تازہ ترین
درابو کی برخواستگی، مشن مکمل
عاصم محی الدین
گزشتہ ہفتہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے دوران جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کیا جسے طاقتور وزیر خزانہ تصور کیا جاتا تھا اور انہوں نے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو سے ایجنڈآف الائنس مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر درابو نہ صرف پی ڈی پی سرپرست و سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے قریبی تھے بلکہ وہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان واحد رابطہ تھا اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اورمخلوط حکومت میں دیگر مختلف پارٹی لیڈران کے ساتھ اچھی سوجھ بوجھ تھی۔
مفتی محمد سعید نے حسیب درابو کو جموں وکشمیر کی سیاست میں لایا اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے حوصلہ افزائی کی اور ان کی حکومت کیلئے وزیر خزانہ بننے کی راہ ہموار کی۔ جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دی ، درابو کو وزارت خزانہ کے قلمدان کی ذمہ داری اُس وقت سونپی گئی جب 2014میں تباہ کن سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے ریاست کوکافی مالی مدد کی ضرورت تھی ۔

درابو کو کشمیر پر دیئے گئے متنازعہ بیان سیاسی مسئلہ کی بجائے ’سماجی مسئلہ‘قرار دینے کے بعد برخواست کیاگیا۔ بیان کی وجہ سے پی ڈی پی کی اعلیٰ قیادت بشمول جموں وکشمیر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ڈی پی کے قیام کے وقت سے ہی پارٹی کا موقف ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹھوس مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔والد کے انتقال کے بعد وزیر اعلیٰ بننے سے ہی محبوبہ مفتی نے ہمیشہ ہندو پاک اور مزاحمتی خیمہ کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی تاہم ابھی تک ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔
کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے کے بیان نے نہ صرف پی ڈی پی میں کھلبلی مچا دی بلکہ ہند نواز اور علیحدگی پسندجماعتوں کے شدید حملوں کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ درابو کے علاوہ ،پی ڈی پی کے 2وزرائ، وزیر تعلیم الطاف بخاری اور یوتھ سروس اینڈ سپورٹس کے وزیر عمران رضا انصاری بھی اُس تقریب میں شامل تھے ، جس میںدرابو نے یہ تبصرہ کیا تھا حالانکہ انہوںنے درابو کا کوئی دفاع نہیں کیا، یہ سماجی بہبود کے وزیراور بی جے پی کے اتحادی سجاد لون اور بارہمولہ کے رکن قانون سازیہ جاوید بیگ تھے جنہوںنے درابو کا دفاع کیا باقی تمام نے سابق وزیر خزانہ کو کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے پر تنقید کی۔
گزشتہ ہفتہ نئی دہلی میں ’کشمیر:آگے بڑھنے کا راستہ‘ (Kashmir: The Way Forward)کے موضوع پر درابو کہا تھا کہ ’کشمیر کو ایک تنازعہ کی ریاست اور سیاسی مسئلہ‘ سے نہ دیکھا جائے، یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جسے سماجی مسائل کا سامنا ہے، ہم اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ایسے عمل سے گزر رہے ہیں جس طرح دیگر ممالک گزر رہے ہیں‘۔ ”یہ (جے اینڈ کے) ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے جہاں تک میں دیکھتا ہوں، یہ گزشتہ50یا 70برسوں سے سیاست کی باتیں کرکے غلط درخت کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیاسی صورتحال میں کبھی بہتری نہیں آئی ہے، ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک ایسا سماج ہے جس کو خود اپنی تلاش میں ہے‘۔
بیان دینے کے بعد درابو کو بیان واپس لینے کیلئے کہا گیا جبکہ پی ڈی پی نے انضباطی کارروائی کرتے ہوئے انہیں خط بھیج دیا۔ پی ڈی پی ذرائع کے مطابق درابو کے بیان واپس نہ لینے اورکوئی جواب نہ دینے کے بعدمحبوبہ مفتی نے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ نے برطرف کیا ۔ کسی نے بھی درابو کا دفاع نہیں کیااور ان کےخلاف سخت کارروائی چاہی اورپارٹی کےلئے مسائل کیلئے پیدا کرنے کیلئے انہیں واحد شخص ذمہ دار قراردیا۔
پی ڈی پی نائب صدر، جو وزیر اعلیٰ کے ماموں ہیں، نے کہاکہ ان کی پارٹی جموں وکشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرتی ہے۔ ” تشکیل کے وقت سے ہی پارٹی کی انتھک کوششیں ہیں کہ مسئلہ کو افہام و تفہیم اورمذاکرات کے ذریعہ داخلہ اور خارجی سطح پر حل کیاجائے‘۔ مدنی نے کہاکہ یہ بدقسمتی تھی کہ برصغیر میں چند طاقتیںمسئلہ کوصرف انتظامیہ کے زاویے سے دیکھ کر عوامی خواہشات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ حسیب درابو نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو ایک خط شائع کرنے کیلئے جاری کیا جس میں انہوںنے کہاکہ اس کا خطاب پارٹی کی ’کشمیر کی سیاسی پالیسی‘ کیخلاف نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ انہیں وضاحت کرنے کا موقعہ نہیں دیا گیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کی برطرفی کی جانکاری دی گئی جو کہ دردناک تھا۔
