ہندوستان
روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سےزیادہ تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد : مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سے تقری نامے تقسیم کئے جانے کے موقع پر کہا کہ آج ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقررنامے دیے گئے ہیں۔ آپ نے محنت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں انہوں نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو بارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کی طرف سے نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کی مہم تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پہلے کی حکومتوں میں نوکری کے اشتہار کے اجراء سے لے کر تقرر نامہ جاری کرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ اس تاخیر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دور میں رشوت خوری کا کھیل بھی عروج پر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اب حکومت ہند میں بھرتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت اس بات پر مصر ہے کہ بھرتی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔ اس سے ہر نوجوان کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے یکساں مواقع ملنے لگے ہیں۔ آج ہر نوجوان کے ذہن میں اس بات کا یقین ہے کہ وہ محنت اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ 2014 سے ہماری کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو حکومت ہند سے جوڑیں اور انہیں ملک کی تعمیر میں حصہ دار بنائیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی حکومت نے اپنے 10 برسوں کے دوراقتدار میں سابقہ حکومت نے اپنے پچھلے 10 برسوں کے مقابلے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ سرکاری نوکریاں دی ہیں ۔ آج دہلی میں ایک مربوط تربیتی کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نیا ٹریننگ کمپلیکس ہماری استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کو مزید تقویت دے گا۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ آج حکومت کی کوششوں سے ملک میں نوجوانوں کے لیے نئے نئے شعبے کھل رہے ہیں۔ ان شعبوں میں حکومت کی طرف سے شروع کی گئی نئی مہمات کی وجہ سے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس بجٹ میں ایک کروڑ خاندانوں کے لیے چھت پر شمسی توانائی کی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب چھت پر شمسی پینل لگانے والوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔ ان کا بجلی کا بل صفر ہوگا اور وہ جو اضافی بجلی پیدا کریں گے اس سے آمدنی بھی ہوگی۔ چھت کے اوپر شمسی بجلی لگانے کی اتنی بڑی اسکیم سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کوئی شمسی پینل کا کام کرے گا، کوئی بیٹری سے متعلق کاروبار میں جائے گا، کوئی وائرنگ کا کام سنبھالے گا، اس ایک اسکیم سے کئی سطحوں پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ہندوستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد اب تقریباً 1.25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ان سٹارٹ اپس کی ایک بڑی تعداد چھوٹے ٹائر-2، ٹائر-3 شہروں میں ہو رہی ہے جو کہ ضلعی مراکز بھی نہیں ہیں۔ ان اسٹارٹ اپس میں نوجوانوں کے لیے لاکھوں نوکریاں پیدا کی جارہی ہیں۔ اس بار کے بجٹ میں اسٹارٹ اپس کو دی گئی ٹیکس چھوٹ میں توسیع کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ بجٹ میں تحقیق اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا نیا فنڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آج اس روزگار میلے کے ذریعے ہندوستانی ریلوے میں بھی بھرتیاں ہورہی ہیں۔ جب بھی لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ طویل سفر پر جانا ہوتا ہے، تب ہندوستانی ریلوے عام خاندان کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ انڈین ریلویز آج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔انڈین ریلویز اس دہائی کے آخر تک مکمل طور پر تبدیل ہونے والا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، 2014 سے پہلے ریلوے کی کیا حالت تھی۔ بجلی کی فراہمی ہو یا ریلوے لائنوں کی ڈبلنگ، ٹرینوں کے آپریشن میں بہتری، یا مسافروں کے لیے سہولیات میں اضافہ، سابقہ حکومتوں نے اس پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی کہ دی چاہیے۔ پہلے کی حکومتیں عام ہندوستانی کے مسائل سے لاتعلق تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد ہم نے ریل کے سفر کے پورے تجربے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی مہم شروع کی۔ ہم نے ریلوے کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن پر توجہ دی۔ اس بار آپ نے بجٹ میں بھی دیکھا ہوگا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس جیسی 40 ہزار جدید بوگیاں تیار کرکے انہیں عام ٹرینوں میں شامل کیا جائے گا ۔ اس سے عام مسافروں کا سفر زیادہ آسان ہو جائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب ملک میں کنیکٹوٹی پھیلتی ہے، تو یہ بیک وقت بہت سی چیزوں کو متاثر کرتی ہے۔ بہتر رابطے کے ساتھ نئی منڈیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں اور سیاحتی مقامات تیار ہوتے ہیں۔ بہتر کنیکٹیویٹی نئے کاروبار پیدا کرتی ہے اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اچھے رابطے کا ملک کی ترقی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 11 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے پر اتنا بڑا خرچ سڑک، ریل، ہوائی اڈہ، میٹرو، بجلی جیسے ہر منصوبے کو تیز کرے گا۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج جن نوجوانوں کو تقررنامے ملے ہیں، ان میں سے بڑی تعدادپیرا ملٹری فورس کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ یہ اپنے آپ میں نوجوانوں کی ایک بڑی خواہش ہے جو پوری ہو رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں پیرا ملٹری فورس میں بھرتی کے عمل میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ تحریری امتحان ہندی اور انگریزی کے علاوہ 13 زبانوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ اس سال جنوری سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نے لاکھوں شرکاء کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا ہے۔ سرحد پر واقع اضلاع اور عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کا کوٹہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں ہر سرکاری ملازم کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔ آج ایک لاکھ سے زائد ملازمین جو ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اس سفر کو نئی توانائی اور رفتار دیں گے۔ آپ جس بھی شعبہ میں کام کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا ہر دن ملک کی تعمیر کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ تمام سرکاری ملازمین کی صلاحیت سازی کے لیے حکومت ہند نے کرم یوگی بھارت پورٹل بھی شروع کیا ہے۔ اس پورٹل پر مختلف مضامین سے متعلق 800 سے زیادہ کورسز دستیاب ہیں۔ اب تک 30 لاکھ سے زیادہ صارفین اس پورٹل سے جڑ چکے ہیں۔ آپ سب کو بھی اس پورٹل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے۔
وزیراعظم نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ تقرر نامے حاصل کریں، اپنے روشن مستقبل کی امید رکھیں اور اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر ملک کو کچھ نہ کچھ دے کر آگے بڑھیں۔ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دے کر آگے بڑھیں۔ سمٹر مودی نے ان سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا وار ان کے اہل خانہ کے لیے بھی بہت سی نیک خواہشات پیش کیں ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان2 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
