تازہ ترین
خطرناک وائرس ماضی میں کب اور کیسے لیبارٹریوں سے لیک ہوئے؟
واشنگٹن ڈی سی —
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک امریکی لیبارٹری کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین کی ووہان لیب سے کرونا وائرس کے لیک ہونے کا نظریہ قابل یقین ہے اور اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں مئی 2020 میں تیار ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے استعمال میں تھی، جب ٹرمپ انتظامیہ کی میعاد کے آخری مہینوں میں محکمہ عالمی وبا کی شروعات کی وجوہات پر تفتیش کر رہا تھا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق لارنس لیورمور لیبارٹری کے پاس حیاتیاتی معاملات پر گہرا تجربہ ہے اور رپورٹ میں سارز وائرس کی اس قسم کے جینوم پر تجزیہ کر کے، جس سے کووڈ 19 کی بیماری لاحق ہوتی ہے، یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے۔
کسی لیبارٹری سے وائرس کے لیک ہونے کے بعد عوام میں پھیلنے اور وبا کا باعث بننے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں جن میں جان لیوا وائرس لیبارٹری سے لیک ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سبب بنے۔
برطانیہ میں سن 1966، 1972 اور 1978 میں چیچک کی بیماری کا لیب سے لیک ہونا
جہاں عالمی ادارہ صحت کی کامیاب کوششوں کی وجہ سے پچھلی صدی میں چیچک کے مرض کا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا، وہیں برطانیہ میں متعدد بار یہ بیماری لیبارٹری میں وائرس پر تحقیق کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلی۔
ورکنگ گروپ آن کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل ویپنز سینٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پرولیفریشن کے لیے ایک سائنسدان ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی نے اپنے مقالے ’’لیبارٹری اسکیپس اینڈ سیلف فلفلنگ پرافیسی ایپی ڈیمکس‘‘ میں کہا ہے کہ جہاں 1963 سے 1978 تک اس بیماری کے چند ہی واقعات رونما ہوئے، وہیں ان واقعات پر تحقیق کے بعد جو لیبارٹری میں مہلک جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جو حفاظتی قواعد و ضوابط اختیار کئے گئے وہ آج تک رائج ہیں۔
1977 کی H1N1 وائرس کی وبا
1918 کے سپینش فلو کو کون نہیں جانتا۔ اس فلو میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ لیکن خبروں کی ایک ویب سائٹ ‘بزنس ان سائٹر’ کی ایک رپورٹ کے مطابق H1N1 کی ایک قسم کے 1977 میں ایک چینی لیبارٹری سے لیک ہونے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وبا پھیلنے سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی کے مطابق ابتدا میں اس پرانے وائرس کے دوبارہ نمودار ہونے پر ماہرین کو انتہائی تشویش کے ساتھ شدید حیرانگی بھی ہوئی۔ ان کے بقول مغربی سائنس دانوں نے شروع میں لیبارٹری سے اس وائرس کے لیک ہونے کے سوال پر خاموشی اختیار کی۔ اس کی وجہ ابتدا میں سائنسی شواہد کا نہ ہونا اور روسی اور چینی سائنس دانوں کا اس سلسلے میں باقی دنیا کے ساتھ تعاون بھی شامل تھا جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملی۔
ان کے بقول 30 برسوں کی سائنسی تحقیق کے بعد اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پر نہیں پھیلا اور اس کے جینوم پر تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ 1950 کے عشرے میں لیبارٹری میں فریز کیے ہوئے وائرس کے لیک ہو جانے سے یہ وبا دنیا بھر میں پھیلی۔
1995 میں وینزویلا کا ایقوائن انسیپھیلائٹس )وی ای ای) کی وبا
وی ای ای مچھروں سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جو گھوڑوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری سے گھوڑے شدید بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعصاب بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے 83 فیصد تک گھوڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق 1995 میں وینزویلا کی ایک لیبارٹری سے لیک ہونے والے وی ای ای کی ایک قسم سے وینزویلا اور کولمبیا میں ہزاروں لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے اور تین سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ جب کہ تین ہزار سے زائد افراد اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔
2003 کی سارز کی وبا