درابو نے کہاکہ انہوںنے یہ کوشش کی کہ کشمیرنہ صرف ایک سیاسی مسئلہ تھا جسے بھارت اور آنے والی مرکزی و ریاستی حکومتوں کو حل کرنا چاہئے بلکہ یہ ایک سماجی معاملہ بھی ہے جسے سول سوسائٹی کی سطح پر بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
’جنہوں نے میری تقریر سنی یا تصب کے بغیر پڑھینگے، وہ یہ جان سکتے ہیں کہ میںہماری خواہشات اور خود کو سمجھنے کا ذکر رہا تھا ، حتی کہ میں پی ڈی پی کے نظریہ کو منتخب حاضرین کے سامنے لارہا تھا‘۔ درابو نے کہاکہ وہ پی ڈی پی کے سیلف رول دستاویز بنانے والے گروپ کا حصہ تھے، ’جہاں تک میری سوچ اور علم کا تعلق ہے، پی ڈ پی کے سیاسی موقف کا مخالف نہیں ہوسکتا،نہ ہی اس کی ساخت کو مجروح کرسکتا ہوں، پی ڈی پی کے سیاسی فلسفے اور افہام و تفہیم کا حصہ ہوں“۔
انہوں نے کہا کہ’ نئی دہلی سے واپسی کے بعد انہیں برطرفی کی خبرذرائع ابلاغ سے ملی اور پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی کا بیان دیکھا جس میں کہا گیا کہ میں اپنے بیان سے منحرف ہوجاﺅں‘۔ انضباطی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمان ویری کی طرف سے شام کو رہائش گاہ پر خط ملا جس میں کہا گیاکہ میں دیئے گئے بیان کی وضاحت کروں ، جس کی وجہ سے پارٹی کی ساخت کو زبردست نقصان پہنچا ہے‘۔
درابو نے کہاکہ برطرفی کے بعد وہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملنا چاہتے تھے ، ’سوموار کی صبح میں نے ویری صاحب سے بات کی اور انہوںنے مشورہ دیا کہ مجھے پارٹی صدر و وزیر اعلیٰ سے بات کرنی چاہئے، میں نے نئی دہلی میں وزیر اعلیٰ کی رہائش سے رابطہ کیا تاہم مجھے بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں اور 10منٹ بعد واپس رابطہ کرینگی،جو کبھی نہ ہوسکا‘۔ اگرچہ بی جے پی اس فیصلہ سے خوش نہیں ہے تاہم معاملہ کو پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ قرار دیا لیکن اس کی قیادت نے کہا کہ درابو نے کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا اور بی جے پی سمجھتی ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے اور یہ 1947میں حل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کہاکہ اگر کوئی معاملہ ہے تو وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی میں سیاستدانوں اور ورکروں کی اکثریت وزیر خزانہ حسیب درابو کے کام کرنے کے طریقے سے خوش نہیں تھی اور الزام عائد کیا کہ جب وہ ان سے ملنے کیلئے جاتے تو ان کی بے عزتی کرتے تھے۔ جموںوکشمیر کی وزیر اعلیٰ کے قریبی سمجھے جانے والی 3کابینہ وزراءبھی پی ڈی پی ورکروں کومدد نہ کرنے پر درابو سے ناراض تھے جبکہ کئی پی ڈی پی ورکروں اور سیاستدانوں نے درابو کی برطرفی کا جشن منایا اور تکبر کیلئے انہیںسبق سکھانا چاہتے تھے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ کشمیر کو سماجی معاملہ قرار دینے کا بیان درابو کو ہٹانے کیلئے پارٹی کو موقعہ ہاتھ لگا اور وہ بنیادی ورکر نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ جیسےچھت سے ٹپک کرسیاست میں آگئے۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزارت خزانہ کا قلمدان وزیر تعلیم الطاف بخاری کو سونپ دیا جسے تعاون کرنے والا وزیر سمجھا جاتا ہے اور پارٹی کے اندر اور زمینی سطح پر ان کی شبیہ اچھی مانی جاتی ہے۔ وزیر خزانہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی بخاری نے ٹھیکیداروں کی ہڑتال ختم کروائی جنہوںنے تمام دفاتر اور تعمیرات عامہ کے شعبوں کو مقفل کیا تھا۔ بخاری نے پارٹی ورکروں کو اور ارکان قانون سازیہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے، درابو کی برطرفی سے بے نقاب ہوا اور پی ڈی پی میں بہت لیڈروں کا خیال تھا کہ درابو کو بی جے پی نے پی ڈی پی میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا ۔
ایک سینئر پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ ’ان کا بیان ہماری سیاست اور دلیل کا خاتمہ کرنے کیلئے کافی تھا، درابو کی کوشش تھی کہ وہ مرکزی قیادت کو خوش رکھے اور کشمیر میں لوگوں کی کوئی فکر نہیں تھی‘۔ درابو نے پہلے ہی یہ واضح کیا ہے کہ وہ پی ڈی پی میں موجود رہینگے اور اگلے 3 برسوں کو وہ ان کیلئے استعمال کرینگے جنہوں نے انہیںاسمبلی کیلئے منتخب کیا ہے۔ درابو کی برطرفی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انہوںنے پارٹی میں اثرورسوخ کھو دیا ہے اور اسے آنے والے مہینوںمیں بحال کرنا مشکل ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ ان کے دہلی میں دوست مستقبل میں ان کی باز آبادکاری کرینگے؟
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
