ یہا ںجمہوریت نہیں بلکہ غنڈہ گردی اور ہٹ دھرمی سے کام لیا جارہا ہے۔
جموں وکشمیر کی ہر ایک چیز پر حملے کئے جارہے ہیں، ہم سے ہمارا پرچم چھین لیاگیا، ہمارے بچوں کو نوکریاںچھینی جارہی ہیں،ملازمین سے ملازمتیں چھینی جارہی ہیں، ہماری زمینیں چھینی جارہی ہیں اور یہ سب کچھ آبادیاتی تناسب بگاڑنے کیلئے ہورہاہے۔
آپ جموں وکشمیر کی اقتصادیات پر حملے کررہے ہیں،اس کی سیاست پر حملے کررہے ہیں، اس کی پہنچان پر حملے کررہے ہیں، اب آپ جموں وکشمیر کی میوہ صنعت پر حملے کررہے ہیں، اب آپ باہر سے بغیر ٹیکس کے میوہ لارہے ہیں تاکہ جموں وکشمیر کے میوہ کا مارکیٹ ختم ہوجائے۔
حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیرمیں جمہوریت کی تنزلی اور بے روزگاری کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت کشتواڑ میں ایک عوامی منتخبہ ڈی ڈی سی چیئرپرسن دو ہفتوں سے ہڑتال پر بیٹھی ہیں کیونکہ وہاں پر جاری پروجیکٹوں میں مقامی نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا جارہاہے لیکن افسرشاہی میں کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میںاس وقت بے روزگاری کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ 23 فیصدی پر پہنچ گئی ہے۔ لیکن صدرِ جمہوریہ کی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ تقریر میں 61000 ہزار عارضی ملازمین کی مستقلی کے لئے لائحہ عمل کا تذکرہ ہونا چاہئے تھا لیکن یہ سب کچھ نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموںو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیساتھ ساتھ جمہوریت کی فوری بحالی اور عارضی ملازمین، رہبر تعلیم، سیزنل ٹیچر، آئی اے وائی، یوتھ کارپس اور دیگر کنٹریکچول ملازمین کی مستقلی کے بارے میں فوری اقدامات اُٹھائے اور ساتھ ہی سرینگر جموں قومی شاہراہ کے تعمیری کام میں سرعت لائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ آپ دل کی دوری اور دلی کی دوری کی بات کرتے ہیں لیکن جب تک آپ جموںوکشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نہیں سمجھیں گے اور اُن کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو یہ دوری ختم ہونے والی نہیں ہے۔
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان5 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