2003 میں سارز کی وبا سے 29 ممالک میں 774 افراد ہلاک ہوئے۔ اخبار نیشنل پوسٹ کے مطابق ان میں سے 21 فیصد کا تعلق اسپتال کے عملے سے تھا۔ جن اسپتالوں میں یہ وبا پھیلی تھی, انہیں بند کرنا پڑا کیونکہ یہ وہا سانس کے ذریعے پھیلتی ہے اور اس کی ویکسین بھی نہیں ہے۔
ڈاکٹر مارٹن نے اپنے مقالے میں لکھا کہ سارز کے 5 فیصد مریض ’’سپر سپریڈر‘‘ یعنی تیزی سے مرض دوسرے افراد کو منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ایک مریض مزید 8 افراد کو یہ بیماری منتقل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے مقالے میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں یہ وائرس لیبارٹری میں متاثر ہونے والے ریسرچرز کی وجہ سے پھیلا۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق ابتدائی واقعہ کے بعد سے یہ وائرس چھ بار لیب سے لیک ہو چکا ہے۔ ان میں سے چار مرتبہ یہ بیجنگ میں لیک ہوا جب کہ ایک بار سنگاپور اور ایک بار تائیوان میں اس کے لیک ہونے کے واقعات پیش آئے۔
2007 میں برطانیہ میں پھیلنے والی فٹ اینڈ ماؤتھ (ایف ایم ڈی) بیماری کی وبا
ایف ایم ڈی کی بیماری جانوروں کو متاثر کرتی ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیشنل پوسٹ کے مطابق 2001 میں برطانیہ میں اس بیماری سے ایک کروڑ جانوروں کو تلف کرنا پڑا جس سے ملک کو 16 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
2007 میں اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی حامل ایک لیبارٹری سے محض 4 کلومیٹر فاصلے پر مویشیوں کے ایک فارم میں کئی جانوروں میں یہ بیماری پھیل گئی۔ جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہزاروں جانوروں کو تلف کرنا پڑا اور برطانیہ کو برآمدات میں 20 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
لیبارٹری سے لیک کے باعث وبا پھیلنے کے علاوہ اور بھی ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو وائرس کی منتقلی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں لیبارٹری میں انجینئیرنگ کے شعبے کی ناکامی یا حفاظتی مشینوں میں خرابی کا پیدا ہونا شامل ہے۔
خبروں کی ویب سائٹ ووکس کے مطابق امریکہ میں اس وقت 66 جراثیموں اور مہلک نامیاتی زہروں پر 300 کے قریب لیبارٹریوں میں تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔ جن میں پلیگ اور اینتھیرکس پر تحقیق شامل ہے۔
مہلک جراثیموں پر تحقیق کا مقصد جہاں ان کا علاج اور ویکسین تیار کرنا ہے، وہیں نئے طریقوں سے زیادہ ہلاکت خیز جراثیم تیار کرنا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ جنگلوں اور بیابانوں میں یہ جراثیم کس طرح ارتقا کا عمل جاری رکھتے ہیں اور ان کا علاج پہلے سے ڈھونڈ لیا جائے۔
امریکہ کے وبائی امراض کے کنٹرول اور اس کی روک تھام کے ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کا ’’سیلیکٹ ایجنٹ اینڈ ٹاکسن پروگرام‘‘ یعنی منتخب جراثیموں اور زہروں کے پروگرام میں یہ لازمی ہے کہ چوری، ضیاع یا روزمرہ کے کام کے دوران محققین کا جراثیموں سے اگر براہ راست واسطہ پڑ جائے، یا حفاظتی جگہوں سے باہر کسی جراثیم کے پھیلنے کا کوئی واقعہ رونما ہو تو اس کی فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔ ویب سائٹ ووکس کے مطابق 2005 سے 2012 کے دوران سی ڈی سی کو ایسی 1059 رپورٹس ملی جن میں ایسے واقعات رونما ہوئے۔
ان میں سے ایک واقعہ کچھ یوں تھا کہ جولائی 2014 کو ریاست میری لینڈ میں امریکی ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی نئے آفس میں منتقلی کے بعد پرانے آفس کی صفائی کی جا رہی تھی کہ کارڈ بورڈ کے ایک پرانے ڈبے میں 327 وائلز یعنی وائرس کے نمونوں کی بوتلیں ملیں۔ ان میں سے 321 پر کسی قسم کا لیبل نہیں تھا اور چھ بوتلیں اینتھریکس کی تھیں۔
ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ یہاں موجود ہیں اور بقول ووکس، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1960 کی دہائی سے عمارت میں پڑی ہوئی تھیں۔
ووکس کے بقول انہیں دیکھ کر گھبرائے ہوئے سائنس دانوں نے فوری طور پر انہیں سیل کر کے سپروائرزر کے آفس بھیج دیا۔ لیکن ایسے خطرناک وائرس کو سنبھالنے کے لیے یہ پروٹوکول نہیں ہے۔ اس دوران ایک بوتل سے جراثیم لیک ہو گئے لیکن خوش قسمتی سے وہ زیادہ خطرناک نہیں تھے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
