ہندوستان
حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے: مولانا مجددی
نئی دہلی، ملک میں آئین کی پاسداری کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ ہمارا ملک ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، جمہوریت میں حکومت ہو، انتظامیہ ہو یا عدلیہ ہو اس کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں، کمزوروں اور مظلوموں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے دہلی کے جنتر منتر پر آج وقف ترمیمی قانون کے خلاف ایک احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں قانون اس لئے لائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کے حقوق محفوظ کئے جا سکیں، قانون اس لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لیکن پہلی بار ہے جب حکومت میں ایسے لوگ بر سر اقتدار ہیں جو قانون اس لئے لاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے حقوق کو چھینا جانا سکے، مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو کم کیا جا سکے، وقف ایکٹ بھی مسلمانوں کی مذہبی جائداد کو ہڑپنے، چھیننے اور اس کو ختم کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون وقف کے تحفظ نہیں وقف کو برباد کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یہ وقف قانون مسلمانوں سے ان کی مساجد، مدارس، د ر گاہ اور امامباڑوں کو چھیننے اور ختم کرنے کے لئے پاس کیا گیا ہے، یہ وقف قانون جمہوریت اور سیکولرزم کی جڑ کیو کھودنے والا ہے، اس قانون سے وقف کا تحفظ نہیں ہوگا، اس کی ہر دفعہ ملک کی جمہوریت، اتحاد، اور سیکولرزم کو کمزور کرنے والی ہے، حکومت ہند نے تمام آئینی و دستوری اصول اور روایات کو پسِ پشت ڈال کر یہ قانون پاس کیا ہے، یہ قانون اس دعوے کے ساتھ لایا گیا کہ یہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ہے لیکن ہم یہ اعلان کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ یہ قانون مسلمانوں کے حق میں نہیں ان کے خلاف ہے، یہ قانون ہماری مسجدوں اور قبرستانوں کو ختم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہمارے دستوری حق سے محروم کرنے والا ہے، یہ قانون ہم مسلمانوں کو ہماری تہذیب سے دور کرنے والا ہے، ہمیں یہ قانون قطعا منظور نہیں ہے، جب مسلمانوں کے لئے یہ قانون بنا تھا اور مسلمان ہی اس کو نہیں چاہتے تو حکومت کو اپنا جمہوری فریضہ ادا کرتے ہوئے فوری طور پر یہ قانون واپس لینا چاہئے، ہمارا مطالبہ ہے کہ وقف قانون واپس لیا جائے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ وقف اسلامی معاشرہ کا ایک لازمی جزء ہے، دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی آباد ہوئے انہوں نے اپنی جائدادیں وقف کیں،دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں ہے جہاں مسلمان رہے ہوں اور وہاں وقف کی جائداد نہ ہو، وقف کا جہاں ایک مذہبی اور دینی تصور ہے وہیں اس کے سماجی اور معاشرتی فائدے بھی ہیں، اوقاف کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے قوانین اور اصول سلطان محمد غور ی نے مرتب کئے اسی لیئے یہ غلط فہمی بھی پھیلائی جاتی ہے کہ ہندوستان میں سلطان محمد غوری کے دور میں وقف کی شروعات ہوئی، انگریزوں کے دور حکومت میں رفتہ رفتہ اوقاف کو ہڑپنے کی کوشش ہوئی اور وقف کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش ہوئی، ۵۷۹۱ میں باقاعدہ اوقاف کے تحفظ کی مسلمانوں نے تحریک چلائی، اور مسلمانوں کے احتجاج کے بعد ۳۱۹۱ میں انگریزوں کو پہلا وقف قانون پاس کرنا پڑا، اس کے بعد بھی مسلمان ان قوانین میں ترمیم اور اصلاح کی کوشش کے لئے تحریک چلاتے رہے، آزادی کے بعد مسلسل کوششیں ہوئیں اور بلا ٓخر ۳۱۰۲ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے ایک جامع وقف قانون پاس ہوا تھا، اور اب صرف ایک انخلاء وقف کے قانون کی ضرورت تھی جس کے لئے بورڈ نے بہت کوششیں کیں مگر کامیابی نہ مل سکی تھی،آج بدقسمتی سے وہی انگریزوں والے حالات کا سامنا پھر سے کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت نے پرانے قانونِ وقف کو منسوخ کرکے ایک ایسا قانون وقف پاس کردیا جو اوقاف کی جائداد کو ہڑپنے کے ساتھ ساتھ وقف کے تصور کو ہی ختم کرنے والا ہے، اس قانون کو پاس کرنے میں مکمل ہٹلر شاہی سے کام لیا گیا آئین اور پرلیمانی نظام کی دھجیاں اڑائی گئیں۔
اس قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے زمینی سطح پر عوامی تحریک چلائی جو اب تک جاری ہے اور انشاء اللہ اس قانون کی واپسی تک جاری رہے گی، تو وہیں بورڈ نے دوسری طرف سپریم کورٹ میں مظبوطی کے ساتھ قانونی لڑائی بھی لڑی اور الحمد للہ سپریم کورٹ نے عبوری راحت دیتے ہوئے اس قانون کی چند خطرناک دفعات پر پابندی لگا دی، جو ہم سب کے لئے ایک راحت ضرور ہے لیکن یہ قابل اطمینان نہیں ہے،کیونکہ اس قانون کی تمام ۸۴ ترمیمات وقف کے لئے خطرناک ہے اس لئے ہمارا مطالبہ بدستور وہی ہے کہ اس پورے قانون کو واپس لیا جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
