جموں و کشمیر
سال 2019کے بعد جموں وکشمیر میں جو کچھ ہوا وہ پی ڈی پی کا بھاجپا کیساتھ ہاتھ ملانے کا نتیجہ ہے: عمر عبداللہ
جموں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں کیونکہ یہاں ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششیں ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل ملک کے وزیر دفاع نے بانہال میں تقریر کی ہم پاکستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن جب نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی کوششوں کا حوالہ دیا تو وزیر داخلہ امیت شاہ صاحب کو وہ راس نہیں آیا اور انہوں نے جموں میں اسی بات پر ہمیں نشانہ بنایا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اب ہوم منسٹر صاحب ٹھیک ہیں یا وزیر دفاع صحیح بول رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ جموں میں کہتے ہیں کہ ہم حریت کیساتھ نہیں بلکہ نوجوانوں کیساتھ بات کریں گے جبکہ دفاع بانہال میں کہتے ہیں کہ ہم نے 2016میں اپوزیشن اراکین پارلیمان کے ذریعے حریت کیساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب خدارا بتایئے کہ بی جے پی کی اصل پالیسی کیا ہے؟ کیا بانہال کیلئے ان کی پالیسی ایک اور جموں کیلئے الگ ہے؟ دونوں چیزیں نہیں ہوسکتی ہیں اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ باتیں جذبات کیساتھ کھیلنے کیلئے کی جارہی ہیں۔
پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کی طرح قلم دوات جماعت کی پالیسی بھی سمجھ نہیں آتی ہے، وہ لوگ آج دوبارہ عوام سے بی جے پی کیخلاف ووٹ مانگ رہے ہیں، کیا یہ وہی نعرہ نہیں ہے جو محبوبہ مفتی کی پارٹی نے2014میں استعمال کیا تھا اور لوگوں سے بی جے پی کو باہر رکھنے کیلئے ووٹ لیکر انتخابی نتائج آنے کے ساتھ ہی ایک بار نہیں بلکہ دو بار بی جے پی کیساتھ حکومت بنائی۔ اور پی ڈی پی نے ہماری غیر مشروط حمایت کے باوجود بی جے پی کیساتھ ہاتھ ملایا جبکہ ہم نے 6سال مکمل طو پر حکومت چلانے کیلئے پی ڈی پی کو پیشکش کی تھی تاکہ بھاجپا کو باہر رکھا جائے۔
انہوں نے کہاکہ اگر آج ہمارا اپناجھنڈا، ہمارا اپنا آئین نہیں ہے، اگر آج ہماری زمینوں پر ہمارا حق نہیں ہے، اگر آج ہمارے دریاﺅں پر ہمارا حق نہیں رہا، اگر آج اس ریاست کے دو ٹکڑے ہوئے ہیں ، تو وہ پی ڈی پی کے اُسی فیصلے کی بدولت ہوئے ہیں۔
پی ڈی پی اور بھاجپا یارانے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ 2019کے بعد بی جے پی نے ہی جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن چھینی، ریاست کے دو ٹکڑے ہیں، اس ریاست کو بے چینی کی نظر کردیا اور لوگوں کو غیر یقینیت کے بھنور میں دھکیل دیا لیکن اس کے باوجود محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی والوں کی تقریروں میں 90فیصد مخالف نیشنل کانفرنس کی ہوتی ہے اور بی جے پی کا برائے نام ذکر ہوتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تار کہیں نہ کہیں آج بھی جڑے ہوئے ہیں۔
کانگریس کے بانہال کی نیشنل کانفرنس کیخلاف تقریر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو ماہ قبل جب میں نے بانہال میں کانگریس کے پارلیمانی اُمیدوار کیلئے مہم چلائی تب تو مذکورہ اُمیدوار نے میری اور نیشنل کانفرنس کی تعریفوں کے پُل باندھے اور آج مخالفت کررہے ہیں، وہ تب سچ کہہ رہے تھے یا اب سچ کہہ رہے ہیں۔ جو کام مذکورہ اُمیدوار بانہال میں گن رہا ہے وہ ہماری مہربانی ہے کہ ہم نے اُسے ان کاموں پر اپنا پتھر لگانے کی اجازت دی نہیں تو بحیثیت وزیر اعلیٰ میں ہر ایک کام کی اپنے ہاتھوں سے شروعات کرتا۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی اُن کاموں کی فائلوں میں میرے دستخط موجود ہونگے، میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ وہ کام کسی اُمیدوار یا کسی جماعت کیلئے نہیں کرائے ، بلکہ یہاں کے عوام کیلئے کئے۔ مجھے اس اُمیدوار کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن جو اُس نے کل ہمارے خلاف مورچہ کھولا ہے اُس کا جواب تو ہمیں ضرور دینا پڑیگا، اس شخص کو پارٹی نے الیکشن بگل بجتے ہی پی سی سی صدر کے عہدے کے لائق نہیں سمجھا اور عہدے سے ہٹا دیا تو بانہال کے عوام کو اس ووٹ کیوں دے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں آرٹیکل 370، 35اے اور خود اختیاری کے حوالوں کے لیے 10 ترامیم پیش
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے سے متعلق قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے پانچ ترامیم حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے پیش کی ہیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خود اختیاری کے حوالے شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے پانچ ارکان اسمبلی جاوید بیگ، تنویر صادق، اعجاز احمد جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کے حوالوں کو قرارداد میں شامل کرنے کے لیے ترامیم پیش کی ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان اسمبلی نے بھی اسی نوعیت کی ترامیم پیش کی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دو ارکان اسمبلی نے بھی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے سے متعلق ترامیم پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے واضح طور پر قرارداد میں خود اختیاری کا مطالبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
