ہندوستان
سائبر سیکورٹی کے بغیر ملک کی ترقی ناممکن: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سائبر سیکورٹی کو قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر سیکورٹی کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ناممکن ہے مسٹر شاہ نے منگل کو یہاں وگیان بھون میں انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سنٹر (I4 سی ) کے پہلے یوم تاسیس کی تقریب میں سائبرکرائم کی روک تھام کے لیے کئی اہم اقدامات کا آغاز کیا انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے لیے ایک نعمت ہے لیکن ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال بہت سے خطرات کو بھی جنم دے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکورٹی کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ناممکن ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ I4C جیسے پلیٹ فارم اس طرح کے خطرات سے نمٹنے میں بہت بڑا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل آگاہی، ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اکیلا کوئی ایک ادارہ سائبر اسپیس کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور ایک ہی راستے پر آگے بڑھیں۔
وزیر داخلہ نے سائبر فراڈ مٹیگیشن سینٹر کو قوم کے نام وقف کیا اور کوآرڈینیشن پلیٹ فارم (جوائنٹ سائبر کرائم انویسٹی گیشن فیسیلیٹیشن سسٹم) کا آغاز کیا۔ انہوں نے سائبر کمانڈو پروگرام کا افتتاح بھی کیا۔ وزیر داخلہ نے I4C کے نئے لوگو، وژن اور مشن کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، اسپیشل سکریٹری (داخلی سلامتی)، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز اور پولیس کے ڈائرکٹر جنرلز، سینئر پولیس افسران اور اہلکار موجود تھے۔ جس میں کئی سرکاری ادارے بھی شامل تھے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ I4C کا قیام 2015 میں وزیر اعظم کی پہل پر سیکیور سائبر اسپیس مہم کے تحت عمل میں آیا تھا، تب سے یہ مسلسل سائبر سیکیور انڈیا کا ایک مضبوط ستون بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو سال کے سفر میں یہ آئیڈیا ایک پہل اور پھر ایک ادارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں ہر ریاست کے لیے الگ سائبر ‘مشکوک رجسٹری’ رکھنے سے کوئی مقصد حل نہیں ہوگا کیونکہ ریاستوں کی اپنی حدود ہوتی ہیں لیکن سائبر مجرموں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ قومی سطح پر ایک ‘سسپیکٹ رجسٹری’ بنائی جائے اور ریاستوں کو اس سے جوڑ کر سائبر کرائم سے لڑنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنایا جائے۔ اس اقدام سے آنے والے دنوں میں سائبر کرائمز کو روکنے میں ہمیں بہت مدد ملے گی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ آج سے I4C عوامی بیداری مہم بھی شروع کر رہا ہے۔ ملک میں 72 سے زائد ٹی وی چینلز، 190 ریڈیو ایف ایم چینلز، سنیما ہالز اور دیگر کئی پلیٹ فارمز کے ذریعے اس مہم کو تیز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک متاثرین سائبر کرائم سے بچنے کا طریقہ نہیں جانتے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 اور I4C کے دیگر پلیٹ فارمز کے بارے میں بیداری پھیلانے سے اس کی افادیت بڑھے گی اور جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ نے تمام ریاستی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس مہم میں شامل ہوں اور گاؤں اور شہروں میں بیداری پھیلائیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
