تازہ ترین
سرینگرمیں جموں سے زیادہ درجہ حرارت
شدید گرمیکی لپیٹ میں وادی،راحت ملنے کا امکان بہت کم
دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر سطح آب 1.13 فٹ ریکارڈ،پانی کی شدیدقلت پیدا
ضروریات کے مطابق پانی کی سپلائی برقرار،لوگ کورونا بحران کو پانی بحران میں تبدیل نہ کریں:محکمہ آب رسانی
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر ان دونوں شدید گرمی اور حبس کی لپیٹ میں ہے اور یہاں چلنے والی سرد ہوائیں بھی گرم محسوس ہورہی ہے،جس دوران سرینگر میں جموں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت قریب قریب4ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا،کیونکہ سرینگر میں سوموار کوزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7ڈگری سیلسیس جبکہ جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت31.1ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے فوری طور پر راحت ملنے کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 48گھنٹوں کے دوران گرم موسمی صورتحال جوں کی توں رہے گی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی میں ایک جانب جہاں درجہ حرارت میں کافی اضافہ ہوگیا ہے، وہیں درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی پوری وادی میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی۔بڑھتی تمازت کے چلتے پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی حالت ناقابل بیان ہے۔دن کے وقت لوگوں کی چہل پہل میں بھی کمی دیکھنے کوملی۔
ادھرماہرین ِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ عالمی حدت اپنی جگہ لیکن کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے کئی وجوہات ہیں اور مستقبل کے حوالے سے کافی چیلنجز بھی ہیں،جن سے قبل از وقت نمٹنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرموسمیاتی تغیر کے نتیجے میں کشمیر میں بھی موسمی تبدیلی کے واضح اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے ماحولیاتی تواز ن میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے جسکی کئی وجوہات ہیں اور ایک بڑی وجہ جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ ہے جبکہ سرسبز شاداب اراضی کو ’کنکر یٹ جنگل‘میں تبدیل کرنا بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کشمیر میں رہائشی کالینیوں کی تعمیر کیلئے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی تعمیراتی منصوبوں کو مرتب کے دوران ماحولیات کو مد نظر رکھا جارہا ہے۔ماحولیاتی ماہرین نے کہا کہ فطرت میں بے جا انسانی مداخلت سے نہ صرف ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے بلکہ قدرتی آفات پیش آنے کی وجہ بھی بنتی جارہی ہے۔ ماہرین ماحولیات نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر میں مستقبل میں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے دوران ماحولیات کے تحفظ کو ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا تو یہاں طرح طرح کے آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس دوران گرمی کی شدت سے اہلیان کشمیر کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔پانی کی قلت سے لوگوں کو ذہنی کوفت کا سامنا ہے جبکہ کسان اور کاشتکار بھی متفکر نظر آرہے ہیں۔
اس دوران محکمہ ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ جموں وکشمیر نے مفاد عامہ میں انتہائی اہم نوٹس جاری کی ہے،جس کا عنوان ”کورونا وائرس بحران کو پانی بحران میں تبدیل نہ کریں‘‘ رکھا گیا ہے۔محکمہ نے اپنی نوٹس میں لوگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ’20 سکینڈ‘ تک اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھونے کے ساتھ ہی ساتھ نوٹس میں یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ20سیکنڈ تک نل کوکھلا نہ رکھیں۔نوٹس کے مطابق 20سیکنڈ کے دوران نل بند رکھنے سے 2لیٹر پانی کو بچایا جاسکتا ہے اور 5افراد پر مشتمل ایک کنبہ روزانہ 100لیٹر پانی کو بچا سکتا ہے۔
نوٹس میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ذمہ دار شہری بنیں اور پانی کو بچاکر اپنے قوم کی خدمت کریں۔اس کے علاوہ محکمہ نے اپنی نوٹس میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پانی سے متعلق اپنی شکایات قائم کئے گئے کنٹرول رومزکے فون نمبرات (کشمیر:0194-2477207،جموں:9419186479اور ٹول فری نمبر:18001807045)پر درج کرا سکتے ہیں۔محکمہ آب رسانی کے چیف انجینئر افٹخار احمد کا کہنا ہے کہ خشک سالی یا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالوں میں سطح آب کافی کم ہوگی ہے،جسکی وجہ سے پانی کی سپلائی فراہم کرنے میں محکمہ کو مشکلات کا سامنا ہے،تاہم شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ضرورت کے مطابق پانی کی سپلائی کی جارہی ہے اور شدید قلت والے علاقوں میں اس ضرورت کو پانی کے ٹینکروں کے ذریعے بھی پورا کیا جارہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ پانی کی سپلائی ضرور متاثر ہورہی ہے،تاہم بحرانی صورتحال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ’لوگ اگر پانی کا صحیح استعمال کریں گے،تو پانی کی سپلائی بغیر کسی خلل کے مہیا کی جاسکتی ہے،لیکن عام لوگوں کو پانی کے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے ذمہ دار بننا ہوگا‘۔محکمہ اری گیشن فلڈ کا کہنا ہے کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالوں میں سطح آب میں مسلسل گراؤٹ درج کی جارہی ہے۔حکام کے مطابق دریائے جہلم میں 17اگست کی صبح9تک سطح آب سنگم کے مقام پر1.13فٹ تھی جبکہ رام منشی باغ کے مقام پر یہ سطح3.11فٹ اور عشہم کے مقام پر2.56فٹ ریکارڈ کی گئی۔
