ہندوستان
راہل نے وزیر اعظم مودی پر او بی سی زمرے سے تعلق نہیں ہونے کا الزام لگایا
رنگار پلی کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ او بی سی زمرہ سے نہیں آتے ہیں اور سال 2000 میں ان کی ذات کو گجرات حکومت نے او بی سی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے اوڈیشہ سے چھتیس گڑھ تک بھارت جوڈو نیائے یاترا کے داخلے کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ میٹنگ میں کہا کہ وزیر اعظم مودی او بی سی زمرہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے، ان کی ذات موڈھ گھانچی ہے جسے گجرات حکومت نے سال 2000 میں او بی سی زمرے میں شامل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی دن میں 24 گھنٹے کہتے ہیں کہ وہ او بی سی زمرہ سے آتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ وہ جنرل کاسٹ سے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے ذات پات کی مردم شماری پر دباؤ بنانا شروع کیا ہے تو اب وہ کہنے لگے ملک میں صرف دو ذاتیں ہیں غریب اور امیر یہ درست نہیں ملک میں ہزاروں ذاتیں ہیں ان کی تعداد کا حساب لگانا ضروری ہے۔
اڈیشہ میں پریس کانفرنس میں پوچھے گئے سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ ملک کو متحد کرنے کے بجائے توڑنے کی کوشش ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی 73 فیصد آبادی کو کچھ نہیں مل رہا، وہ بھوک سے مر رہے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟یہ جاننا ضروری ہے کہ دولت اور وسائل کس کے پاس ہیں اور ان میں کس طرح تقسیم ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 200 کارپوریٹ گھرانوں میں ایک بھی او بی سی، دلت یا قبائلی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام ذاتوں میں بھی غریب ہیں، ان کا بھی پتہ لگانا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اندرا جی کے پاس 20 نکاتی پروگرام تھا جبکہ ان کے پاس ناانصافی کو بڑھانے اور تشدد اور نفرت پھیلانے کا صرف دو نکاتی پروگرام ہے۔ بے روزگاری اس وقت 40 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور پبلک سیکٹر کے ادارے مسلسل فروخت ہو رہے ہیں۔ قبائلیوں کی زمینوں کو مسلسل چھینا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے سب کچھ ایک صنعتی گروپ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یاترا کے مقاصد پر تفصیل سے بات کی۔
قبل ازیں جب یاترا چھتیس گڑھ میں داخل ہوئی تو اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اس موقع پر کانگریس کے چھتیس گڑھ انچارج سچن پائلٹ، اڈیشہ انچارج اجے کمار، سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، چھتیس گڑھ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے رہنما ڈاکٹر چرنداس مہنت بھی موجود تھے۔ ریاستی کانگریس صدر دیپک بیج، اڈیشہ کے ریاستی کانگریس صدر اور مقننہ پارٹی کے لیڈر کے علاوہ کانگریس کارکنان اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
یاترا کا آج شام رائے گڑھ ضلع کے درامودہ میں رات کا قیام ہوگا، اس کے بعد 09 اور 10 فروری کو یاترا کے لیے وقفہ ہوگا۔ یہ سفر 11 فروری کو دارمودا سے دوبارہ شروع ہوگا۔ یہ یاترا 13 فروری تک ریاست میں رہے گی اور 14 فروری کی دوپہر رامانوج گنج کے راستے اتر پردیش میں داخل ہوگی۔
یواین آئی۔ ظا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