پرہ کی ترمیم میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے ساتھ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسمبلی میں اس معاملے پر پی ڈی پی کے موقف میں یہ ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے بھی ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مرکز کو مختلف فورمز پر کیے گئے اپنے وعدوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان ترامیم سے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ایک نیا پہلو شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس قرارداد کو پہلے ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی کی 2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد کے حوالوں پر شدید اختلاف کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد کے حوالے پر عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں آ گئے، نعرے لگائے اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پیر کے لیے جاری سرکاری کارروائی کے ایجنڈے میں وزیر اعلیٰ کی قرارداد کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ایوان میں اس پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پیر کے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ’’25 ستمبر 2026 کو معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث۔‘‘
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
بی جے پی نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی، وقفۂ سوالات متاثر
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی پیر کو اس وقت متاثر ہوگئی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ انہوں نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خود اختیاری کے معاملے پر ایوان نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی پٹھانیا کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو بتایا کہ انہوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی خود اختیاری کے معاملے پر بحث کرکے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا رہی ہے اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے خلاف کام کر رہی ہے۔
پٹھانیا کو جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ بی جے پی رکن نے ان متعلقہ قواعد کی درست تشریح نہیں کی ہے جن کے تحت انہوں نے یہ تحریک پیش کی ہے۔
راتھر نے کہا کہ انہوں نے نوٹس نہیں دیکھا ہے اور قواعد کے مطابق اس تحریک کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا اور 14 دن کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے پر جلد ہی حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور 1953 سے قبل کی صورتِ حال کے حوالوں کو آئین کے منافی قرار دیا۔
2000 میں اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی خود اختیاری کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں وزیر مملکت تھے، اس وقت اس قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا تھا۔
یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب اسپیکر راتھر نے وقفۂ سوالات کی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی کے اعتراضات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس دلیل پر سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ بتانے کے لیے سرحدی صورتِ حال کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی اس یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی اور سوال کیا کہ اب تک ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
چودھری کے بیان کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ بی جے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کردی، جس سے وقفۂ سوالات کے دوران اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں ایل او سی کے قریب سڑک حادثے میں پانچ افراد کی ہلاکت کا خدشہ
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب تنگدھر کے سیماری علاقے میں پیر کو ایک گاڑی گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ اسکارپیو گاڑی سیماری کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی اور گہری کھائی میں جاگری۔
حادثے میں پانچ افراد کے موقع پر ہی ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
ہندوستان1 week agoترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