دریائے جہلم کے تینوں پیمائشی مقامات پر سطح آب مسلسل کم ہورہی ہے۔یاد رہے کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کے دوران دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر سطح آب تاریخ کی بلند ترین سطح 34.70فٹ درج کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل1992میں اسی مقام پر سطح آب 32.60فٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔
محکمہ موسمیات نے درجہ حرارت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے سنیچر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت سرینگر میں 34.4درج کیا گیا،قاضی گنڈ میں 32.1،پہلگام میں 28.8،مظفر آباد میں 34.7،جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.5ڈگری سیلسیس درج کیا گیا،بانہال میں 31.6اور بٹوت میں 28.5ڈگری درج کیا گیا۔تاریخ میں یہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ سرینگر اور جموں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت قریب قریب یکسا ں درج کیا گیا۔سرینگر میں اتوار کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.3ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں 32.1، پہلگام میں 30.1ڈگری، کپوارہ میں 35.8، کوکرناگ میں 31.9ڈگری،گلمرگ میں 26.6ڈگری،جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت حیرت انگیز طور پر کشمیر سے کم درج کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.7ڈگری درج کیا گیا۔بانہال میں 31.6ڈگری سلسیس اور بتوٹ میں 28.0ڈگری سیلسیس کیا گیا تھا۔سوموار کو سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں 31.9، پہلگام میں 30.4ڈگری، کپوارہ میں 36.7، کوکرناگ میں 32.0ڈگری،گلمرگ میں 26.2ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت32.1ڈگری درج کیا گیا۔بانہال میں 31.4ڈگری سلسیس اور بتوٹ میں 28.0ڈگری سیلسیس کیا۔
دنیا
ٹرمپ کا دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ”ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”یہ دلچسپ ہوگا، ہے نا؟ لیکن میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”
ٹرمپ 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے ”بہت اچھے تعلقات” ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو کوئی ”رعایت” نہیں سمجھتے اور اگر اس سے امریکی قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق، پیر کو پیانگ یانگ کے علاقے سے داغا گیا ایک میزائل 900 کلومیٹر (559 میل) سے زیادہ فاصلے تک گیا۔ فوج نے میزائلوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔
جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ کم از کم دو میزائل 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر جا گرے۔
ان کے مطابق، پہلے میزائل نے تقریباً 220 کلومیٹر (137 میل) جبکہ دوسرے نے 910 کلومیٹر (565 میل) سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ کویاری نے دوسرے میزائل کے غیر معمولی پروازی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ ہائپرسونک ہتھیار ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور پیانگ یانگ سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ رواں سال کے اواخر میں کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ وہ ذاتی سفارت کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جس کے تحت ان کی پہلی مدتِ صدارت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین براہِ راست ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو چائے پر بلایا، طے کریں گے آگے کی حکمت عملی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو منگل کی شام چار بجے چائے پر مدعو کیا ہے۔ اس میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو آگے بڑھانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
مسٹر گاندھی کی رہائش گاہ 5 سنہری باغ میں ‘ہائی ٹی’ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اتحاد کے آئندہ کے پروگراموں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاج کی اگلی حکمت عملی پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا اتحاد پچھلے کچھ دنوں سے ووٹر فہرستوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کر رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے ان مسائل پر پیر کے روز بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک نکالے گئے مارچ کی کامیابی کے لیے کل دیر رات اس میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ اتحاد کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔
کانگریس رہنما کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس چائے پارٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تال میل، آئندہ کے پروگراموں اور ان مسائل پر احتجاج کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
