تازہ ترین
عمر عبداللہ نے ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا، جامع ترقی، مالی نظم و ضبط اور عوامی بہبود کو ترجیح
موں، جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز مالی سال 2026-27 کے لئے ایک لاکھ 27 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جسے انہوں نے جامع، دیرپا اور عوامی مرکزیت پر مبنی ترقی کا خاکہ قرار دیا۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ صرف اعداد کا مجموعہ نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر کی مالی، معاشی اور سماجی سمت کا تعین کرنے والا ایک مؤثر فریم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جدید، سرمایہ کاری دوست اور شفاف طرز حکمرانی کے ذریعے ریاست کو ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم خطے میں تبدیل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
بجٹ پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مجموعی آمدنی اور مجموعی اخراجات دونوں کا تخمینہ ایک لاکھ 27 ہزار 767 کروڑ روپے بتایا، جس میں 14 ہزار کروڑ روپے کے طریقۂ محاصل ایڈوانس اور اوور ڈرافٹ شامل ہیں۔ خالص بجٹ تخمینہ ایک لاکھ 13 ہزار 767 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں 80 ہزار 640 کروڑ روپے ریونیو اخراجات کے لئے اور 33 ہزار 127 کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کے مطابق مجموعی ریونیو وصولی 90 ہزار 18 کروڑ روپے متوقع ہے، جب کہ 23 ہزار 749 کروڑ روپے کیپٹل ریسیپٹس ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے اپنے محصولات، جن میں ٹیکس اور نان ٹیکس دونوں شامل ہیں، 31 ہزار 800 کروڑ روپے اندازے میں رکھے گئے ہیں۔ مرکز کی جانب سے خصوصی امداد اور دوسری مالی معاونت ملا کر 42 ہزار 752 کروڑ روپے کی گرانٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ مرکزی اسکیموں کے تحت 13 ہزار 400 کروڑ روپے ملیں گے۔ انہوں نے بجٹ میں مالی نظم و ضبط کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 2026-27 میں 6.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مالی خسارے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں یہ 2.98 فیصد رہا جو 2024-25 کے 5.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے، تاہم 2026-27 میں یہ 3.69 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ سال 2025-26 کے لئے ریاستی جی ڈی پی دو لاکھ 88 ہزار 422 کروڑ روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ سال کے لئے تین لاکھ 15 ہزار 822 کروڑ روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برس مختلف چیلنجوں، جیسے جیو پولیٹیکل صورتحال، پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ اور جموں کے کچھ علاقوں میں سیلاب نے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا، جس کا اثر سیاحت، باغبانی، ہنر و حرفت اور زراعت سمیت ہر شعبے پر پڑا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لئے پاور سیکٹر میں اصلاحات کر رہی ہے۔ صارفین کی تعداد میں اضافہ، بجلی کی ترسیل میں اصلاحات اور نقصانات میں کمی کے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مسلسل تیسرے سال کفایت شعاری اقدامات نافذ کر رہی ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات روکے جا سکیں۔ انہوں نے مرکز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی معاونت اسکیم کے تحت انفراسٹرکچر، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے کاموں کے لئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں متعدد فلاحی اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کے طلبہ کے لئے نویں جماعت سے لے کر کالج تک مکمل فیس معافی دی جائے گی۔ کمزور طبقے کے گھروں کو ایک سال میں چھ ایل پی جی سلنڈر مفت فراہم کئے جائیں گے۔ یتیم بچوں کے لئے ماہانہ مالی مدد، قبائلی طلبہ کے لئے وظائف اور معذور افراد کو سرکاری ٹرانسپورٹ میں مفت سفر کی سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں بھی بڑے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سیب، زعفران، آم اور لیچی کی فصلوں کے لئے فصل بیمہ، اسٹوریج کی توسیع، اسپرنکلر اور مائیکرو ایریگیشن کا فروغ اور طبی پودوں کی کاشت شامل ہیں۔
تعلیم کے میدان میں حکومت نے ’جے کے ای پاتھ شالا‘ کے تحت پہلی سے بارہویں جماعت تک ڈی ٹی ایچ چینل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آنگن واڑی مراکز کی جدید کاری، سرکاری اسکولوں میں انڈور اسپورٹس سہولیات اور صنعتوں میں مقامی نوجوانوں کی ترجیحی بھرتی بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ عوامی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے جس میں منتخب نمائندوں، صنعتی رہنماؤں اور تمام اسٹیک ہولڈروں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
اپنی تقریر کے اختتام پر عمر عبداللہ نے ایوان کے تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت رکاوٹوں کو مواقع میں تبدیل کرنے اور ریاست کو ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کے لئے امید، استحکام اور ترقی کا نیا دروازہ کھولتا ہے، جو مستقبل کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
